• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معیشت کا حجم 313 ارب ڈالر تھا اسے 296 ارب ڈالر کردیا گیا، ن لیگ سیمینار

حکومت نے مہنگائی میں3 کھانے پینےکی اشیاء میں5 گنا اضافہ کیا، ن لیگ سیمینار


اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں، جنگ نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے زیراہتمام وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ پری بجٹ سیمینار کے موقع پر پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیز اور کارکردگی کا مختصر جائزہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے عوام کو اپنے معیار زندگی میں بہت بڑی تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2018 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جب حکومت چھوڑی تھی تو پاکستان کی معیشت کا حجم 313 ارب امریکی ڈالر تھا۔ 

تین سال بعد عمران خان نے اس میں 5.5 فیصد کمی کرتے ہوئے 296 ارب امریکی ڈالر پر پہنچا دیا ہے جبکہ ہماری آبادی کی رفتارتین سال میں 7.5 فیصد بڑھ چکی ہے جبکہ سالانہ اڑھائی فیصد بڑھ رہی ہے۔ یعنی پاکستانیوں کی آمدنی میں براہ راست کمی آئی ہے اور ان کی قوت خرید میں 13 فیصد کمی واقع ہوچکی ہے۔ ان تین سال کے دوران پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہماری شرح نمو (جی ڈی پی) ڈالرز میں کم ہوئی۔ 

اپنے پانچ سال کے دور حکومت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے شرح نمو (جی ڈی پی) 2.8 فیصد سے بڑھا کر 5.8 فیصد کی، افراط زر (مہنگائی) 11.8 فیصد سے 3.9 فیصد کی اور ٹیکس وصولی 1946 سے دوگنا بڑھا کر تقریبا 3900 ارب روپے کی۔ 

تین سال میں انتہائی زیادہ مہنگائی (افراط زر) کے باوجود پی ٹی آئی کی ٹیکس وصولی جمود کا شکار رہی اور جی ڈی پی کے فیصد کے لحاظ سے اس میں کمی آئی ہے۔ 

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے مہنگائی میں تین گنا اضافہ کیا، کھانے پینے کی اشیاءمیں پانچ گنا اضافہ ہوا اور اسکے نتیجے میں معاشی نمو میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوئی۔ 

تین سال بعد اگر ہم پی ٹی آئی کے متنازع اور ناقابل اعتبار اعدادوشمار کو قبول کرلی بھی لیں تو بھی فی کس آمدنی کے لحاظ سے روپے کی حقیقی قدر میں جی ڈی پی کم ہوا ۔ جی ڈی پی پر کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) حکومت کے آخری برس جی ڈی پی کی شرح نمو 5.8 فیصد تھی جو 16 سال میں بلند ترین تھی۔ 

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پانچ سال کے دوران ہر سال جی ڈی پی 4 فیصد سے زائد کی شرح سے مسلسل بڑھ رہا تھا۔ پی ٹی آئی کے دور میں جی ڈی پی میں نمایاں اور مسلسل کمی آئی ۔ 2019 میں 2.1 فیصد اور 2020 میں منفی 0.5 فیصد شرح نمو رہی جو 1952 کے بعد سب سے کم ترین سطح تھی۔ 

پی ٹی آئی 2021 میں شرح نمو 3.9 فیصد ہونے کا دعوی کررہی ہے لیکن اس دعوے کو غیرجانبدار معاشی ماہرین چیلنج کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا یہ دعوی بالفرض مان بھی لیا جائے تو بھی تین سال میں پی ٹی آئی کے دور کی اوسط جی ڈی پی شرح نمو1.8 فیصد بنتی ہے جو آبادی میں اضافے کی رفتار کی شرح سے کم ہے۔ 

بے روزگاری اور غربت کے حوالے سے کہا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت کی غلط پالیسیز اور بدانتظامی سے ملک میں بے روز گاری اور غربت میں خوفناک اضافہ ہوا ہے۔ اسکے نتیجے میں 50 لاکھ پاکستانی بے روزگار ہوگئے جبکہ اضافی 2 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے۔ تین سال میں پی ٹی آئی نے اضافی 50 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کردیا۔ 

آج پاکستان میں بے روزگار افراد کی تعداد تقریبا 85 لاکھ ہے اور ملک میں بے روزگاری کی شرح تقریبا 15 فیصد ہے جو ملک کی تاریخ میں بے روزگاری کی سب سے بلند ترین شرح ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو 2013 میں جب وفاقی حکومت کی ذمہ داری ملی تو تقریبا ساڑھے 7 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ 

پانچ سال کے دور حکومت میں غربت کے خاتمے کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) 2 کروڑ لوگوں کو بدترین غربت کے شکنجے سے نکالنے میں کامیاب ہوئی۔ پی ٹی آئی کی غریب کُش اور غلط پالیسیز کے باعث تین سال سے بھی کم عرصے میں 2 کروڑ مزید لوگ بدترین غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ 

اس طرح عمران خان نے ”غربت“ ختم کی اور اس تمام محنت پر پانی پھیر دیا جو پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے پانچ سال کے دور میں دن رات کی تھی۔ مہنگائی (افراط زر) اور حقیقی آمدنی پر کہا گیا کہ غیر ہنرمندافراد کی حقیقی آمدن گزشتہ تین سال میں 18 فیصد کم ہوچکی ہے۔ 

وفاقی اور صوبائی عوامی ترقیاتی (پبلک ڈویلپمنٹ) اخراجات میں جی ڈی پی کے تعلق سے تقریبا نصف یا 2.5 فیصد کمی ہوئی، جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کی نسبت سے اس کمی نے بے روزگاری کو مزید بڑھایا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے اختتام کے بعد آٹے (گندم) کی قیمت 70 روپے فی کلو اور چینی کی قیمت 110 روپے کلو ہے۔

پی ٹی آئی حکومت ریونیو بڑھانے میں ناکام رہی اور اس نے ہماری قومی سلامتی کو ایک ایسے وقت میں خطرات سے دوچار کردیا ہے جب ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہت سارے مسائل درپیش ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت ہر سال ملک پر 4747 ارب روپے کا بوجھ بڑھا رہی ہے اور اس کے بدلے ملک میں کچھ بھی تعمیروترقی نہیں کرسکی۔ 

اس کے برعکس پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 2132 ارب روپے ہر سال اوسط قرض لیا اور ملک بھر میں سکول، ہسپتال، بجلی کے کارخانے، موٹر ویز اور سی پیک بنایا۔ تاریخ میں سب سے تیزی سے پی ٹی آئی کے دور میں ملک مقروض ہورہا ہے۔ موجودہ دور حکومت کے محض تین سال میں جی ڈی پی کے تناسب سے حکومتی قرض 68 فیصد سے بڑھ کر تقریبا 80 فیصد ہوچکا ہے۔ 

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر پاکستانی پر جو قرض ہمارے دور میں 7218 روپے تھا، وہ پی ٹی آئی کے دور میں انتہائی تیزی سے بڑھ کر اب 20,871 روپے ہوگیا ہے۔ 

ٹیکس کے حوالے سے کہا گیا کہ ہر سال اضافی ٹیکسوں کی بھرمار کے باوجود پی ٹی آئی حکومت کی ٹیکس وصولیوں میں کاکردگی انتہائی ہولناک رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 1.9 کھرب روپے سے بڑھا کر 2018 میں 3.8 کھرب روپے کر دی تھیں۔ 

پی ٹی آئی اپنے ابتدائی دو سال میں ایف بی آر کے ریونیوز بڑھانے میں ناکام رہی۔ 2019 اور 2020 دونوں سال کے ایف بی آر کے ریونیوز ملا کر 3.8کھرب روپے تھے، جبکہ اس کے مقابلے میں اتنے ریونیوز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے آخری ایک سال میں جمع ہوئے تھے۔ 

پی ٹی آئی ٹیکس ہدف بھی پورے نہ کرسکی۔ 2021 میں 400 ارب ہدف سے کم تھا۔ اس سال افراط زر اور شرح نمو کے مقابلے میں کم ہونے کا امکان ہے ،بظاہر اس معمولی اضافے کا اصل مطلب یہ ہوگا کہ حقیقی معنوں میں اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ 

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنی حکومتی مدت جب مکمل کی تھی تو دوگنا کرنے کے ساتھ ریونیوز جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس جی ڈی پی کا 13 فیصد تھے، جو کم ہوکراب10.9 فیصد پر ہیں۔ بالواسطہ (Indirect) ٹیکسوں کی انتہائی زیادہ شرح کے باعث ٹیکس ڈھانچہ اور بھی مشکل بنادیا گیا ہے۔ 

مالیاتی خسارہ پر کہا گیا کہ عمران خان کے دور میں مالیاتی خسارہ پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین (9.1 فیصد اور8.1 فیصد) ہے اور رواں برس ایک بار پھر بدقسمتی سے بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 8 فیصد سے زیادہ ہوگا۔ تین سال میں پی ٹی آئی بجٹ خسارے 10000 ارب روپے سے بڑھ جائیں گے۔ یہ خسارہ وزیر اعظم کے طور پر نوازشریف کی تینوں حکومتوں کے دور سے زیادہ ہے۔ 

گردشی قرض کے حوالے سے کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے وعدہ کیا تھا کہ بجلی کے شعبے کے گردشی قرض میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوگا۔ بجلی کی قیمت میں 60 فیصدظالمانہ اضافہ کرنے کے باوجود گردشی قرض آج تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اور تاریخ کی تیز ترین رفتار سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔

تازہ ترین