• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس وقت سندھ اور پنجاب میں پانی کی تقسیم کے مسئلے پر ٹھنی ہوئی ہے۔صوبہ سندھ کا الزام ہے کہ صوبہ پنجاب نے اس کے حصّےکا پانی چوری کرلیا ہےلہذا اسے مقرّرہ کوٹے سےکم پانی ملا ہے۔ صوبہ پنجاب یہ الزام غلط قرار دیتاہے اور کہتا ہے کہ سندھ میں داخل ہونے کے بعد پانی کی بڑی مقدار چوری کرلی جاتی ہے۔

یہ تو تھی حال کی بات،لیکن ہمارا ماضی بھی ایسے الزامات اور جوابی الزامات سے بھرا پڑا ہے۔یہ مئی 2018 کی بات ہےجب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے نثار کھوڑو نے حیدرآباد میں پریس کانفرنس کی جس میں وہ پنجاب پر برستے ہوئے الزام عاید کرتے رہے کہ وہ 1991ء کے آبی معاہدے کے تحت سندھ کو ملنے والا پانی چوری کر رہا ہے۔ انہوں نے بالائی صوبے کو خبردار کیا تھاکہ اگر اس نے اپنے طور طریقے نہ بدلے تو سندھ کے کسان اپنے صوبے سے پنجاب جانے والی ٹریفک روک دیں گے اور اسلام آباد میں مظاہرہ بھی کریں گے۔

اسی برس مارچ کے مہینے میں میں بلوچستان اسمبلی نے قرارداد منظور کی جس میں سندھ کو اس کے حصے کا پانی چوری کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ بولان نے مہران کے خلاف شکایت کی ہو۔ پی پی پی کی پریس کانفرنس میں بھی کچھ شور تھا کہ جہاں سندھ کو پانی کی قلت کا سامنا ہے، وہیں منگلا ڈیم کا پانی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔آپ کو چند برس قبل کا وہ جھگڑا شاید یاد ہو جب وفاقی وزارتِ پانی و بجلی نے ’’کے الیکٹرک‘‘ سے کہا تھا کہ وہ صرف قومی گرڈ سے سستی پن بجلی پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے تھرمل پاور پلانٹس چلائے جو نج کاری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بندپڑے تھے ۔ 

اس وقت کیا یہ سندھ کو اس کے حصے کی پن بجلی سے محروم کرنے کی سازش تھی؟ایسے الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔یہ چپقلش ختم کرنے کے لیے ہی 1991میں صوبوں میں پانی کی تقسیم کا ایک فارمولاطے کیاگیا تھاجسے صوبوں میں پانی کی تقسیم کا 1991کا معاہدہ کہا جاتا ہےجس پر چاروں صوبوں کے اس وقت کے نمائندوں نے دست خط کیے تھے۔تاہم بعد میں سندھ سے تعلق رکھنے والے بعض سیاست دانوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ وہ اس معاہدے سے مطمئن نہیں تھے اور انہوں نے بادلِ ناخواستہ دست خط کیے تھے۔آج کل اس موقف کی بازگشت پھر سنائی دے رہی ہے۔

ٹیلی میٹری سسٹم کی کہانی

اس معاہدے کے بعد بھی صوبوں کی جانب سے شکایات کی جاتی رہیں تو 2004میں ملک کے بیراجزاور ڈیمزپر پانی کی آمد اور اخراج کوناپنے کے لیے ٹیلی میٹری نظام نصب کیا گیا۔لیکن وہ جلد ہی ناکام ثابت ہوا۔بعض حلقوں کاموقف ہے کہ اسے جان بوجھ کر ناکارہ بنایا گیااور بعض کا کہنا ہے کہ اس نظام میں واقعتا تیکنیکی نقائص تھے۔

نومبر 2006میں اس وقت کی حکومت نےبتّیس کروڑ روپے کی لاگت سے نصب کیے گیے اس نظام کے تین برس سے ناکارہ ہونے کے متعلق تحقیقات کے لیے غیر جانب دار عالمی کنسلٹنٹ مقرر کرنے کا اعلان کیا۔یہ اعلان پانی و بجلی کے وفاقی وزیر، لیاقت جتوئی نےتیس نومبرکو مختلف متعلقہ سرکاری محکموں اور ٹیلی میٹری سسٹم نصب کرنے والی کمپنی’’سیمینز‘‘ کے نمائندوں کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیاتھا۔ان کا کہنا تھاکہ صوبوں میں دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کےلیےبتّیس کروڑ روپے خرچ ہوئے اور تین برس سے یہ نظام کام نہیں کر رہا ہے جو ان کے لیے پریشانی کا سبب ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ایک ہفتے میں عالمی ماہر مقرر ہوگا جو یہ طے کرے گا کہ خرابی کہاں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نظام ناکارہ ہے، آلات پرانے اور فرسودہ ہیں، چلانے میں گڑ بڑ ہے یا کچھ اور۔واضح رہے کہ اس سےچند روز قبل لیاقت جتوئی نے پارلیمان میں بیان دیا تھا کہ ٹیلی میٹری سسٹم کے آلات استعمال شدہ اور ناکارہ ہیں،حالاں کہ انہوں نے متعلقہ کمپنی کو نئے آلات نصب کرنے کے لیے رقم دی تھی۔ ان کے اس بیان کی نظام نصب کرنے والی کمپنی نے سختی سے تردید کی تھی۔

دراصل 2003میں جب فوجی آمر پرویز مشرف نے ملک میں بڑے ڈیم بنانے، بالخصوص انتہائی متنازع کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے رائے عامہ ہم وار کرنے کی مہم شروع کی تھی تو یہ بات سامنے آئی تھی کہ پانی کی تقسیم کا نظام ٹھیک نہیں۔صوبے ایک دوسرے پر پانی چرانے کا الزام لگاتے ہیںاس لیے ملک میں ٹیلی میٹری نظام نصب کیا جائے۔حکومت نے پانی اور بجلی کے منصوبہ ساز ادارے واپڈا کو یہ کام سونپاتھاجس نےنظام نصب کرنے کے لیے مذکورہ کثیرالقومی کمپنی کو ٹھیکہ دیاتھا۔ متعلقہ کمپنی نے2004میں تیئس ڈیمز اور بیراجوں پر آلات نصب کیے اور اُسے کمپیوٹرائزڈ مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک کرکے انتظام واپڈا کے حوالے کردیا تھا۔

واپڈا نے یہ جدید نظام جب صوبوں میں پانی تقسیم کرنے کے مجاز ادارے ’’ارسا‘‘ (انڈس ریورسسٹم اتھارٹی) کے حوالے کیا تو اس نے کہا کہ اس نظام سے موصول ہونے والا ڈیٹا درست نہیں ہوتا۔ لیاقت جتوئی کا کہنا تھاکہ جب کسی بیراج کے اوپرسے گاڑی گزرتی ہے تو سینسر اس وقت پانی کا اخراج وغیر غلط ظاہر کرتا ہے اور بجلی چلے جانے کی صورت میں نظام کی بیٹریز ہیں آٹھ گھنٹوں کے بجائے آدھ گھنٹے میں ختم ہوجاتی ہیں۔ارسا نے نظام کی خرابیوں کی نشان دہی کے لیے سافٹ ویئر، ہارڈویئراور ہائیڈرولکس کے ماہرین سے سروے کرایا تو انہوں نے اس نظام کے ناکارہ ہونے کی رپورٹ دی اور ارسا نے یہ نظام واپڈا کو واپس کرتے ہوئے کہا کہ اُسے ٹھیک کرکے دیا جائے۔

اس دوران مقامی اخبارات میں یہ خبریں بھی شایع ہوئیں کہ واپڈا اور سیمینز کے ذمے دار حکام کی ملی بھگت سے ٹیلی میٹری سسٹم کے پرانے آلات نصب کیے گئے اور اس منصوبے میں بدعنوانی ہوئی ہے۔ تاہم متعلقہ حکام نے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔واپڈا کے ٹیلی میٹری سسٹم کےاس وقت کےپروجیکٹ ڈائریکٹر حسنین افضل کا کہنا تھاکہ نظام بالکل ٹھیک ہے، ارسا والوں نے اُسے سیاسی معاملہ بنادیا ہے۔ 

ان کے مطابق کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ یہ نظام چلے کیوں کہ اس کے بعد پھر کالا باغ ڈیم بن جائے گا اس لیے وہ سازشیں کرتے ہیں۔یہ نظام ٹھیک ہے اس میں کوئی خرابی نہیں۔ ارسا کے اس وقت کے چیئرمین محمد خان میمن کا کہنا تھا کہ اب اس معاملے کا وزیر نے نوٹس لیا ہے اس لیے وہ کچھ نہیں بولنا چاہتے۔ تاہم انہوں نے کہا تھا کہ اگر یہ نظام ٹھیک ہوتا تو پھر عالمی کنسلٹنٹ کو کیوں مقرر کرتے۔یاد رہے کہ اس وقت کے وزیراعظم کی معائنہ ٹیم کے سربراہ میجر جنرل محمد فاورق اس معاملے کی تحقیقات کرچکے تھے،لیکن پھر بھی عالمی کنسلٹنٹ سے رجوع کیا گیا۔

اس کے بعد کیا ہوا ؟اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا ۔ البتہ اس وقت سے ٹیلی میٹری سسٹم کے نام پر جو کھیل شروع وہ آج تک جاری ہے،مگر معاملہ وہیں کا وہیں ہے۔آئیے،اس کھیل کا طائرانہ جائزہ لے لیں۔

گزشتہ برس سترہ جنوری کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس ہوا تھا۔اس موقعےپر بلوچستان میں چھوٹے ڈیمز کی تعمیر اور پانی سے متعلق ارسا کی جانب سے بریفنگ دی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھاکہ 1991کے معاہدے کے مطابق صوبوںمیں 114.35 ایکڑ فیٹ پانی تقسیم ہونا ہوتا ہے۔یہ تقسیم فصل ربیع اورخریف کے لیے ہے۔ سول کینالز سمیت کے پی کا حصّہ8.78اور بلوچستان کا 3.87ملین ایکڑ فیٹ ہے۔ معاہدے کے مطابق پنجاب کاحصّہ 55.94 اور سندھ کا حصہ 48.76 ملین ایکڑ فیٹ ہے۔

اس موقعے پر سینیٹر ثناء جمالی نےسوال کیا تھاکہ پانی کی چوری روکنے کے لیے ٹیلی میٹری سسٹم کیوں نہیں لگا رہے، حالاں کہ مشترکہ مفادات کونسل بھی ٹیلی میٹری سسٹم لگانےکی ہدایت کر چکی ہے۔اس کے جواب میں ممبر ارسا کا کہنا تھاکہ ٹیلی میٹری سسٹم کے لیے کمپنی شارٹ لسٹ کی تھی،لیکن اس کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس نے پنجاب میں اچھا کام نہیں کیا۔اب ٹیلی میٹری سسٹم لگانے کے لیے دوبارہ بولی کرائی جائے گی اور تنصیب میں دو سال لگ جائیں گے۔

یعنی پہلے والے بتّیس کروڑ روپے پانی میں گئے اور نیا کھاتہ کُھل گیاجس کی ایک الگ داستان ہے۔اپریل 2020میں وفاقی حکومت نے دریائو ں پر ٹیلی میٹری نظام کی تنصیب کی منظوری دی تھی۔لیکن اٹھارہ مئی 2020کو 805ملین روپےمالیت کے منصوبے کی بولی میںدبائو ڈالے جانے کا اسکینڈل سامنے آیا۔ اس حوالے سے خبر میں کہا گیا تھاکہ وزارت آبی وسائل کے افسران نے نافرمانی کے نتیجے میں ارسا کےتین اراکین کو قربانی کا بکرا بناکر عہدوں سے ہٹانے کی تیاری کرلی ہے ۔ 

ٹھیکہ غیرتسلی بخش کارکردگی کی حامل کمپنی کو دلوانے کی کوشش کی گئی۔یادرہے کہ واٹر سیکٹرکیپیسٹی بلڈنگ اور ایڈوائزی سروسز پراجیکٹ کے پی سی ون کے لیےعالمی بینک کے تعاون سے سات مقامات پر ٹیلی میٹری سسٹم کے پائلٹ پراجیکٹ کے لیے 805ملین روپے کی منظوری دی گئی تھی۔اس کے بعد پتا چلا کہ یہ منصوبہ واپڈا کے سپرد کردیا گیا ہے، تاہم اس کی ازسرنوبولی لگانے کے عمل کی نگرانی چیئرمین ارسا کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی کرےگی۔اس کے اگلے ہی روز یعنی اُنّیس مئی کو پتا چلا کہ وفاقی کابینہ نے پانی کی چوری کی روک تھام کے ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب میں تاخیر پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ارسا کے تین اراکین کو ہٹانے کی منظوری دے دی ہے۔

وفاقی کابینہ نے سندھ، پنجاب اور وفاق کے نمائندوں کو ہٹانے کی منظوری دی۔ یادرے کہ عالمی بینک نے پانی کی چوری روکنے اور صوبوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کےلیے ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کی غرض سے تین ملین ڈالرز سے زاید رقم مختص کی تھی۔تاہم ارسا کی نااہلی کے باعث بینک نےیہ رقم واپس لے لی تھی ۔ کابینہ نے یہ کارروائی وزارتِ آ بی وسائل کی پیش کردہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں کی تھی جس کاحکم وزیر اعظم نے دیا تھا۔یہ انکوائری ارساکے تین اراکین کے خلاف شروع کی گئی جن پر الزام تھا کہ انہوں نے پانی کا حقیقی بہائو ناپنے کے لیے ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کاعمل روکنے کی کوشش کی۔ کابینہ نے ٹیلی میٹری سسٹم کے لیے نئی پیش کشیں طلب کرنے کاعمل شروع کرنے کی منظوری دی ۔

پھر پچّیس ستمبر 2020کو ٹیلی میٹری کہانی میں ایک نیا موڑ آیا۔ اُس روز آبی وسائل کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لئے دریائے سندھ کے مختلف مقامات پر ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کےلیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے چیئرمین زاہد عباس نے کمیٹی کو بتایا یہ نظام دو سے تین برس میں نصب کر دیا جائے گا اور تمام صوبوں کو ان کے حصے کے مطابق پانی فراہم کیا جائے گا۔اجلاس میں بتایا گیا تھاکہ منصوبے کا پی سی ون پانی اور بجلی کی ترقی کے ادارے نے تیار کیا ہے اور یہ اگلے پندرہ روز میں مکمل ہو گا۔

پھر چھبّیس ستمبر کو خبر آئی کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے پانی مختص کرنے اور ٹیلی میٹری سسٹم کی عدم تنصیب سے متعلق صوبوں کی شکایات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ پندرہ یوم میں ٹیلی میٹری سسٹم کا پی سی ون پیش کریں۔کمیٹی کے اجلاس میں ایک سوال کے جواب میں سینیٹر زاہد عباس کا کہنا تھاکہ 2004میں نصب کیے گئے ٹیلی میٹری نظام نے فنی خرابی کی وجہ سے کام نہیں کیا تھا۔ارسا نے عالمی بینک کے قرض کے ذریعے گزشتہ سال دوبارہ ٹیلی میٹری منصوبے پر کام کیا اور دو کمپنیوں نے بولی میں حصہ لیا، تاہم چند تکنیکی مسائل کی وجہ سے ارسا نے دوبارہ بولی کا فیصلہ کیا تھا، لیکن عالمی بینک نے اس پر اعتراض کیا اور یہ قرض ہی منسوخ کردیا گیا۔بعدازاں وزارت آبی وسائل کے اجلاس میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے داخلی وسائل پر ٹیلی میٹری سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اس کے لیے سڑسٹھ کروڑ روپے درکارہیں اوراس وقت چھیاسی کروڑ روپے دست یاب ہیں جو سیس کے ذریعے جمع کیے گئے ہیں۔

گزشتہ برس ستمبر ہی کے مہینے میں ٹیلی میٹری سسٹم کو سبوتاژ کرنے سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیاتھاکہ ارسا نے ٹیلی میٹری نظام کی تنصیب کے وقت کئی فنی خرابیوں کو نظر انداز کیااور یہ نظام چلانے کے لیے اپنی صلاحیتیں بہتر نہیں بنائیں۔ ماہرین نے ارسا کو مطلع کیا تھاکہ 2002میں جو ٹیلی میٹری سسٹم نصب کیا گیا اس میں خرابیاں ہیں۔ عالمی بینک نے اس نظام کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کی ٹیم مقرر کی تھی جس نے اپنے رپورٹ میں کہاتھا کہ ٹیلی میٹری سسٹم میں خرابیوں کے باوجود اس کی خرابیاں دور کر کے اسے کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔ 

نیس پاک نے بھی ارسا کے ٹیلی میٹری سسٹم کا جائزہ لے کر یہ رپورٹ دی تھی کہ اس کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے سسٹم ناکارہ ہو گیا ہے۔ عالمی بینک نے ارسا کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے ارسا کی صلاحیت میں اضافہ کیلئے 25 لاکھ ڈالرز کی رقم دی تا کہ اس نظام کو بہتر بنایا جا سکے، لیکن ارسا نے ان فنڈزکا بھی صحیح استعمال نہ کیا۔2002میں نصب کیے جانے والے سسٹم میں خرابیاں تھیں، اس نظام کے لیےجو کنسلٹنٹ مقرر کیا گیا وہ درست نہیں تھا،ساز و سامان کی خریداری کے لیےطے شدہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا اورارسا کے پاس ٹیلی میٹری سسٹم چلانے کے لیے مہارت کی کمی ہے۔

اب رواں برس میں آتے ہیں۔بارہ فروری کو ایک نئی کہانی سامنے آئی جو دو ارب روپے سے زاید کی تھی ۔ اس روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس سینیٹر شمیم آفریدی کی سربراہمی میں منعقد ہوا تھاجس میں سیکریٹری وزارتِ آبی وسائل منیر اعظم نے کمیٹی کے ارکان کو ٹیلی میٹری سسٹم اور صوبوں میں پانی کی تقسیم جیسے معاملات پر بریفنگ دی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے طویل انتظار کے بعد ٹیلی میٹری سسٹم کا پی سی وَن انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے پاس جمع کرا دیاہےجسے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2021-22ء کا حصہ بنایا جائے گا۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ اور بلوچستان کے پانی کی منصفانہ تقسیم پر سنگین تنازعات ہیں۔دونوں صوبوں کو جاری کیے گئے پانی کی پیمایش کے لیے نہروں اور بیراجوں پر ٹیلی میٹری سسٹم نصب کیا جائے گا۔ارسا کی طرف سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ منصوبے کی لاگت دو ارب روپے سے زاید ہے۔اس نظام کی تنصیب جولائی 2023ء تک متوقع ہے۔ لیکن وزارتِ آبی وسائل نے چھ ماہ کا اضافی وقت مانگا ہے، حالاں کہ ٹیلی میٹری سسٹم نصب کرنے کے مقامات کا تعین پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

ذخائر سے زیادہ آبی انتظام کاری کی ضرورت 

صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازع نیا نہیں، اسے ختم کرنے کے لیے ہمیںنئی فکر ،جدید ٹیکنالوجی اور شفّافیت اپنانا ہوگی۔اس ضمن میں ہمیں آبی ذخائرسے زیادہ آبی انتظام کاری (واٹر مینجمنٹ)کی ضرورت ہے۔ آبی ذخیرہ گاہیں ضروری تو ہیں، لیکن اگر پانی کا ضیاع نہ روکا گیا تو یہ ذخیرہ گاہیں کسی کام نہ آسکیں گی۔پانی کا ضیاع روکے بغیر ہم اپنے آبی وسائل سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ دراصل ملک میں پانی کی کمی نہیں ہے، اصل مسئلہ پانی کے صحیح انتظام کاہے۔ ماہرین کے نزدیک ڈیمز کی تعمیر سے بھی زیادہ ضروری مسئلہ یہ ہے کہ آبی وسائل کا ضیاع روکا جائے۔

آبی امور کےماہرین کے مطابق دریائے سندھ کے طاس سے ہم سالانہ 14 کروڑ 50 لاکھ (145 ملین) ایکڑ فیٹ پانی حاصل کررہے ہیں۔ جس میں دریائے سندھ اور کابل سے 8 کروڑ 90 لاکھ (89 ملین) ایکڑ فیٹ، دریائے جہلم سے 2 کروڑ 20 لاکھ (22 ملین) ایکڑفیٹ، چناب سے 2 کروڑ 50 لاکھ (25 ملین) ایکڑفیٹ اور مشرقی دریاؤں سے 90 لاکھ (9 ملین) ایکڑ فیٹ پانی حاصل ہوتا ہے۔ہمارا زیادہ ترپانی استعمال کرنے والا شعبہ زراعت کا ہے۔ 

کھیتوں کو پانی دیتے ہوئے صرف نہروں میں 2 کروڑ 40 لاکھ (24 ملین) ایکڑ فیٹ پانی ضایع کردیا جاتا ہے۔2کروڑ10لاکھ (21ملین) ایکڑفیٹ واٹر کورسز (کھالوں) میں اور کھیتوں میں 3 کروڑ 30 لاکھ (33 ملین) ایکڑ فیٹ پانی ضایع ہوجاتا ہے۔پانی کے ضیاع کا یہ تخمینہ مجموعی طور پر 7کروڑ 70 لاکھ (77 ملین) ایکڑ فیٹ بنتا ہے۔ گویا 14 کروڑ 50 لاکھ (145 ملین) میں سے 7 کروڑ 70 لاکھ (77 ملین) ایکڑ فیٹ پانی ہم ضایع کردیتے ہیں یوں پانی کی تقریباً نصف مقدار ضایع ہوجاتی ہے ۔یہ مقدار اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی ہم اپنے تمام مجوزہ ڈیمز بنا کر ذخیرہ کریں گے۔ گویا ہمارے پاس پانی کی کمی نہیں بلکہ ناقص انتظام ہمارا اصل مسئلہ ہے۔ ہمیں اپنی قوم کو درست صورت حال بتانے کی ضرورت ہے کہ ڈیمز کی تعمیر سے بھی پہلے زرعی شعبے میں پانی کا صحیح استعمال، ہمارا اولین ہدف ہونا چاہیے۔

دنیا بھر میں زراعت میں آب پاشی کے جدید طریقے استعمال ہورہے ہیں، مثلاً پودوں کو سیلابی انداز میں پانی دینے کے بجائے قطرہ قطرہ پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاںاُنّیسویںصدی کا نہری نظام موجود ہے جسے ہم اکیسویں ویں صدی میں جوں کا توں چلا رہے ہیں اور اسے ہرگز تبدیل کرنا نہیں چاہتے۔ حتیٰ کہ قومی آبی پالیسی میں بھی ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی، یہی فرسودہ نظام پانی کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے۔

جب ہمارے سیاست داں بڑے ڈیمز کا ذکرکرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ڈیم کثیر المقاصد ہوتے ہیں اور ان سے کم از کم تین بڑے مقاصد حاصل ہوتے ہیں۔یعنی پانی کا ذخیرہ، سیلابی پانی کو کنٹرول کرنا اور سستی پن بجلی کا حصول۔لیکن آبی امورکے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیمز کے جو فواید بتائے جاتے ہیں ان میں بہت زیادہ مبالغہ ہوتا ہے۔ اگر باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو مذکورہ تینوں مقاصد ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ کوئی بھی ڈیم بہ یک وقت ذخیرہ گاہ اور سیلاب کو روکنے کے کام نہیں آسکتا۔

دنیا بھر میں اب ڈیم تعمیر کرنے کے بجائے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے قدرت کے فطری اصول استعمال کیے جارہے ہیں۔ کھربوں روپوں کی لاگت سے تیار ہونے والے ڈیم محض دس تا بیس برسوںمیں اپنی افادیت کھو بیٹھتے ہیں، ان میں ریت جمع ہوجاتی ہے اور ان میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجایش کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تربیلا ڈیم کا یہی حال ہوا ہے۔اس مسئلے کا متبادل یا حل صرف اور صرف پانی کی بہترین انتظام کاری ہے جس کی بنیاد قدرتی طریقوں پر ہو۔ اسرائیل کی مثال ہمارے سامنے ہے وہاں کوئی ڈیم موجود نہیں ہے، مگر وہ زراعت میں دنیا کاراہ نمابنا ہوا ہے۔ صحرا میں سبزی اگا رہا ہے اور یورپ اور مشرق وسطی تک کو فروخت کررہا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں آبی وسائل کی دست یابی، انتظام کاری اور ان کی ترقی بہ تدریج ایک بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور اب اس نے ایسے گمبھیر بین الصوبائی تنازع کی حیثیت اختیار کر لی ہے جس سے نمٹنے کی فوری ضرورت ہے۔ اس کا حل پانی سے متعلق وعدوں کی پابندی کے لیے سیاسی عزم پیدا کرنے میں پنہاں ہے۔ پانی سے تعلق رکھنے والے پیشہ وارانہ ماہرین کو وسیع تر سماجی، معاشی اور سیاسی تناظر کے بہتر فہم کی ضرورت ہے اور سیاست دانوں پر لازم ہے کہ وہ آبی وسائل کے معاملات کے ہر پہلو سے مکمل آگہی رکھیں۔

پاکستان کی سیاسی قیادت،بالخصوص اراکین پارلیمان کو اب ان مسائل پر کام کرنا چاہیے۔نئے آبی ذخائر کی تعمیرکےلیےمعاہدہ، کوٹری سےنیچے سمندر کو جانے والے پانی کی حد کے تعین کےلیے کی جانے والی اسٹڈی کے ٹرم آف ریفرنس کی تیاری، ترقی یافتہ ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب،پانی کا تحفظ، آب پاشی کی جدید تیکنیک اور ٹیکنالوجیز کا استعمال، سیلابوں اور خشک سالی کی پیشگی اطلاع دینے والی جدید ٹیکنالوجی کا حصول، پانی کے معیار کی اصلاح جو اس وقت صحت عامہ کے لیے مضر ہے، زمینی پانی نکالنے کے لیے جدیدتیکنیک اپنانا، پہاڑی ریلوں سے بہاؤ کے ذریعے آنے والے پانی کو جمع کرنا،پانی کی آلودگی کا انسداد، پانی کے شعبے سے متعلق اداروںکےڈھانچے کی اصلاح،پانی سے متعلق جامع قانون کی تیاری اور سطح زمین پرپانی کا انتظام بہتر بنانا ۔ پاکستان کی سیاسی قیادت کو تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) جیسے آئینی میکانزم کو فعال بنانا چاہیے۔