• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بعض اوقات ہمارے منہ میں کسی بھی وجہ سے زخم یا چھالے بن جاتے ہیں، جو شدید تکلیف کاباعث بنتے ہیں۔اگر ان زخموں یا چھالوں کا علاج نہ کروایا جائے تو یہ سفید دھبّے(Mouth patches) السر یا سرطان کا بھی باعث بن سکتے ہیں۔ یوںتو ان زخموں، چھالوں کا علاج جنرل فزیشنز بھی کرسکتے ہیں، مگر بہتر یہی ہے کہ ڈینٹل سرجنز سے رجوع کیا جائے ۔ 

منہ میں پیچز بننے کا ایک سبب بیکٹریا ہے، جو عموماً سفید یا سُرمئی رنگ کا ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں،حلق کی بیماری Diphtheriaبھی وجہ بن سکتی ہے، تو اکثر بچّوں میں خسرہ لاحق ہونے کے سبب بھی منہ میں سفید دھبّے پڑ جاتے ہیں۔ بعض کیسز میں سرطان کی ایک قسم Leukoplakia میں بھی متاثرہ جگہ پر اُبھرے ہوئے سفید دھبّے نمودار ہوجاتے ہیں، جو جسم کے مختلف حصّوں پر بھی ظاہر ہوسکتے ہیں، مگر ان کا خاص مرکز منہ ہی ہوتا ہے۔منہ کے السر میں زبان اور منہ کے اندرونی حصّے میں جلن محسوس ہوتی ہے۔

بعض اوقات منہ میں Ulcerative lesions بھی ہوجاتا ہے،جس کی دو اقسام ہیں۔ ایک بینائن(Benign) اور دوسری میلیگنینٹ(Malignant) ۔بینائن السر کی بھی متعدّد اقسام ہیں،جن کے لاحق ہونے کے عوامل بھی مختلف ہیں۔تاہم ، ان میں سے بعض السر وٹامن بی کمپلیکس، وٹامن،اے، بی، بی- 12 کی کمی کی وجہ سے بھی ہوجاتے ہیں۔ اگر منہ کے السر کا بروقت علاج نہ کروایاجائے تو یہ سرطان میں بدل سکتا ہے۔

منہ کے سرطان کی لگ بھگ 10اقسام ہیں، جن مین سب سے عامSquamous cell carc ہے، جوزیادہ تر نچلے ہونٹ، گال کی اندرونی سطح اور منہ کی تہہ میں ہوسکتا ہے۔ اس سرطان میں مبتلا ہونے کی وجوہ پان، چھالیا، نسوار اور گٹکے کا استعمال وغیرہ ہے۔ابتدا میں یہ منہ میں پلاک کی باریک سی سطح کی طرح محسوس ہوتا ہے،جو بتدریج پھیلتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ جبڑےکو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ 

دانت بھی بُری طرح متاثر ہوکر تقریباً ضایع ہوجاتے ہیں۔بعد ازاں، یہ سرطان چہرے، آنکھ اور دیگر اعضاء تک پھیل جاتا ہے۔منہ کے سرطان میں Adenoma ایک کم نوعیت کا سرطان ہے،جو نرم یا سخت تالو (soft hard palate) اور ٹشوز کو متاثر کرتا ہوا نزدیک ترین لمف نوڈز تک پہنچ جاتا ہے۔

بہرحال، سرطان چاہے جس بھی قسم کا ہو، ایک نہایت تکلیف دہ مرض ہے، جس کا علاج بھی سہل نہیں۔لہٰذا اگر منہ کے چھالے یا زخم دو ،تین ہفتے تک برقرار رہیں تو معالج سے لازماً رجوع کرلیں، تاکہ بروقت تشخیص کے بعد درست علاج شروع کیا جاسکے۔ (مضمون نگار، سینئر ڈینٹل سرجن ہیں)