• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں کورونا سے طرز زندگی تبدیل، بالغ افراد دن میں اوسطاً 3 گھنٹے 47 منٹ آن لائن رہنے لگے

لندن (سعید نیازی) کورونا وبا نے طرز زندگی کو یکسر تبدیل کردیا ہے اور اب برطانیہ میں بالغ افراد دن میں اوسطً تین گھنٹے اور 47 منٹ آن لائن رہ کر گزارنے لگے ہیں۔ فرانس اور جرمنی کی نسبت برطانوی اسکرین کے سامنے ایک گھنٹہ زائد گزار رہے ہیں۔ آف کام کے ایک سروے کے مطابق نہ صرف کام بلکہ تفریح اور سماجی سرگرمیوں کیلئے بھی آن لائن رہ کر کام کیا جارہا ہے۔ آن لائن شاپنگ میں 48 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی مالیت اب 113 بلین پونڈ تک جا پہنچی ہے، وبا کے دوران وقت گزارنے کیلئے آن لائن گیم کھیلنے کے رحجان میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، سروے کے دوران 62 فیصد بالغ افراد اور 16 سے 24 سال کے 92 فیصد افراد نے کہا کہ وہ وقت گزارنے کیلئے کمپیوٹر گیمز کھیلتے ہیں۔ زوم کو وبا کے دوران زبردست پذیرائی ملی، 2020ء کے ابتدائی دو ماہ کے دوران اسے چند ہزار افراد استعمال کر رہے تھے لیکن اپریل اور مئی میں اسے استعمال کرنے والوں کی تعداد 13 ملین تک پہنچ گئی تھی۔ لوگوں نے میڈیا ایپس، ڈزنی پلس، نیٹ فلیکس اور یوٹیوب وغیرہ پر 2.45 ملین پائونڈ کی رقم خرچ کی۔ ٹک ٹاک کی مقبولیت میں بھی زبردست اضافہ ہوا، ستمبر 2019ء میں اس کے وزیٹرز کی تعداد تین ملین تھی جو کہ اس سال مارچ میں بڑھ کر 14 ملین تک جا پہنچی تھی۔ سروے میں نصف بالغ افراد نے کہا کہ معلومات اور خبروں کے حصول ان کے آن لائن جانے کا بنیادی مقصد تھا لیکن اکثر غلط معلومات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 46 فیصد نے کہا کہ کورونا وبا سے متعلق انتہائی غلط معلومات ملیں۔ 2021ء کے ابتدا میں ماسک سے متعلق یہ خبر پھیلائی گئی کہ اسے پہننے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ کہ کورونا وبا سے ہونے والی اموات کی جو تعداد بتائی جارہی ہے اصل تعداد اس سے کم ہے۔ فیس بک استعمال کرنے والے 16 فیسد افراد نے کہا کہ وہ اس پر اعتماد کرتے ہیں وبا کے دوران ’’رومانس فراڈ‘‘ کے واقعات میں 12 فیصد ہوا اور لوگ 18.5 ملین پائونڈ سے محروم ہوگئے۔ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 64 برس کے ہر پانچ میں سے ایک معاشی طور پر کمزور ہر 10 میں سے ایک گھر میں انٹرنیٹ سے محروم ہے جس کے سبب ڈیجیٹل تقسیم نے معاشرتی طور پر تقسیم کردیا ہے ۔ ڈیجیٹل تقسیم کا سامنا اسکول کے چند طلبہ کو بھی ہے۔ تقریباً اسکول کے تمام طلبہ کو انٹرنیٹ تک رسائی ہے لیکن 4 فیصد موبائل کے ذریعے رسائی حاصل کر پائے ہیں اور ہر پانچ میں سے ایک بچے کے پاس اسکول کا ہوم ورک کرنے کیلئے مناسب کمپیوٹر نہیں ہے۔ آن لائن وقت گزارنے والے صرف نصف طلبہ نے منفی رویہ کی شکایت کی ہے۔

یورپ سے سے مزید