• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزن میں کمی کے حوالے سے سب سے مشکل مرحلہ ’کیلوریز میں کمی‘ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غذائی ماہرین وزن کم کرنے کے عمل میں ایسی غذاؤں کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں جن میں کیلوریز کی مقدار کم پائی جاتی ہے۔ تاہم، اکثر لوگ کم کیلوریز سے مراد ایسی غذائیں لیتے ہیں جو بے ذائقہ یا پھر ناپسندیدہوں مگر یہ تاثر ہر گز درست نہیں۔ کچھ مخصوص غذائیں ایسی بھی ہیں جن کا انتخاب آپ کوپس و پیش سے کام لینے کے بجائے کم کیلوریز والی خوراک کے حصول کی خواہش پوری کرسکتا ہے۔

کیلوریز

حرارت کی اکائی کو حرارہ (کیلوری) کہا جاتا ہے، یعنی یہ حرارت کی وہ مقدار ہے جو ایک کلو گرام پانی کے درجہ حرارت کو ایک سینٹی گریڈ تک بڑھا دیتی ہے۔ ہر انسان کو الگ الگ حراروں (کیلوریز) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ہرغذا میں کیلوریز کی تعداد بھی مختلف ہوتی ہے۔ غذا چونکہ ایک کیمیائی مرکب ہے، اس لیے کیلوریز کی تعداد غذا کی کیمیائی بناوٹ پر مبنی ہوتی ہے ۔ چنانچہ آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کم کیلوریز والی غذائیں کون سی ہیں ۔

جَو

وزن کم کرنے والی غذاؤں میں جَو ایک بہترین انتخاب تصور کیا جاتا ہے۔ اس میں نہ صرف کیلوریز کی کم تعداد پائی جاتی ہے بلکہ فائبر اور پروٹین کی زائد مقدار کے باعث اسے استعمال کرنے والاپیٹ بھرا بھرا محسوس کرتا ہے۔ آدھا کپ (40گرام) جَو میں 148کیلوریز پائی جاتی ہیں جبکہ اس میں 5.5گرام پروٹین اور3.8گرام فائبر پایا جاتا ہے۔ فائبر اور پروٹین کی یہی مقدار بھوک کے احساس کو کم کرتی ہے۔

دہی

دہی کو پروٹین کا ایک بڑا ذریعہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ بھوک اور وزن کم کرنے میں بے حد مددگار ہوتا ہے۔ اگر چہ مارکیٹ میںگریک یوگرٹ کے کئی مختلف برانڈز اور ذائقے موجود ہیں ،لیکن ماہرین کا کہنا ہے دوتھائی کپ خشک دہی میں عام طور پر 130کیلوریز اور11گرام پروٹین پایا جاتا ہے۔

بیریز

بیریز میں اسٹرابریز، بلو بیریز اور رس بیریزوغیرہ شامل ہیں۔ یہ اینٹی آکسیڈینٹ، معدنیا ت اور وٹامنز سے بھر پور ہوتی ہیں۔ ان کے استعمال سے آپ اپنی صحت کو بہتر بناسکتے ہیں۔ ان میں موجود فائبر کی زیادہ مقدار بھوک میں کمی کا باعث بنتے ہوئے وزن کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مثال کے طور ایک کپ بلو بیریز (148گرام)میں صرف 84کیلوریز اور 3.6گرام فائبر پایاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ بیریز میں ایک خاص قسم کا فائبر ’پیکٹین‘ پایا جاتا ہے جو انسانوں اور جانوروں کے معدے میں بھوک کے جذبات پروان چڑھنے سے روکتا ہے،یہ عمل وزن میں کمی کا باعث بنتا ہے ۔

سوپ

اگرچہ سوپ کو ہلکی غذا ہونے کے باوجود دیگر غذاؤں میں سائیڈ لائن کردیا جاتا ہے لیکن اس کا استعمال وزن کم کرنے کے حوالے سے خاصا اطمینان بخش ہے۔ مختلف تحقیقات سے یہ ثابت ہے کہ سوپ کا استعمال ٹھوس غذاؤں کے مقابلے میں زیادہ دیر تک بھوک نہیں لگنے دیتا، چاہے اس میں سبزی، انڈہ وغیرہ موجود نہ ہو۔60افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق سے ثابت ہوا کہ کھانے سے پہلے سوپ کا استعمال 20فیصد کیلورز میں کمی کا باعث بنتا ہے ۔

مچھلی

مچھلی پروٹین اور دل کی صحت کے لیےفائدہ مند چکنائی (فیٹ) سے مالا مال ہوتی ہے۔ سمندری غذاؤں میں سب سے زیادہ مچھلی کھائی جاتی ہے،جوکھانے میں لذیذ اور بے شمار فوائد پہنچاتی ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہے کہ غذاؤں میں پروٹین کی مقدار میں اضافہ کھانے کی طلب میں کمی اور گھریلن ہارمون (Ghrelin Hormone) کی سطح میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ یہ ایسا ہارمون ہے جو انسانی جسم میں بھوک کی خواہش کو متحرک کرتاہے۔ 3اونس مچھلی میں70کیلوریز جبکہ15گرام پروٹین پایاجاتا ہے۔

انڈہ

انڈے کا شمار اچھی اور صحت بخش غذاؤں میں کیا جاتا ہے جو کم مقدار میں کیلوریز لیکن زیادہ مقدار میں اہم غذائی جزو سے مالا مال ہوتا ہے۔ انڈوں کی غذائی اہمیت پر بات کی جائے تو ایک بڑے سائز کے انڈے میں 72کیلوریز،6 گرام پروٹین اور بڑی مقدار میں وٹامنز اورمنرلز پائے جاتے ہیں۔مطالعات سے ثابت ہے کہ دیگر کم کیلوریز والی غذاؤں کی طرح انڈوں کا استعمال بھی بھوک کم کرتا اور وزن میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ 

امریکن ویب سائٹ کے مطابق ایک دن میں 2 سے 3 انڈوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے مگر ساتھ میں کسی سبزی کا استعمال لازمی ہے، ایک ہفتے میں 7 سے 8 انڈوں کا استعمال صحت کے لیے مفید ہے۔ امراض قلب میں مبتلا افراد اپنے معالج کی ہدایت کے مطابق انڈوں کا استعمال کریں۔

صحت سے مزید