• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

‏کرکٹ اور ہاکی کے قومی کھلاڑی بہن بھائی احسان عادل اور افشاں نورین

‏احسان عادل نے کرکٹ جبکہ افشاں نورین نے ہاکی میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے، یہ بہن بھائی اس لحاظ سے خوش قسمت نہیں ہیں کہ وہ تسلسل کے ساتھ پاکستان کی جانب سے نہیں کھیل سکے لیکن دونوں نے ہمت نہیں ہاری،  وہ ایک دوسرے کی ہمت بڑھاتے ہیں اور پُرعزم ہیں کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کی جانب سے ایکشن میں ہوں گے۔

‏عید کے موقع پر بہن بھائی قومی کھلاڑیوں سے جیو نیوز کے لیے گفتگو کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ یہی ہے کہ پاکستان کی جانب سے زیادہ سے زیادہ کھیلنا ہے۔

‏تین ٹیسٹ اور چھ ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے احسان عادل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیرئیر سے مطمئن نہیں ہیں، انہیں مزید کھیلنا چاہیے تھا اور مسلسل کھیلنا چاہیے تھا لیکن میں اب بھی کوشش کر رہا ہوں، ہمت نہیں ہاری، میں ضرور کم بیک کروں گا اور مزید کھیلنے کی خواہش پوری ہوگی۔

‏احسان عادل نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں میری پرفارمنس بہت اچھی جا رہی ہے، سو فیصد پرفارم کرنے کے لیے محنت کرتا ہوں، مجھے آغاز میں فٹنس کا ایشو رہا ہے لیکن بعد میں بہت کام کیا، جب مجھے ڈراپ کیا گیا تب تو مجھے فٹنس کا کوئی ایشو بھی نہیں تھا، مجھے کبھی پتہ نہیں چلا کہ مجھے دوبارہ موقع کیوں نہیں دیا گیا۔

احسان عادل نے کہا کہ بہن افشاں نورین کے ساتھ کھیل پر گفتگو ہوتی رہتی ہیں، مستقبل کے پلان اور فٹنس کو برقرار رکھنے پر بات کرتے ہیں، کوشش یہی ہوتی ہے کہ ایک دوسرے کو متحرک رکھیں۔

‏انٹر نیشنل ہاکی پلئیر افشاں نورین کا کہنا ہے کہ مجھے دُکھ ہے کہ بھائی کو مسلسل موقع نہیں دیا گیا، یہ درست ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہیے لیکن جو پہلے ملک کی نمائندگی کرچکے ہیں اور فارم یا فٹنس کی وجہ سے باہر ہوئے ہیں انہیں بھی موقع دینا چاہیے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ نظر انداز کریں اور بھول جائیں، بھائی بہت محنت کر رہا ہے اور کم بیک کرے گا۔

‏عید پر گفتگو کرتے ہوئے بہن بھائیوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے عید گھر پر گزر رہی ہے، احسان عادل نے کہا کہ وہ ہمیشہ عید پر اپنے آبائی گھر گوجرہ چلے جاتے تھے لیکن اس مرتبہ گھر والوں کے ساتھ عید گزر رہی ہے اور گھر والے خوش ہیں۔

افشاں نورین نے کہا کہ دکھ اس بات کا ہے کہ چاند رات پر سہیلیوں کے ساتھ شاپنگ نہیں کی لیکن ہمیں خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایس او پیر پر عمل کرنا چاہیے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید