• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیر جو گوٹھ صوبہ سندھ کاتاریخی قصبہ ہے جو پیر پگارا کا آبائی گاؤں ہے ۔یہ تعلقہ کنگری کا صدر مقام ہے، جو ضلع خیرپور میں واقع ہے۔ تاریخی ،علمی اور راشدی خاندان کی نسبت کی وجہ سے اس گاؤں کو روحانی حیثیت بھی حاصل ہے۔یہ قصبہ خیر پور میرس سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پیر جو گوٹھ میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے علاوہ 2 مندر بھی واقع ہیں، ایک شہر میں دوسرا شہر سے باہر محلہ اناج منڈی کے نزدیک ۔قصبے میں۔ یہاں ہندو، سادات، میمن، منگنیجواور دیگر ،برادریاں مل جل کے رہتی ہیں۔

پیر جو گوٹھ کو پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کے جدامجد نے آباد کیا تھااس لیے اسے ”شاہ جو گوٹھ“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس گاؤں کے راشدی پیر، مشہور حکیم گزرے ہیںاور طب کے حوالے سے اس گاؤں کو ”چھوٹا یونان“ بھی کہا جاتا ہے۔درگاہ شریف روڈ پرایک بڑا بازار ہے جسے شاہی بازارکا نام دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صرافہ بازار، لوہار بازار اہم تجارتی مراکز ہیں۔ قصبے میں متعدد تعلیمی مراکز قائم ہیں اور سرکاری کالجز و اسکولوں کےعلاوہ نجی شعبے نے بھی تدریسی ادارے قائم کیے ہیں ۔

اس قصبے میں جامعہ راشدیہ کے نام سے ایک عظیم الشان دینی درس گاہ بھی قائم ہے، جس کا شمارسندھ کی چند بڑے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔امام اہلسنت شاہ احمد رضا خان بريلوی کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے جیدعالم دین مولانا تقدس علی خان بريلوی اس درس گاہ سےزندگی کی آخری ایام تک منسلک رہے اور اُن کا وصال بھی یہیں ہوا۔ مفتی اعظم محمد صاحب دادد خان جمالی اور مفتی محمد رحیم سکندری اس کے اساتذہ میں شمار کیے جاتے ہیں۔اس درس گاہ کی بنیاد، شيخ الاسلام، سيد محمد راشد شاہ نے رکھی تھی اور یہ انہی کے نام سے موسوم ہے۔

سید محمد راشد شاہ ،راشدی خاندان کے مورث اعلی اورسید علی مکیؒکی اولادوں میں سے ہیں۔ سید علی مکی، اکابرین شیوخ اور اولیائے کبار میں سے تھے۔چوتھی صدی ہجری میں سید علی مکی،تقریباً ایک سو رفقاء ومعتقدین کے ساتھ کاظمین شریف سے ہجرت کرکے تبلیغ اور اشاعت اسلام کے لیے سندھ میں تشریف لائے ۔سیوستان ضلع دادو میں ’’بھگے ٹھوڑے‘‘ نامی پہاڑی کے دامن میں دریا کے کنارے ایک پر فضا و پرسکون وادی میں سکونت اختیار کی۔ یہ گاؤں آگے چل کر سید علی مکی کے نام سے ’’ مک علوی‘‘ کے نام سے مشہور ہوا اور ان کی اولاد کو لکیاری سادات کہا گیا۔

اس خاندان میں سے ’’ لکی شاہ صدر ‘‘ در گاہ شریف پیر گوٹھ (ضلع خیر پور) اور ’’ ’’گوٹھ پیر جھنڈا‘‘ (ضلع حید رآباد) علمی وروحانی لحاظ سے بہت اہمیت کے حامل رہے ہیں ۔ راشدی خاندان کے مورث اعلیٰ ،سید خدا بخش شاہ عرف کھٹن شاہتھے۔ان کی پانچویں نسل میں سید محمد بقا شاہ شہید رحمہ اللہ انتہائی اعلیٰ درجہ کے صالح اور نیک سیرت انسان تھے آپ کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ آپ عمومی طور پر زمین پر بیٹھے تھے جس کے سبب آپ کے مرید اور معتقدین آپ کو ’’پٹ والے‘‘ یا ’’پٹ دھنی ‘‘کے نام سے یاد کرتے تھے۔ آپ کا خاندان اس زمانے میں گوٹھ رحیم ڈنہ کلھوڑ ضلع خیر پورمیں آباد تھا۔ اس گوٹھ کو اب پرانی درگاہ کہتے ہیں۔ سید پیر علی گوہر شاہ راشدی کے دور میں اس گوٹھ کو دریا کی طغیانی سے خطرہ پیدا ہوگیا تھااس لیے ان کے خاندان نے وہاں سے نقل مکانی کرکے موجودہ پیرجو گوٹھ میں اقامت اختیار کرلی جسے اب نئی درگاہ کہتے ہیں۔

سید محمد راشد شاہ رحمۃ اللہ جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے پسماندگان میں دوبیٹے تھے ۔ایک سید صبغت اللہ شاہ اور دوسرے سید محمد یاسین شاہ رحمہ اللہ ۔ اولاد نرینہ کے علاوہ انہوں نے دو نشانیاںچھوڑیں جن میں سے ایک پگڑی اور دوسرا جھنڈاتھا۔ یہ دونوں نشانیاں، افغانستان کے بادشاہ تیمور شاہ کے بیٹے زمان شاہ نے آپ کوسندھ میں دینی خدمات اوراسلام کی تبلیغ اشاعت کے لیےخدمات پر پیش کی تھیں۔ 

سید راشد شاہ کی وفات کے بعد، ان کے عقیدت مندوں نے فیصلہ کیا کہ پگڑی سید صبغت اللہ شاہ کے سر پر باندھ دی جائے اور جھنڈا سید محمد یاسین شاہ کے سپرد کیا جائے ۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور پھر یہ خاندان دو حصوں میںمنقسم ہوگیا،ایک کی اولاد کو پیر پگاڑاکہا جانے لگا جب کے دوسرے کی پیر جھنڈا (صاحب عَلم ) کہلائی ۔

پیر صبغت اللہ شاہ راشدی سندھ کی عظیم روحانی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ پیر جو گوٹھ سے ان کا دیرینہ تعلق تھا۔وہ اپنے دور کے عالم باعمل تھے، وہ ایک بڑے کتب خانہ کے بھی مالک تھے جس میں نادر ونایاب کتابیں موجود تھیں۔وہ عالم ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب سیف بھی تھے۔وہ سید احمد شہید و شاہ اسماعیل شہید جیسے مجاہدین کے ہم مسلک ورفیق خاص اوران کی جہادی تحریک کے معاون اور اہم رکن تھے۔

سندھ میں انہوں نے دشمنان اسلام سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنے مریدین پر مشتمل لشکر تیار کیا تھا، جسے مقامی زبان میں ’’حر‘‘ کا لقب دیا گیاہے، اس لیے وہ حروں کے روحانی پیشوا بھی ہیں اور یہ سلسلہ آج تک چلا آرہا ہے۔