• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا کے باعث لاک ڈاؤن، تاجروں کا اربوں روپے کا نقصان ہو چکا

کراچی(رپورٹر/ رفیق بشیر)کراچی میں کوروبا وبا، لاک ڈاؤن،شدید گرمی،6 بجے دکانیں بند کرنے کے سبب ایک درست اور تحقیقی اندازے کے مطابق 2020 اور 2021 کے دوران چھوٹے اور درمیانے در جے کے تاجروں کواربوں روپے کا مالی نقصان ہوچکا ہے

تاہم تاجروں کا کہنا ہے عام تاجروں،چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کودو ارب سے زائد کا مالی نقصان ہوا ہے۔10 لاکھ روپے سے لے کر ایک کروڑ کا مال ہر دکان میں ہوتاہے جو فروخت نہیںہو سکا وہ مال تقریباً بے کار ہوچکا ہے،گارمنٹس کے کاروبار کو تو بہت بقصان ہوا۔چھوٹے اور در میانے تاجروں کے ساتھ درمیانے اور چھوٹے درجے کی کاٹیج انڈسٹری کو بھی اربوں کانقصان ہوا ہے۔

تاجروں سے پے منٹ نہ ملنے پر ہزاروں کاٹیج فیکڑیاں دیوالیہ ہوگی۔جبکہ مزدور بے روز گار ہوگئے ہیں اس صورتحال کے سبب شہر میں دن بہ دن اسٹریٹ کرائم بڑھ رہے ہیں ۔چند سال قبل رینجرز نے جو شہر میں امن و امان قائم کیا تھا ۔اس کے مثبت نتائج ختم ہورہے۔

بے روزگاری کی بڑھتی صورتحال کے سبب نوجوان دوبارہ کرائم کی جانب راغب ہورہے ہیں،موجودہ ڈپریشن کے ماحول میں کراچی میں ماوا،گٹکا کی فروخت بڑھ گئی جس کو کھانے سے نوجوان سکون محسوسکرتا ہے جبکہ یہ کینسر کی علامت ہے،کراچی میں شدیدگرمی،حبس،بجلی کی لوڈشینگ،ٹریفک کے رش اور چھ بجے مارکیٹیں بند کرنے کے احکامات کے سبب کراچی کےمڈل کلاس تاجرشدید مالی بحران کا شکار ہوگے ہیں ۔

جب موسم ٹھنڈا ہوتا ہے تو6 بج جاتے ہیں اورگاہک شاپنگ کئے بغیر والپس چلے جاتے ہیں، جنگ کے سروے کے مطابق تاجروں نے اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ حکومت گرمی کی شدت سامنے رکھتے ہوئے دکانوں کا وقت کم سے کم 8 بجے کردیے۔

شہر بھر میں ہفت روزہ بازار اطمینان سے لگ رہے ہیں، اتوار بازار ،پیر بازار جمعہ بازارجہاں گاہکوں کا ایک ساتھ بہت رش ہوتا ہے ۔ہفتہ وار بازار کھولنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔

کیا کورونا ہفتہ وار بازار میں نہیں آئے گا۔تاجروں کا کہنا ہے ہم کرونا سے جنگ کرنا چاہتے ہیں اور حکومت کی معاونت بھی کریں گےلیکن سندھ حکومت تاجر تنظمیوں سے جو اسٹیک ہولڈر کی نمائندہ تنظمیں ہیں ان سے مشاورت کرکے ایس او پی تجویر کریں ۔تاجروں نے اپیل کی ہے حکومت حاکمانہ انداز میں نوٹیفکیشن اور پولیس کے ذریعے عملدرآمد نہ کرائے ۔

پولیسلاک ڈائون کیلئےدکانیں بند کراتے ہوئے جس طرح تاجروں کی بے عزتی ہے یہ صورتحال اب نہ قابل برداشت ہوتی جارہی ہے،ایسی صورتحال میں کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین