• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سگریٹ نوشی دنیا بھر میں زیادہ اموات کا باعث ہے‘ملک عمران

پشاور (جنگ نیوز) ٹو بیکو فری کڈز مہم کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے سوسائٹی(سپارک)کی پاکستان میں تمباکو مصنوعات پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے کے مطالبہ کے لئے پری بجٹ ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2017 سے تمباکو ٹیکس میں خالص اضافہ نہیں ہوا ۔اس کے برعکس صحت کی لاگت جی ڈی پی کا 1.6 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق تمباکو کے استعمال سے متعلقہ بیماریوں کی دیکھ بھال کے اخراجات پر ( تمباکو کے استعمال کی وجہ سے) معیشت پر 615 ارب لاگت آئے گی۔ دنیا بھر میں حکومتیں تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس عائد کرتی ہیں، بالخصوص پاکستان کے لئے صحت کے خسارے کو متوازن کرنے کے لئے ٹیکسوں میں اضافہ کرنا ضروری ہے نیز تمباکو مصنوعات کے ایکسائز ٹیکس میں اضافہ صحت کے مقصد کے حصول کے لئے سب سے اہم ہے۔ پروگرام منیجرخلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ پاکستان میں صحت کا نگہداشت کا نظام ناکافی ، غیر موثر اور مہنگا ہے۔ صحت کے شعبے میں خراب حالات کی وجہ متعدد عوامل سے منسوب کیا جاسکتا ہے جیسے غربت ، غذائی قلت ، صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی ، صحت کے لئے ناکافی مختص رقم ، آبادی میں اضافہ اور بچوںمیں اموات وغیرہ۔ اقتصادی سروے آف پاکستان (2005-06) کے مطابق ، حکومت نے اپنی آبادی کو صحت مند اور مضبوط بنانے کے لئے جی ڈی پی کا 0.75 فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کیا۔ تمباکو ٹیکس عائد کرکے حکومت صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے خاطر خواہ فنڈز تیار کرسکتی ہے۔سگریٹ نوشی دنیا بھر میںزیادہ اموات کا باعث ہے ، تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہر سال عالمی سطح پر 80 لاکھ اموات ہوتی ہیں ، تقریبا 80 فیصد تمباکو نوش کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں اور اپنی زیادہ تر آمدنی تمباکو کی مصنوعات پر خرچ کرتے ہیں ۔
پشاور سے مزید