• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماحولیاتی تبدیلی کیخلاف کاروباری ادارے کیا کرسکتے ہیں؟

بیک وقت دنیا کے 23ملکوں میں ہونے والے ایک سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ ان ملکوں میں اوسطاً 67فی صد نوجوان ماحولیاتی تبدیلی کو دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ اور انسانیت کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران، امریکا میں رہنے والے ایسے افراد کی تعداد میں تین گُنا اضافہ ہوگیا ہے، جو ماحولیاتی تبدیلی کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ مزید برآں، ’جنریشن زیڈ‘سے تعلق رکھنے والے نوعمر افراد اب کھُل کر ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے پر اپنی آواز اُٹھا رہے ہیں اور پالیسی سازوں کو بتارہے ہیں کہ انھیں کیا کرنا چاہیے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے کے خلاف عمومی رائے عامہ کے باوجود، لوگ غیریقینی کا شکار ہیں کہ وہ انفرادی طور پر اس مسئلے کے خلاف کیا کرسکتے ہیں اور ان کے اقدامات کا کیا اثر ہوگا۔

کاربن اخراج میں کمی اور کاربن جذب کرنے کی کوششوں کو بڑھانے کے لیے حکومتوں اور کاروباری اداروں کو فطری طریقوں پر مبنی حل اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ بڑے پیمانے پر خود کو ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف کی جانے والے عالمی کوششوں کا حصہ سمجھیں۔ خصوصی طور پر، کاروباری اداروں کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانا، دو وجوہات کے باعث اہم بن جاتا ہے۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ، نوجوان نسل کاروباری اداروں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ 28ملکوں میں ہونے والے ایک حالیہ سروے میں کاروباری اداروں کو سب سے زیادہ قابلِ بھروسہ قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ ان کا اعلیٰ اخلاقیاتی معیار اور قابلیت کا پَرچار اور ان پر عمل درآمد کرنا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ 90فی صد ملینئل اور جنریشن زیڈ سے تعلق رکھنے والے افراد سمجھتے ہیں کہ دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کاروباری اداروں پر ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ، کاروباری اداروں کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات ان پر بوجھ نہیں بن رہے۔ اس کے برعکس، ایک سروے میں کاروباری اداروں نے اعتراف کیا ہے کہ، پائیدار کاروباری طریقے ان کی آمدنی میں اضافہ کا باعث بنے ہیں۔ نیز، چند ایک نمایاں بین الاقوامی کاروباری اداروں کو چھوڑ کر، اگر باقی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کاربن اخراج میں کمی کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں، چاہے وہ کاربن اخراج میں کمی ہو یا کاربن جذب کرنے کے اقدامات ہوں۔

کاروباری اداروں کے لیے یہ ایک اچھا آغاز ثابت ہوسکتا ہے لیکن ان کوششوں کے ممکنہ بہترین نتائج اسی وقت حاصل ہوں گے، جب وہ لوگوں کو انفرادی سطح پر ان کوششوں کا حصہ بنائیں گے۔ مستقبل بین کاروباری ادارے اب صرف یہ نہیں سوچ رہے کہ انھوں نے کاربن اخراج کس طرح کم کرنا ہے بلکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنے صارفین اور ملازمین کو ان کوششوں کا کس طرح حصہ بناسکتے ہیں تاکہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف بڑے پیمانے پر اقدامات لیے جاسکیں۔ ایسی کمپنیوں میں گوگل سرِفہرست ہے، جس نےبڑے پیمانے پر کاربن اخراج کم کرنے کے لیے 2022ء تک ایک ارب لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا عزم کیا ہے۔

کاروباروں اداروں کے لیے، لوگوں کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف کام کرنے کا ایک راستہ فطری حل (نیچر بیسڈ سلوشنز) تلاش کرنا ہے، جیسے جنگلات کا تحفظ اور نئے درخت لگانا۔ امریکا میں پیئو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ سروے میں 90فی صد نوجوانوں نےایک ٹریلین درخت لگانے کی مہم کی حمایت کی ہے۔ اس سروے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر پسند، ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر امریکی نوجوان، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف حکومتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

جنگلات کی بحالی کی کوششیں اپنے اندر بڑی کشش رکھتی ہیں اور ان کا اطلاق بآسانی دنیا کے ہر خطے میں ہوسکتا ہے اور جنگلات کی بحالی سے انسانوں کے ذاتی کاربن اخراج کے اثرات ایک تہائی سے لے کر ایک چھٹائی تک کم ہوسکتے ہیں۔ بلاشبہ، جنگلات کاربن جذب کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ ایک بڑا درخت تقریباً 24کلوگرام فی سال کاربن جذب کرتا ہے۔ صرف یہی نہیں، جنگلات زمین کے کٹاؤ کو روکتے، حیاتی نظام میں تنوع کا تحفظ کرتے اور مقامی آبادی کو روزگار کے ذرائع فراہم کرتے ہیں۔

البتہ، اتنی زیادہ دلچسپی کے باوجود، معیار اتنا بلند ہے کہ لوگوں کو انفرادی طور پر ان کوششوں میں شامل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ انفرادی طور پر یہ کوششیں اسی وقت بارآور ثابت ہوں گی جب یہ آسان، آٹومیٹڈ، اور کم لاگت ہونے کے ساتھ ساتھ واضح طور پر ابلاغ کی حامل ہوں گی اور ان کی کامیابی کو ناپا جاسکے گا۔

کچھ کامیابیاں ہمارے سامنے ہیں، جن سے کچھ نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً، بڑے پیمانے پر صارف رویوں کی نشاندہی کریں اور اس میں ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف خود کار اور براہِ راست ہدف کو شامل کریں۔ اس سلسلے میں سرچ انجن ’’ایکوشیا‘‘ نے ایک زبردست مہم کا آغاز کیا ہے۔ یہ ویب سرچ انجن، ہر 45سرچز پر ایک نیا درخت لگانے کے لیے فنڈنگ کرتی ہے جس کے نتیجے میں اس فنڈنگ کی مدد سے اب تک 120ملین نئے درخت لگائے جاچکے ہیں۔

دورِ جدید میں صارفین ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کا استعمال بھی بڑے پیمانے پر کرتے ہیں۔’’ایسپریشن‘‘ نے ’’پلانٹ یور چینج‘‘ نامی ٹیکنالوجی بنائی ہے، جس کا استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی شخص اپنے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر بچ جانے والے چند سکّوں کو خود کار نظام کے تحت درخت لگانے کی مہم میں ڈال سکتا ہے۔ ایک سال سے کم عرصہ قبل محدود پیمانے پر شروع کیے جانے والے اس پروگرام سے اب تک 40لاکھ درخت لگائے جاچکے ہیں۔ یہ اعدادوشمار صرف امریکا تک محدود ہیں، جہاں ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے سالانہ 115ارب ڈالر کی لین دین ہوتی ہے، جہاں ہر ٹرانزیکشن سے بچ جانے والے چند سینٹ جمع کرکے درخت لگانے کے لیے سرمایہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

اس طرح کے اقدامات آسان، کم خرچ اور مؤثر ہونے کے علاوہ انفرادی صارف کو واضح طور پر یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس کی ایک چھوٹی سی معمولی امداد نے نئے درخت لگانے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ جو صارف یہ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، ان کے اکاؤنٹ میں اس مہم کا ایک علیحدہ ڈیش بورڈ دیا گیا ہے، جہاں وہ اپنی رقوم سے کی جانے والی شجرکاری کی پیشرفت پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ اس طرح کے انفرادی پروگراموں کے ذریعے آسان اور مؤثر انداز میں یہ ممکن بنایا گیا ہے کہ ایک انفرادی اور چھوٹی سی کوشش کس طرح بڑے پیمانے پر عالمی مہم میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے دنیا پریشان ہے۔ زمینی حقائق بھیانک صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ایسے مؤثر سلوشنز تخلیق کیے جارہے ہیں، جن کا صارفین انفرادی طور بآسانی حصہ بن سکتے ہیں، جیسے بڑے پیمانے پر شجرکاری کی مہم۔ چونکہ، ماحولیاتی تبدیلی کا فطری حل ایک طویل مدتی منصوبہ ہے، اس لیے کاروباری اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ابھی آغاز کریں تاکہ اس دہائی کے آخر تک ان کوششوں کے نتائج دیکھے جاسکیں۔ کاروباری اداروں کو چاہیے کہ وہ آج ہی اپنے صارفین کو انفرادی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مہم کا حصہ بنائیں اور زمین کو تباہ ہونے سے بچائیں۔

کامرس سے مزید