• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

فٹبال، نارملائزیشن کمیٹی کی مثبت رپورٹ نے پاکستان کو پابندی سے بچالیا

پاکستانی فٹ بال کیلئے اہم اور خوشی کی بات ہے کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن اور فیفا نارملائزیشن کمیٹی کے درمیان معاملات انتہائی سنگین ہوجانے کے باوجود ثالثی کا کردار ادا کرنے والی فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے کانگریس اجلاس میں پاکستان پر مزید کسی پابندی سے احتراز کرتے ہوئے پی ایف ایف نارملائزیشن کمیٹی کو اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ۔ تھرڈ پارٹی مداخلت پر7 اپریل 2021 ء کو فیفا کونسل نے پاکستان کی عالمی فٹ بال سے رکنیت کو معطل کردیا تھا۔21 مئی2021 کو71 ویں ورچوئل فیفا کانگریس میں شریک207 میں سے203 ممبروں نے پاکستان کی معطلی کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دیا۔ 

فیفا نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی جانب سے فیفا فٹ بال ہائوس سے نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین کے بے دخل کئے جانے اور اس پر قبضے جیسے اقدام کے باوجود فیفا کے مطالبات پورے ہونے تک پاکستان کی معطلی جاری رہے گی۔ فیفا کانگریس کے ورچوئل اجلاس میں رکن ممالک نے آن لائن شرکت کی۔ کانگریس میں پاکستان کی نمائندگی پاکستان فٹ بال فیڈریشن نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین ہارون ملک نے کی اور پاکستان فٹ بال کے حوالے مثبت رپورٹ پیش کی جس کے باعث پاکستان فیفا کانگریس کی جانب سے سخت پابندیوں سے بچنا ممکن ہوا۔ 

ہارون ملک جن پر پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدر اشفاق حسین شاہ اور نائب صدر سردار نوید حیدر نے پاکستانی فٹ بال میں اپنے ذاتی مقاصد کے حصول سمیت دیگر الزامات لگائے ہیں، فیفا کانگریس اجلاس کے دوران اپنے ملک کا دفاع کیا اور کسی قسم کی تلخ اور محاذ آرائی پر مشتمل رپورٹ پیش کرنے کے بجائے مصالحت سے کام لیتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔ 

ان کو بھی معلوم تھا کہ اگر اجلاس میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے عہدیداروں کے ساتھ گزشتہ ہونے والے تلخ واقعات پر مشتمل رپورٹ پیش کی جاتی تو نہ صرف پاکستان پر لمبے عرصے کیلئے معطلی کا فیصلہ کیا جاتا بلکہ ان کی چیئرمین شپ بھی ٹھکانے لگا دی جاتی۔ انہوں نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی بھی روزی روٹی کا خیال رکھا اور خاموشی سے سب اچھا اور بہتر ہے کی رپورٹ پیش کی ۔ 

فٹ بال کے حلقے فیفا کانگریس میں پاکستان کے خلاف مزید نئی پابندیاں نہ لگائے جانے پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن اور نارملائزیشن کمیٹی کے درمیان مخاصمت کا فیفا کانگریس میں اچھا نتیجہ نہیں نکلتا۔ ممکن تھا کہ این سی کمیٹی کو گھر بھیج کر پاکستان پر عالمی سطح پر پانچ سال کی پابندی لگادی جاتی۔ کانگریس کے فیصلے کی رو سے فیفا پی ایف ایف نارملائزیشن کمیٹی کام جاری رکھے گی اور فیفا کے مطالبات پورے ہونے تک پاکستان کی معطلی جاری رہے گی، فیفا پاکستان فٹ بال پر این سی چئیرمین ہارون ملک کی سفارش پر معطلی ختم کرے گی۔ 

جنگ نے ورچوئل فیفا کانگریس کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں کارروائی اور پاکستان کے بارے میں معطلی کا فیصلہ برقرار رکھنے پر پی ایف ایف نارملائزیشن کمیٹی کے سربراہ ہارون ملک سے بات کی اور ان سے کانگریس کے دوران ہونے والی کارروائی کے بارے میں جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھاکہ فٹ بال ہائوس پر قبضہ کرنے والوں کو ملک کی عزت کا خیال کرنا چاہئے اور عالمی سطح پر پاکستان کی مزید بدنامی سے پیشتر فیفا کی ہدایت کے مطابق این سی کو فٹ بال ہائوس کا چارج دے دینا چاہئے۔ 

حکومت کو بھی عالمی سطح پر ملک کو بدنامی سے بچانے کیلئے فیفا کے واضح احکامات کی روشنی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، ہمارے اوپر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد اور لغو ہیں،کمیٹی دیانت داری سے کام کررہی ہے۔ پی ایف ایف کے انتخابات کے حوالے سے ہمارا کام جاری ہے اور اگلے چند ماہ میں ہم اپنا کام پورا کرکے پی ایف ایف کا چارج منتخب نمائندوں کے حوالے کردیں گے۔ 

فیفا کانگریس سے دو روز قبل میں نے عہدیداروں کو پاکستان فٹ بال سے متعلق صورت حال سے آگاہ کردیا تھا کہ پاکستانی حکومت این سی کو سپورٹ کررہی ہے اور اس کی پوری کوشش ہے کہ این سی اور پی ایف ایف کے درمیان معاملات طے پا جائیں کانگریس سے پہلے ہی مجھے پتہ چل گیا تھا کہ فیفا کوئی بڑا فیصلہنہیں کررہی۔ پی ایف ایف کے عہدیدار سوچ رہے تھے کہ ہم این سی کو فٹ بال ہائوس سے نکال کر فیڈریشن کے اکائونٹ میں پڑی رقم کا جیسے چاہیں گے استعمال کریں گے لیکن ان کو اکائونٹ استعمال کرنے کا اختیار نہ مل سکا۔ 

فیفا تک میری رسائی ہے اس لئے میں نے مثبت کردار ادا کیا اور اپنے ملک کو مزید بے عزتی سے بچایا ۔ میں نے عامر ڈوگر سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ آپ پاکستان آجائیں اور ہم مل بیٹھ کر بات کرلیتے ہیں ،میں چاہتا ہوں کہ جو بھی بات ہو وہ حکومتی سطح پر ہو تاکہ عام عوام کو بھی کو پتہ چل سکے کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی کیا حکمت عملی ہے۔

فیفا نارملائزیشن کمیٹی کے تمام اراکین آپس میں رابطے میں ہیں اور ہم دن میں دو ڈھائی گھنٹے میٹنگ کرتے ہیں اور بہت ساری چیزیں ہم نے طے کرلیں ہیں۔ کلب رجسٹریشن سمیت دیگر امور نمٹائے جارہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 26 کلبز کی انٹری ہوگئی ہے ابھی سو کلبز کی رجسٹریشن کا ٹارگٹ ہے جسے جلد ہی پورا کرلیں گے ، رجسٹریشن کا عمل عام کلبوں کیلئے بھی کھول دیا جائے گا۔ مجھ سمیت این سی کے کسی رکن کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔

تازہ ترین
تازہ ترین