• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موسمِ گرما: گھر میں گرمی سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

کہیں گلیشیئر پگھل رہے ہیں تو کہیں جنگلوں میں آگ لگ رہی ہے۔ گرمی سے لوگ پریشان ہیں۔ گھروں اور دفاتر میں گرمی پر قابو پانے کے لیے ایئر کنڈیشنرز لگائے جا رہے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا رجحان ہے اور پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیاہ متاثر ہونے والے ممالک میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے کئی علاقے ماہِ اپریل سے ہی گرمی کی لپیٹ میں آجاتے ہیں اور اب تو شدید گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) معمول کی بات بنتی جارہی ہے۔ 

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اب شہریوں کو آئے دن خود کو شدید گرمی کی لہر کے لیے تیار کرلینا چاہیے۔ یقیناً، آپ عالمی درجہ حرارت میں کمی تو نہیں کرسکتے اور ناہی وسیع پیمانے پر ایسے اقدام لے سکتے ہیں، جوعمومی طور پر حکومتی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، تاہم آپ اپنے گھر کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کچھ اقدام ضرور لے سکتے ہیں، تاکہ آپ خود کو اور اپنے گھر والوں کو ہیٹ ویو اور شدید گرمی سے محفوظ رکھ سکیں۔ دورانِ سفر اور گھر کے باہر تو آپ کو گرمی برداشت کرنا ہوگی مگر اپنے گھر میں آپ ذیل میں درج اقدام لے کرکسی حد تک گرمی پر قابو پاسکتے ہیں۔

ہریالی سے گرمی کا توڑ

اگر آپ بنگلے یا مکان میں رہتے ہیں تو گھر کے صحن میں یا بیرونی دیوار کے ساتھ مقامی آب و ہوا کے موافق درخت لگائیں۔ اکثر ہم خوبصورتی اور آسانی کے چکر میں ایسے غیرمقامی درخت لگا دیتے ہیں، جو ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کے بجائے مزید گرمی کا باعث بنتے ہیں۔ اسی لیے مقامی آب و ہوا کے موافق درختوں کا لگانا نہایت ضروری ہے۔ 

اگر آپ اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں تو فلیٹ کے اندر چند گملے ایک دم موحول کو تبدیل کر کےاسے خوشگوار بنا دیں گے۔ آئیوی، منی پلانٹ، پیس للی، اسنیک پلانٹ اور لیونڈر کے پودے آپ کے گھر کےماحول کو بہت ترو تازہ اور ٹھنڈا رکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے اپارٹمنٹ کی بالکنی میں چھوٹا سا باغیچہ بناسکتے ہیں توہمارا مشورہ ہے کہ آپ وہاں ان میں سے چند پودے تو ضرور لگائیں۔

کھلی ہوا میں بیٹھک

پاکستان کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے اور اس شدید گرمی میں اگر بجلی نہ ہو تو زیادہ دیر گھر کے اندر رہنا انتہائی اذیت ناک بن جاتا ہے۔ اس لیے اگر آپ کے گھر میں بالکنی یا پھر کھلا ٹیرس ہے تو وہاں بیٹھنے کا انتظام کرتے ہوئے ایک قالین بچھائیں اور چند گدے اور خوبصورت کشن رکھیں۔ اس طرح آپ کے گھر کا بیرونی حصہ خوبصورت اور آرام دہ جگہ میں تبدیل ہوجائے گا، جس میں خوبصورت روشنیاں لگانے سے آپ اس جگہ کا کسی بھی لمحے مزہ لے سکتے ہیں۔

گرمی کو باہر ہی روکیں

پاکستان میںسال کے زیادہ تر مہینے گرمی رہتی ہے، کیوں کہ یہاں سردیوں کے مقابلے میں گرم موسم کا دورانیہ زیادہ ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں اپریل سے شروع ہونے والی گرمی اکتوبر کے اواخر تک جاری رہتی ہے۔ گرمیوں میں گھر کی کھڑکیوں کو ڈھانپے بنا چھوڑ دینا غیر ضروری دھوپ کو گھر میں مدعو کرنے کے مترادف ہوتاہے۔ 

اس لیے آپ اپنے گھر کی کھڑکیوں کو کاٹن کے پردوں سے ڈھانپیں تاکہ یہ غیر ضروری دھوپ کو گھر کے اندر داخل ہونے سے روک سکیں لیکن تازہ ہوا اندر آتی رہے۔ اس مقصدکے لیے آپ رومن بلائنڈز بھی استعمال کر سکتے ہیں، اس سے آپ کو بہت خوبصورت اور دیہی انداز ملے گا، یہ آپ کے کمرے کو ٹھنڈا بھی رکھ سکتے ہیں۔

رنگوں کا انتخاب احتیاط کے ساتھ

گہرے رنگ اپنے اندر زیادہ گرمی جذب کرتے ہیں، جب کہ ہلکے رنگ گرمی کو منعکس کرتے ہیں، جس کے باعث آپ کا کمرہ ٹھنڈا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر گھر میں خاص طور پر گرمیوں میں ہلکے رنگوں کا استعمال کیا جائےتو بہتر رہتا ہے۔ سفید اور کریم رنگ کی دیواریں اور چھت آپ کے گھر کو گرمیوںکے لیے تیار کرنے کے لیے بالکل زبردست ہیں۔ اگر آپ کو ڈر ہے کہ اس طرح آپ کا گھر بہت غیر دلچسپ ہو جائے گا تو آپ رنگین کشن اور قالین کا اضافہ کر دیں۔

بچوں کیلئے انتظام

گرمی کا موسم بڑوں کے لیے جہاں گرمی اور نمی سے بھرا ہوتا ہے، وہاں اس موسم میں بچوں کی گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں اور وہ ان چھٹیوں میں خوب مزے کرتے ہیں۔ آجکل تو کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش ہے اور بچوں کا بیشتر وقت گھر پر ہی گزر رہاہے۔ اگر آپ شہر میں رہتے ہیں تو اپنے بچوں کے لیے موسم گرما کی مطابقت سے کچھ چیزوں کا اضافہ کریں۔ کوشش کریں کہ گرمیوں میں آپ کا بچہ فون اور ٹیب کے قریب ہونے کے بجائے قدرت کے زیادہ قریب ہو۔

انسولیشن

فرش اور دیواروں کی انسولیشن گرمی کو کم کرسکتی ہے۔ انسولیشن کی چار عام اقسام ہیں، جو آپ کے گھر میں گرمی کی شدت میں کمی لاسکتی ہیں:

1۔ اسپرے فوم انسولیشن :اس قسم کی انسولیشن اسپرے ہولڈر کی مدد سے کی جاتی ہے۔ گھرکے مخصوص مقامات پرکنٹینرز کے ذریعے اسپرے کیا جاتاہے۔

2۔ فائبر گلاس انسولیشن :انسولیشن کی یہ سب سے عام قسم ہے جو رُخنوں یا خالی جگہوں میں لگائی جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا سستا ہونا ہے اور یہ گھر میں لگانے کیلئے سب سے آسان انسولیشن بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سے آپ کاگھر متاثرنہیں ہوتا۔ فائبر گلاس انسولیشن میں آگ نہیں لگتی اور آپ کا گھر محفوظ رہتاہے۔ اسی لئے زیادہ تر لوگ فائبر گلاس انسولیشن کو ترجیح دیتے ہیں۔

3۔منرل وول انسولیشن :منرل وول انسولیشن کو راک وول انسولیشن بھی کہتے ہیں۔ یہ بھی فائبر گلاس کی طرح ہوتی ہےا ور لگانے میں آسان ہے ۔ یہ تھیلوں میں آتی ہے اور تھیلوںسے مخصوص جگہوں پر براہ راست انڈیل دی جاتی ہے۔ 

یہ انسولیشن بلند درجہ حرارت کو بھی برداشت کرتی ہے، یہاں تک کہ انسولیشن کی دیگر اقسام کے مقابلے میں1000ڈگری درجہ حرارت بھی برداشت کرلیتی ہے۔ ا س مٹیریل سے انسولیشن کروانے کےبعد گھر سائونڈ پروف بھی رہتاہے۔

4۔سیلولوز انسولیشن :اگر آپ اپنے گھر کی انسولیشن کیلئے ’اورگینک‘ طریقہ ڈھونڈ رہے ہیں تو سیلولوز انسولیشن آپ کیلئے بہترین ہے۔ اس قسم کی انسولیشن زیادہ تر ری سائیکل کیے گئے کاغذوں، خاص طورپر اخبارات سے کی جاتی ہے جبکہ کارڈبورڈ اور دیگر اقسام کے کاغذ بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ یہ مٹیریل پھر کیمیکلزکے ذریعے انسولیشن میں ڈھالا جاتاہے اور یہ انسولیشن گھر کو نمی، گرمی اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتی ہے۔