• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت ارویٰ بنتِ عبد المطلب رضی اللہ عنہا (قسط نمبر 19)

کوہِ صفا کے دامن میں واقع لازوال شہرت کا حامل، ’’دارِارقم‘‘ ایک صحابی، حضرت ارقمؓ کی ملکیت تھا۔ یہ دارالسّلام بھی تھا اور دارالشوریٰ بھی۔ یہ پہلی اسلامی درس گاہ تھی اور عملی تربیت کا مرکز بھی۔ یہ وہ گوشۂ عافیت تھا کہ جہاں کفّار کے ستائے غربا، غلام اور مساکین پناہ لیتے۔ یہ مجاہدینِ اسلام کی بہترین پناہ گاہ تھی اور محفوظ قلعہ بھی۔ اور یہی وہ تاریخی مقام تھا کہ جہاں حضورﷺ کے چچا، رضائی بھائی، سیّد الشہداء حضرت حمزہؓ اور حضرت عُمرؓ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اللہ کے رسولﷺ اپنے جاں نثار صحابہؓ کے ساتھ اپنا زیادہ تر وقت اِسی مکان میں گزارتے تھے۔

بیٹا بارگاہِ رسالتؐ میں

ایک صبح حضورﷺ اپنے صحابہؓ کے ساتھ درس و تدریس میں مصروف تھے کہ دارِ ارقم کے دروازے پر دستک ہوئی۔ صحابۂ کرامؓ نے جھانک کر دیکھا، تو ایک نوجوان نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ آپﷺ نے اجازت دے دی۔ نوجوان اندر آیا، تو آپﷺ کو اُسے دیکھ کر حیرت ہوئی۔ آپؐ نے تجسّس بَھرے لہجے میں فرمایا’’ طلیب کیسے آنا ہوا؟‘‘نوجوان نے عرض کیا’’ یارسول اللہﷺ! مَیں آپؐ کے ہاتھ پر مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔‘‘ 

آنحضرتﷺ نے تبّسم فرماتے ہوئے نوجوان سے بیعت لی اور اُن کے حق میں دُعائے خیر فرمائی۔یہ حضورﷺ کے والد کی حقیقی بہن، یعنی آپﷺ کی پھوپھی، حضرت ارویٰؓ کے صاحب زادے تھے۔ رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرکے گھر تشریف لائے، تو والدۂ محترمہ نے دریافت کیا’’ کہاں چلے گئے تھے؟‘‘ بولے’’ امّاں جان! مَیں حضرت محمّدﷺ سے ملنے چلا گیا تھا اور مَیں نے اپنے ماموں زاد بھائی کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے۔ اب مَیں مسلمان ہوچُکا ہوں۔ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے سچّے رسول ہیں۔‘‘

بیٹے کو نصیحت

حضرت ارویٰؓ نے بیٹے کے مسلمان ہونے کی خبر سُن کر تعجب بَھری نظروں سے اُنہیں دیکھا۔ وہ اپنے بھائی، ابولہب کی سربراہی میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم وستم سے اچھی طرح واقف تھیں۔ اُنہیں ابو لہب، ابو جہل سمیت اپنے خاندان اور قبیلے کی حضورﷺ سے دشمنی کا بھی علم تھا۔وہ اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئی تھیں، لیکن اپنے لختِ جگر کو ستائش بَھری نظروں سے دیکھتے ہوئے گویا ہوئیں’’اے میرے جانِ جگر! مَیں جانتی ہوں کہ تم نے اپنے لیے کانٹوں بَھرے راستے کا انتخاب کیا ہے، لیکن اب جب کہ تم اِس راستے پر چل پڑے ہو، تو تمہارا فرض ہے کہ اپنے ماموں کے بیٹے کی مدد کرو۔ تمہارے بھائی، حضرت محمّدﷺ مخالفتوں کے طوفان میں گِھرے ہوئے ہیں۔

اُن کے اپنے بھی دشمن ہوچُکے ہیں۔ اِس وقت وہ تمہاری تائید اور حمایت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر مَیں قدرت رکھتی اور مجھ میں مَردوں جیسی طاقت ہوتی، تو مَیں اپنے یتیم بھتیجے کا تحفّظ اور دفاع کرتے ہوئے اُنھیں ظالموں کے ظلم سے ضرور بچاتی۔ (رحمۃ اللعالمین، 348/2 قاضی سلیمان منصور پوری)

قبولِ اسلام

بیٹے نے حضرت ارویٰؓ سے کہا’’ میری ماں! آپ کو اسلام قبول کرنے اور اُن کی اتباع میں کون سی چیز مانع ہے، جب کہ آپ کے حقیقی بھائی، حضرت حمزہؓ پہلے ہی مشرف بہ اسلام ہو چُکے ہیں۔ بس، اب آپ بھی کلمہ پڑھ لیں۔‘‘ ارویٰؓ نے صاحب زادے سے کہا’’ مجھے تمہاری خالائوں کا انتظار ہے۔ مَیں دیکھنا چاہتی ہوں کہ میری بہنیں کیا طرزِ عمل اختیار کرتی ہیں۔ اگر اُنہوں نے اسلام قبول کرلیا، تو مَیں بھی کرلوں گی۔‘‘ بیٹے نے ماں کے رویّے میں لچک محسوس کی، تو فوراً گرم لوہے پر چوٹ ماری۔ تڑپ کر بولے’’ میری پیاری ماں! اب مزید انتظار کا وقت نہیں ہے۔ 

ہم ہمیشہ سے کفر کی غلاظتوں میں دھنسے پتھر کے ٹکڑوں کو خدا سمجھ کر پوجتے رہے، اب جب کہ ہمارا اپنا بھائی، تمہارا بھتیجا، عبدالمطلب کا پوتا، مکّے کا امین و صادق اپنی زندگی خطرات میں ڈال کر ہمیں سیدھی راہ دِکھا رہا ہے، تو کیوں نہ ہم ابھی اور اِسی وقت اُن کے پاس جاکر اُن کی تصدیق کریں اور اِس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سِوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمّدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ بیٹے کی ایمان افروز گفتگو نے لاشعور کے کسی کونے میں دبی حق کی چنگاری روشن کردی۔ 

صاحب زادے کا ہاتھ پکڑا اور بارگاہِ رسالتؐ میں حاضر ہوگئیں۔ اللہ کے رسولؐ نے اپنے سامنے اپنی حقیقی پھوپھی کو دیکھا، تو خوشی سے اُن سے لپٹ گئے۔ اپنی چادر بچھا کر عزّت و احترام کے ساتھ بِٹھایا اور یوں حضرت ارویٰؓ کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوگئیں۔ (الاستیعاب، کتاب النساء، ج4ص343)

حسب نسب

حضرت ارویٰؓ ، حضورﷺ کے دادا جناب عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف کی صاحب زادی اور آپؐ کی سگی پھوپھی تھیں۔اُن کی والدہ کا نام فاطمہ بنتِ عمرو بن عائذ بن عمران بن مخزوم ہے۔حضرت ارویٰ ؓ کا زمانۂ جاہلیت میں عمیر بن وھب بن عبد مناف بن قصی سے نکاح ہوا اور اُن سے ایک لڑکا، طلیب پیدا ہوا۔ بعدازاں، ارطاۃ بن شرجیل بن ہاشم بن عبد مناف سے نکاح ہوا، جن سے ایک بچّی فاطمہ پیدا ہوئی۔(بعض کتب میں شوہر کا نام کلدہ درج ہے)۔ حضرت ارویٰؓ مکّے ہی میں مسلمان ہوگئی تھیں اور اُنھوں نے مدینہ منوّرہ کی جانب ہجرت بھی فرمائی۔ (طبقات ابنِ سعد 283/8)

ابوجہل لہولہان ہوگیا

ایک دن رسول اللہﷺ مکّے کے بازار سے گزر رہے تھے کہ راستے میں ابوجہل مل گیا۔ اُس نے نہ صرف آپؐ کی توہین کی، بلکہ ایذا بھی پہنچائی۔ نوجوان طلیبؓ کو پتا چلا، تو ضبط نہ کرسکے۔ ایک لکڑی اُٹھائی اور ابوجہل کے سَر پر اِس زور سے ماری کہ اُس کا سَر پھٹ گیا اور وہ خون میں لہولہان ہوگیا۔ مشرکینِ مکّہ نے طلیبؓ کو پکڑ کر زدوکوب کرنا شروع کردیا۔ 

ابولہب بھی وہاں موجود تھا، اُس نے بیچ بچائو کروایا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ابو لہب کو حضرت طلیبؓ کے اسلام لانے کا علم ہوا۔ حضرت حمزہؓ کے بعد طلیبؓ کے اسلام لانے سے ابولہب کو شدید جھٹکا لگا۔ طلیبؓ مضبوط و توانا جسم کے مالک، نہایت نڈر اور خُوب رُو نوجوان تھے۔ ابو لہب کو یقین تھا کہ یہ بہت جلد حمزہؓ کی جگہ لے کر مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچائیں گے، اِس لیے اُن کے اسلام لانے سے اُس کی اُمیدوں پر پانی پِھر گیا۔

حضرت ارویٰؓ نے ابولہب کو لاجواب کردیا

ابولہب ابھی اپنے بھانجے، طلیبؓ کے مسلمان ہونے کا غم نہ بھول پایا تھا کہ کسی نے اُسے بتایا کہ طلیبؓ کی ماں اور تمھاری بہن بھی اسلام قبول کر چُکی ہے۔ اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا۔ ابولہب کے لیے یہ خبر ناقابلِ برداشت تھی۔ غضب ناک ہو کر پیر پٹختا بہن کے گھر جا پہنچا اور بولا’’ اے میری پیاری بہن! مَیں تیرے بارے میں کیا سُن رہا ہوں؟ کیا تُو نے بھی اپنے باپ، عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دیا ہے؟ 

کہہ دے کہ یہ سب کچھ غلط سُنا ہے۔‘‘ حضرت ارویٰؓ نے صبرو تحمّل سے بھائی کی بات سُنی اور پھر گویا ہوئیں’’ اے میرے بھائی! جو کچھ تم نے میرے بارے میں سُنا، وہ لفظ بہ لفظ صحیح ہے۔ ہاں! یہ سچ ہے کہ مَیں نے کلمۂ طیّبہ پڑھ کر اپنے بھانجے کا دین اختیار کرلیا ہے۔ اب میری تم سے بھی یہی درخواست ہے کہ تم بھی دینِ محمّدیﷺ اختیار کرلو اور اپنے بھتیجے کی حمایت میں کھڑے ہو جائو، اُن کی ہر ممکن مدد و نصرت کرو۔‘‘ ابولہب بولا’’ کیا ہمارے اندر پورے عرب سے ٹکرانے کی طاقت ہے۔ 

وہ تو بالکل ایک نیا دین لے کر آئے ہیں؟‘‘ بہرحال، ابو لہب واپس چلا گیا۔ حضرت برّہ بنتِ ابو تجراۃ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ حضرت ارویٰؓ نے اُسی دن یہ شعر کہا تھا۔ترجمہ:’’بے شک طلیبؓ نے اپنے ماموں زاد بھائی کی مدد، نصرت کی اور اپنی قرابت داری و ذمّے داری کا حق ادا کیا۔‘‘(طبقات ابنِ سعد، جلد ہشتم، صفحہ 283)

بیٹے کا جذبہ

ابولہب مسلمانوں کو ایذا پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔ ایک دن اُس نے چند کم زور نو مسلموں کو زدوکوب کرکے حبسِ بے جا میں رکھ لیا۔ جب حضرت طلیبؓ کو پتا چلا، تو وہ ماموں کے پاس گئے اور اُن سے درخواست کی کہ ان غریبوں کو چھوڑ دیں۔ ابو لہب نے اُنہیں دھتکار دیا۔ جوان خون تھا، غریب مسلمانوں کی حمایت میں مشرک ماموں کو پیٹ ڈالا۔ مشرکین نے بڑی مشکل سے ابو لہب کو اُن سے چھڑوایا۔ وہ اپنی اِس بے عزّتی کی شکایت لے کر بہن کے پاس جاپہنچا۔ 

حضرت ارویٰؓ نے جواب دیا’’ میرے بھائی! طلیبؓ کی زندگی کا بہترین وقت وہی ہے، جب وہ حضرت محمّدﷺ کی مدد کرے۔‘‘ اِسی طرح ایک دن عوف بن قرہ سہمی نے آنحضرتﷺ کی شانِ اقدس میں نازیبا الفاظ استعمال کیے، تو حضرت طلیبؓ نے اُسے مار مار کر زخمی کردیا۔ عوف زخمی حالت میں حضرت ارویٰؓ کے پاس پہنچا اور بیٹے کی شکایت کی، تو مومن ماں نے جواب دیا’’ تم نے اُس کے ماموں کے بیٹے کی شان میں گستاخی کی اور طلیبؓ کا اپنے بھائی کی مدد کرنا فرض تھا۔‘‘

ایک دن قریش کے چند لوگ حضرت ارویٰؓ کے پاس پہنچے اور اُن سے کہا ’’ کیا آپ کو معلوم ہے کہ طلیبؓ نے حضرت محمّدؐ کی حفاظت کی ذمّے داری لے کر اپنے آپ کو قبیلے کا دشمن بنالیا ہے؟‘‘ حضرت ارویٰؓ نے جواب دیا’’ میرے بیٹے کی زندگی کا وہ سب سے بہترین دن ہوگا، جب وہ اپنے ماموں زاد بھائی کے دفاع میں جنگ کرے گا۔ اِس لیے کہ اُس کا بھائی، حضرت محمدﷺ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر آیا ہے۔‘‘

یہ غازیانِ صف شکن

ایک دفعہ حضرت ارویٰؓ کے صاحب زادے، حضرت طلیبؓ کو معلوم ہوا کہ ایک مشرک، ابو ہاب بن غریر دارمی، نبی کریمﷺ کو نعوذباللہ شہید کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ طلیبؓ موقعے کے انتظار میں رہے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ اُنھوں نے اپنی تلوار کے ایک ہی وار سے اُس مشرک کا سَر تن سے جدا کردیا۔ جب حضرت ارویٰؓ کو علم ہوا، تو اُنہوں نے اِس پر خوشی کا اظہار کیا۔ یہ وہ وقت تھا، جب کفّارِ مکّہ مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھا رہے تھے۔ حضرت ارویٰؓ اپنے بھتیجے کی تکالیف پر بہت کڑھتی تھیں، لیکن عورت ہونے کے سبب عملی طور پر کفّار کا مقابلہ کرنے سے معذور تھیں، البتہ اپنے بیٹے کو ہر وقت رسول اللہﷺ کی مدد پر آمادہ کرتی رہتیں۔ 

حضرت طلیبؓ پہلے ہی رسول اللہﷺ کے جاں نثار تھے، ماں کی حمایت سے اُن کا حوصلہ مزید بڑھ گیا۔حضرت ارویٰؓ کی تربیت کی بدولت اُنہوں نے اپنی زندگی ہادیٔ برحقﷺ کی حفاظت اور خدمتِ اسلام کے لیے وقف کردی۔ (رسول اللہﷺ کے رشتے دار، ص 217 از مولانا ثناء اللہ سعد)

وفات

حضرت ارویٰؓ کا سنِ وفات اور دیگر حالات کتب میں موجود نہیں۔ البتہ، اُن کے صاحب زادے، حضرت طلیبؓ کی وفات کے بارے میں حضرت عائشہ بنتِ قدامہؓ سے مروی ہے کہ حضرت طلیبؓ جمادی الاولیٰ 13 ہجری کو اجنادین کے معرکے ( بیتُ المقدِس کی فتح کے سلسلے میں لڑی جانے والی ایک جنگ) میں شہید ہوئے، اُس وقت اُن کی عمر 35 سال تھی ۔ اُن کی کوئی اولاد نہ تھی۔

سنڈے میگزین سے مزید