• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کا خطہ حسن و جمال اور قدرتی مناظر سے مالامال ہے۔ صحرائے تھر، کیرتھر کی پہاڑیاں، اباسین دریا، ندیاں، قدرتی چشمے، آبشاریں، ہل اسٹیشن کے علاوہ چھ خوب صورت جھیلیں بھی وادی مہران کے حسن کو دوبالاکرتی ہیں۔ آپ نے اب تک کینجھر اور منچھر جھیل کا نام سنا ہوگا، بلکہ بیشتر افراد وہاں سیر کے لیے بھی گئے ہوں گے۔ لیکن آج ہم آپ کو سندھ کی ان جھیلوں کے بارے میں بتاتے ہیں جوآج بھی آپ کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔

بقار جھیل

بقار جھیل کا شمار سندھ کی دل فریب مناظر والی جھیلوں میں ہوتا ہے جہاں ملک کے مختلف شہروں سے لوگ تفریح کی غرض سے آتے ہیں۔ بقار جھیل سانگھڑ سے تقریباً 23 کلو میٹر مغرب کی جانب واقع ہے۔ کسی زمانے میں مکھی کے جنگلات سے قربت کی وجہ سےاسے ’’مکھی جھیل ‘‘ کہا جاتا تھا۔

یہ جھیل ماضی میں ڈاکوؤں کی کمیں گاہ بھی رہی ہے، جب کہ انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے، حر مجاہدین اسے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے رہے ۔ یہ جھیل 80 کلو میٹر کے طویل رقبے پر پھیلی ہوئی ہےاور بعض مقامات پر اس کی گہرائی 60فٹ ہے ۔

جھیل کے چاروں طرف مچھیرے آباد ہیں جن کا ذریعہ روزگارماہی گیری پر منحصر ہے۔ جب کہ کچھ لوگ کاشت کاری کے پیشے سے بھی وابستہ ہیں۔کسی زمانے میں یہاں پانچ کلو تک کی مچھلیاں جال میں پھنستی تھی اور مچھیرے انہیں پکڑ کر سانگھڑ ، حیدرآباد اور کراچی میں فروخت کرتے تھے۔ لیکن اب شکار کم ہوگیا ہے کیونکہ جھیل میں نارا کینال سے پانی کی آمد کم ہوگئی ہے جب کہ ، بارشیں بھی نہیں ہو رہیں ۔ چوٹیاری ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے اس میں پانی کی قلت ہوگئی ہے۔

یہاں محکمہ آب پاشی کا ایک ریسٹ ہاؤس بھی بنا ہوا ہےجہاں تفریح کی غرض سے آنے والے افراد قیام کرتے ہیں۔ بقار جھیل میں پانی پہنچانے کے لیے دس دروازوں کا ایک ریگولیٹر بنا ہوا ہے، جسے چلانے کے لیے محکمہ آبپاشی کا ایک دفتر بھی تھا، جو ویران پڑا ہے۔ 

سردیوں کے موسم میں سرد ممالک سے پرندے ہجرت کرکےبقار جھیل پر آکر بسیرا کرتے ہیں ۔ چند برس قبل تک یہ پرندے جھیل کی سطح آب پر جھنڈ کی صورت میں تیرتے ہوئے نظرآتے تھے، لیکن مچھلی کی نایابی کے بعد مقامی لوگوں اور تفریح کی غرض سے آنے والے افراد نے ان کا شکار کرنا شرو ع کردیا، جس کے نتیجے میں اب یہ پرندے جھیل کی تہہ میں چلے گئے ہیں۔

حمل جھیل

حمل جھیل ،سندھ کے ضلع شہداد کوٹ میں واقع ہے۔ یہ جھیل لاڑکانہ سے58 کلومیٹر اور قمبر شہر سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی لمبائی 25 کلومیٹر اور چوڑائی 10 کلومیٹر ہے جب کہ یہ 2965 ایکڑ رقبے پرپھیلی ہوئی ہے۔ یہ میٹھے پانی کی قدرتی جھیل ہے۔ کیر تھر سے بہہ کر آنے والے مختلف ندی نالے اس جھیل کے ذخیرہ آب کا منبع ہیں۔ اس کے گردو نواح میں حسین مناظر پھیلے ہوئے ہیں۔

یہ مچھلیوں کی افزائش گاہ ہونے کے علاوہ آبی پرندوں کا مسکن ہے ۔ سائبیریا سے بھی یخ بستہ ہواؤں کے ستائےہوئے پرندے ہجرت کرکے یہاں آتے ہیں۔ سطح آب پر بطخیں، راج ہنس، مرغابی بگلے، فلیمنگو اور مچھلیوں کے شکاری پرندے تیرتے ہوئے انتہائی بھلے لگتے ہیں۔ لیکن سیم نالے کے کھارے پانی کی جھیل میں آمد کے بعد یہ جھیل آلودگی کا شکار ہے اور اس کی جنگلی اور آبی حیات اس سے شدید متاثر ہورہی ہے۔

ڈرگ جھیل

ڈرگ جھیل بھی شہدادکوٹ میں واقع ہے۔ یہ لاڑکانہ شہر سے 29 کلومیٹر اور قمبر شہر سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ڈرگ ،میٹھے پانی کی جھیل ہے اور یہ 2965 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ کیر تھر سے بہہ کر آنے والے مختلف ندی نالے اس جھیل کے بننے کا سبب بنتے ہیں۔

ڈرگ جھیل بے شمار پرندوں کا مسکن ہے اور سردیوں میں یہاں سائیبریا سے بھی مہاجر پرندے سردیاں گزارنے آتے ہیں۔ اس جھیل کو 1972ء میں پرندوں کے لیے محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔ یہاں سیاحوں کے قیام کے لیے ایک اقامت گاہ بھی واقع ہے۔

ہڈیری جھیل

یہ جھیل ٹھٹہ شہر کے شمال مغرب میں 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔جو آبی پرندوں کا مسکن ہے ۔ محکمہ جنگلی حیات کی کی طرف سے اسے پرندوں کے لیے محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔سائبریا کے سخت سر موسم سے گھبرا کر بے شمار آبی پرندے ہجرت کرکے اس جھیل پر سکونت اختیار کرتے ہیں۔