• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حال ہی میں کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے شہر لندن میں دہشت گردی، نفرت اور مذہبی تعصب پر مبنی جو خوفناک واقعہ رونما ہوا جس میں چار پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ایک کمسن بچہ شدید زخمی ہوگیا۔ یہ خوفناک حادثہ درحقیقت حادثہ نہیں بلکہ ایک بیس سالہ کینیڈین نوجوان ڈرائیورکے اسلامو فوبیا، مسلمانوں سے حد درجہ نفرت کا شاخسانہ تھا۔ اس کینیڈین نوجوان نے اپنے ہر بیان میں یہ بات دہرائی کہ اس کو مسلمانوں سے نفرت ہے میں نے جان بوجھ کر پاکستانی فیملی پر اپنی گاڑی چڑھا ئی۔

پاکستانی خاندان کے ہلاک ہونے والے چار افراد میں بچوں کی دادی بھی ہیں،جو ان سے ملنے آئی تھیں، اس واقعہ کے وقت ان لوگوں کے ساتھ ہی چہل قدمی کررہی تھیں۔ اسلامو فوبیا کا شکار بیس سالہ کینیڈین نوجوان ہر جگہ مطمئن نظر آیا۔ لگتا ہے کہ اس کو اپنے اندوہناک مجرمانہ فعل پرکوئی افسوس نہیں ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ سے تقریباً بیس کلومیٹر دور ایک مال پر پارکنگ میں اپنی گاڑی کھڑی کی اور وہاں موجود لوگوں سے ہنس کر کہا کہ کوئی پولیس کو فون کر دے میں ابھی کچھ لوگوں کو ہلاک کر کے آیا ہوں۔

اس اندوہناک انسانیت سوز واقعہ نے نہ صرف کینیڈا اور پاکستان کے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ بیش تر ممالک بھی اس واقعہ پر حیرت زدہ اور فکر مند ہیں۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کینیڈا کا شمار دنیا کے دس پرامن، مہذب اور مل جل کر رہنے والوں کے ملک میں ہوتا ہے۔

حادثہ کی اطلاع ملتے ہی سب سے پہلے شہر کا میئر، پولیس چیف اور متعلقہ ادارے جائے وقوع پر پہنچ گئے پھر کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے فوری بیان میں کہا کہ کینیڈا میں اسلامو فوبیا، نفرت یا تعصب کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ یہ ایک مثبت روایت رہی کہ شہریوں کی بڑی تعداد جائے وقوع پر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئی اور اس جگہ احترام میں پھولوں کے ڈھیر لگا دیئے۔ کینیڈا کی انسان حقوق کی تنظیم نے اپنے طور پر متاثرہ خاندان کے لئے چندہ کی اپیل اور بتایا جاتا ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں تنظیم کے پاس ڈیڑھ کروڑ کے قریب کینیڈین ڈالر جمع ہوگئے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم جسٹن ٹریڈو اور شہر کے میئر نے جو امدادی رقومات و مراعات کا اعلان کیا ہے یہ الگ ہیں۔

واضح رہے کہ ستمبر 2017ء میں بھی اسی شہر میں ایک پال مور نامی شخص نے فٹ پاتھ پر چلنے والی پاکستانی خاتون زینب حسین پر اپنی وین چڑھا دی تھی۔ آگے ایک آٹھ سالہ بچی جو اسکارف باندھے ہوئے تھی اسکول جارہی تھی اس شقی القلب درندے نے بچی کو وین سے کچل ڈالا پھر ستم یہ کہ وین واپس موڑ کر زخمی زینب حسین کے پاس آیا جو شدید زخمی فٹ پاتھ پر پڑی تھی اس سنگدل شخص نے پھر زینب حسین کو وین سے کچل ڈالا۔ پال مور نے بھی اعتراف کیا کہ اس کو مسلمانوں سے شدید تفرت ہے اس لئے اس نے یہ سب کچھ کیا۔ اس درندے کے چہرے پر بھی کسی پشیمانی کے آثار نہیں تھے۔اس کے علاوہ ایک نفسیاتی بائیس سالہ نوجوان نے گزشتہ سال ٹورنٹو میںایک فٹ پاتھ پر ٹرک چڑھا کر دس افراد کو ہلاک کیا جب کہ سولہ افراد شدید زخمی ہوگئے تھے۔ 

اس نے پولیس کو جو بیان دیا اس میں اس کے ذہنی نفسیاتی مسائل کا رونا تھا۔ یہ کیس اسلامو فوبیا سے نتھی نہیں تھا، مگر فکر انگیز بات یہ ہے کہ یکایک ٹرک فٹ پاتھ پر چڑھا دیا اور دس افراد کو موقع پر ہلاک کر دیا۔ ہر چند کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر کینیڈین گورے افراد شامل تھے مگر یہ ایک بڑا انسانیت سوز واقعہ تھا۔

کینیڈا کے وزیراعظم ،نرم مزاج انسان دوست اور سب سے ہمدردی رکھنے والی شخصیت ہیں، حالیہ افسوسناک انسانیت سوز واقعہ پر ان کی کارکردگی بلاشبہ قابل ستائش تھی۔ پاکستان کی حکومت، سول سوسائٹی کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تمام مہذب دنیا کو اسلامو فوبیا کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کرنا چاہئے یہ صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے۔ 

تاہم یہ سوال کیا جاتا رہا ہے کہ اسلامو فوبیا کیا ہے؟ یہ ایک ذہنی اختراع ہے، نفسیاتی بیماری ہے، مسلمانوں سے نفرت کرنے، تعصب برتنے کا نام ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور فوبیا مغرب میں پایا جاتا ہے اس کا اظہار گو کم کم نظر آتا ہے۔ وہ زینو فوبیا، یہ غیر ملکیوں سے نفرت پر اکساتا ہے، مگر اسلامو فوبیا مغرب میں جس طرح پھیلتا دکھائی دے رہا ہے اس پر پوری سنجیدگی ، تندہی اور وسیع تر انداز میں جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ز ہر پھیلتا رہا توسب سے زیادہ مغربی معاشروں کے لئے خطرہ پیدا کردے گا۔

گزشتہ برس امریکہ میں ایک معروف غیر سرکاری تنظیم نے امریکہ میں تین ہزار افراد سے سروے کیا اور پوچھا کہ اسلامو فوبیا کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس کے جواب میں 57فیصد امریکیوں نے کہا،اس پر ہماری کوئی رائے نہیں ہے جبکہ 36فیصد کی رائے میں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے، جبکہ باقی نے منفی جواب دیئے۔ اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی ذہن یا تو پروپیگنڈہ کے زیر اثریا سیاسی انتہا پسند عناصر کے نعروں کے زیر اثر فیصلہ کررہا ہے اس کو اپنی ذہنی روش بدلنا ہوگی۔ اگر مغرب منفی سوچ لے کر آگے بڑھے گا تو جواب میں منفی رجحان ہی سامنے آئے گا۔

مغرب کو قدرے سنجیدگی اور غیر جانبداری کھلےذہن کے ساتھ اسلام، اسلامی تعلیمات اور عظیم پیغمبر آنحضرت مصطفیﷺ کی سیرت طیبہ کا جائزہ لینا چاہئے اسلام کا مطلب ہی امن اور سلامتی ہے۔ آج اسلام دنیا کادوسرا بڑا مذہب ہے اگر درست اعداد و شمار سے دیکھا جائے تو اسلام ہی دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے کیونکہ عیسائیت میں مذہب کو نہ ماننے والوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ پیغمبر اسلام حضرت مصطفےٰﷺ کو دنیا کےبڑے فلاسفر دانشوروں اور رہنمائوں نے دنیائے انسانیت کی سب سے عظیم و برتر ہستی تسلیم کیا ہے اس حوالے سے دو سو سے زائد کتابوں کے حوالے پیش کئے جاسکتے ہیں۔ 

ان میں معروف مصنفین ، دانشور اور محقق مائیکل ہارٹ، مارٹن رنگر، کیرن آرم سٹرونگ ، شبلی نعمانی، امام ابن خاطر ، مسز جان میراحمدی اور رسل شامل ہیں۔ ان کے علاوہ درجنوں نام اور ہیں۔مائیکل ہارٹ کی شہرہ آفاق کتاب’’ دنیا کی 100عظیم شخصیات ‘‘میں مصنف نے اپنی تحقیق سے پیغمبر اسلام حضرت مصطفیٰ ﷺ کو پہلے نمبر پر اور حضرت عیسیٰ ؑ کو تیسرے نمبر پر رکھا ہے۔ اس طرح دنیا کی ستر سے زائد زبانوں میں سیرت طیبہؐ پر معرکہ الآرا کتابیں موجود ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کوئی ابہام نہیں کہ دنیا میں پیغمبر اسلام ؐ کے علاوہ اور کوئی شخصیت پیدا ہی نہیں ہوئی جس نے دنیا کے ایک عظیم حصے میں اربوں انسانوں کو اپنا ہم نوا بنایا ہو۔ دنیا میں کوئی اور ہستی آپ کے علاوہ نہیں جس کو اربوں انسان /مسلمان ٹوٹ کر عقیدت کا اظہار کرتے اور احترام کرتے ہوں۔ 

پھر آپ کو معبود حقیقی نے آخری پیغمبر کا بھی درجہ عطا کیا ہے اس کے علاوہ آسمانی صحیفہ قرآن مجید فرقان حمید آپ پر نازل فرمائی جو آج اربوں مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ ان تمام حقائق کو ملحوظ رکھنے کے بعد بھی کسی کے ذہن میں اسلامو فوبیا کی ایک رمق بھی باقی رہتی ہے تو پھر یہ اس فرد کے دماغ کافتور ہے۔

مغربی دنیا کو یہ کھلی حقیقت ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ آج وہ جس ترقی کی منزلوں پر پہنچ کر آپے سے باہر ہو گئی ہے اس ترقی کی بنیاد مسلمانوں نے ہی فراہم کی تھی۔ نشاۃ ثانیہ کی تحریک جس نے یورپی اقوام کو اندھیروں سے نکالا تھا۔ علوم کا ذخیرہ مسلمانوں نے اہل روما اور اہل یونان کے فلاسفر کے علمی ذخیرہ کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اس کو لاطینی سے ترجمہ کرکے عربی زبان میں ڈھالا جس کو پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپ نے اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کرکے اپنے ایوانوں کو منور کیا۔ عرب مسلمانوں کا یہ انسانیت پر بھاری احسان ہے کہ انہوں نے قدیم علوم کو عام کیا جس سے پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپ استفادہ کرکے آج یہاں تک پہنچا۔

اس وقت نفسیاتی بیماری میں یورپی مبتلا ہوتے جارہے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ میں ہر روز شائع ہونے والی ایسی خبروں کو جمع کیا جائے جس کو کم اہمیت کی خبر جانتے ہوئے کسی گوشتہ میں انچ دو انچ جگہ دیدی جاتی ہے تو یہ انبار لگ جائے گا۔ یہ خبریں تواتر سے گزشتہ دس بارہ برسوں سے سامنے آرہی ہیں یہ بھی اسلامو فوبیا سے متعلق ہی ہیں کہ فلاح شہر میں ایک نوجوان نے ایک مسلمان عورت پر چاقو سے حملہ کرکے اس کی ناک کاٹنے کی کوشش کی مگر لوگوں کی مداخلت پر فرار ہوگیا۔ فلاں شہر میں ایک سفید فام شخص نے ایک اردنی باشندے سے تو تو میں میں کے دوران چھرا گھونپ دیا، فلاں کائونٹی میں ایک سفید فام شخص نے ایک نوجوان مسلمان لڑکی کا عبایا پھاڑ کر اسے سڑک پر زدوکوب کرکے فرار ہوگیا۔ ذمہ دار کون سفید فام فرد، شکار اور متاثر کون مسلمان، مرد یا مسلمان عورت۔

فی زمانہ جدید ترقی کی رفتار اور اس کی آسائشات نے یورپ اور امریکہ میں وہاں کےباشندوں کے بڑے طبقے کو احساس محرومی میں مبتلا کر دیاہے، جس کی وجہ سے وہ طرح طرح کی نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا ہورہے ہیں جس کا آسان اظہار اور غم و غصہ ظاہر کرنے کے لئے انہیں اسلامو فوبیا ایک آسان رستہ نظر آرہا ہے جہاں وہ اپنی احساس محرومی کو مسلمانوں سے نفرت اور غصہ کا اظہار کرکے اپنے آپ کو شاید تسکین پہنچا رہے ہیں۔ 

حالیہ اونٹاریو لندن کا واقعہ اور اس سے قبل ہونے والے انسانیت سوز واقعات وہاں ہورہے ہیں، جس ملک کو آج کے دور کا مہذب، پرامن، انسان دوست اور انصاف پسند ملک اور معاشرہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ کینیڈا میں لگ بھگ دنیا کے ہر ملک کا باشندہ آباد ہے۔ وہ وہاں کے قانونی شہری ہیں جن میں مسلمانوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے جن میں ترک، افریقی مسلمان، عرب مسلم، پاکستانی، انڈونیشی، مصری وغیرہ شامل ہیں۔ حال ہی میں ترکی میں ایک سروے کیا گیا جس میں پچاسی فیصد نے بتایا کہ اگر انہیں موقع فراہم کیا گیا تو وہ جرمنی کو اپنا دوسرا وطن بنانا پسند کریں گے۔

سچ یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد تباہ حال جرمنی کو دوبارہ جدید جرمنی بنانے کی جدوجہد میں ترک محنت کشوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ وہ کسی کمپنی کے سربراہ کے طورپر بھی کام کرتے رہے اور خاکروب کے طور پر بھی اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ جرمن قوم بلاشبہ ترک مسلمانوں کو ان کی جفاکش، دیانتداری اور اصول پسندی کی وجہ سے پسند کرتی ہے۔

امریکہ، یورپ، آسٹریلیا ان تمام ملکوں میں مسلمان افریقی ، عرب جنوبی ایشیائی اور مشرقی بعید کے مسلمانوں نے وہاں رہائش اختیار کرنے کے بعد پوری تندہی سے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔ سچ پوچھیں تو ان ملکوں کی ترقی میں ان ممالک کے مسلمانوں کا کردار مثالی رہا ہے۔ اگر تھوڑا ماضی میں جھانکا جائے تو بیسویں صدی کے آغاز سے قبل عالمی جنگ کے اختتام تک برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی بڑی تعداد نے برطانوی فوج میں شمولیت اختیار کرکے جو کارنامے دکھائے ہیں اس کے ثبوت یورپ عسکری عجائب گھروں میں موجود ہیں، یہاں تک کہ پہلا وکٹوریہ کراس بھی ایک مسلمان نے حاصل کیا تھا۔ 

دوسرا سچ یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی عسکری خدمات اور قربانیوں کی وجہ سے آج برطانیہ کا وجود قائم ہے۔ اگر جرمنی نے برطانیہ پر حملہ روک کر پہلے روس سے نمٹنے کے پروگرام نے جنگ کا نقشہ تبدیل کر دیا۔ برصغیر کے مسلمانوں کا یہ بھی احسان ہے کہ بعداز دوسری عالمی جنگ برطانیہ کی تعمیر نو میں باوجود نامساعد حالات اپنا کردار نبھایا۔ مغربی ممالک کے ماہرین تعلیم، سیاسی اور سماجی رہنما فوری طور پر اس منفی رجحان کے تدارک کے لئے اپنا کردار ادا کریں، تاوقتیکہ اسلامو فوبیا کا زہر دور تک سرایت کر جائے اور مغربی معاشروں کے لئے نئے معرکہ سامنے آئیں۔ 

ہمیں اس اہم ترین حقیقت کو ضرور ملحوظ نظر رکھنا چاہئے کہ دنیا کے تقریباً سب ہی سائنس دان اور ماہرین ارضیات و ماحولیات بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ کرۂ ارض کا قدرتی ماحول شدید طور پر متاثر ہو رہا ہے۔ آلودگی کا اژدہا دنیا کو نگلنے کے لئے بتدریج آگے رینگ رہا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اہم معرکہ ہیں ان حالات میں اسلامو فوبیا جیسے لغو تصورات کو فروغ دینا کسی کے لئے بھی مناسب نہیں ہے اور اگر خدانخواستہ یہ منفی رجحان فروغ پاتا رہا تو پھر یہ طے ہے کہ کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

اسلامو فوبیا اور تہذیبوں کے تصادم کا خطرہ

اقوام متحدہ کے اہم مقاصد میںسے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بلاامتیازِ نسل، جنس، زبان یا مذہب، سب کے لیے بنیادی آزادی اور ان کے حقوق کا فروغ و احترام یقینی بنایا جاسکے۔ماضی میں مختلف مذہبی و نسلی گروہ الگ الگ ہوا کرتے تھے اور ان میں باہمی اشتراک بہت کم تھا۔اس لیے اقلیت کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ لیکن جمہوری نظام کے ارتقاء کے باعث کثیرالمذہبی، کثیراللسانی اور کثیرالتہذیبی معاشرے وجود میں آئے اور اقلیتوں کا وجود بڑھاتو عالمی سطح پراقلیتوں کے حقوق کی اہمیت شدّت سے محسوس کی گئی جس کی بنا پر بین الاقوامی قوانین میں اقلیتوں کے حقوق کو ملحوظ رکھا گیا۔ 

عالمی انسانی حقوق کی ضرورت و اہمیت درحقیت انسانی فطرت کا نتیجہ ہے۔ انسان فطری طور پر امن اور انصاف پسندہے، لیکن جب انسانیت کے دشمن نفرت کی آگ بھڑکادیںتو انسان اپنی فطرت سے ہٹ جاتا ہے۔ اہلیانِ مغرب بدقسمتی سے مختلف ادوار میں اپنے مخالفین کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈے کو بہ طور ہتھیار استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایسا ہی پروپیگنڈااسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیاگیا،خصوصانائن الیون کے واقعے کے بعد اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر دکھایا جاتارہا جس کے نتیجے میں نفرت کی یہ آگ تیزی سے پھیلی جس نے اہلیانِ مغرب کو اسلاموفوبیا کا شکار کردیاہے۔ نتیجتاً دہشت گردی میں اضافہ ہورہاہے۔

فوبیا کا مرض دراصل Neologism کی جدید شکل ہے۔یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جس میں مریض کوئی اجنبی شئےدیکھ کر ڈر اور خوف محسوس کرتا ہے۔ مغرب میں اسلام اور مسلمانوں سے خوف و کراہت کو لے کر اسلاموفوبیا کا مرض شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اسلاموفوبیا کی اصطلاح پرانی ہے لیکن اس کا بڑے پیمانے پہ استعمال نائن الیون کے واقعے کے بعد دیکھنے میں آیا جس کی آڑلے کر مغربی ذرایع ابلاغ نے اسلام کے خلاف ایک منظم مہم چلائی اور مسلمانوں کو دہشت گرد بناکر پیش کیا جانے لگا۔ 

اس ضمن میں مغربی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے اسلام کی بھیانک و وحشیانہ تصویر کشی کی اور موقعےسے فایدہ اٹھاتے ہوے بھارت کا ہندوتوا میڈیا بھی اس روش پہ چل نکلا۔ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد وہاں ایسی خبریں اور رپورٹیں شائع کی جانے لگیںجن میں مسلمانوں کو مغرب کا دشمن دکھایا جاتا، قرآن مجید کے بارے میں منفی پروپیگنڈا کیا گیا۔

مخصوص مغربی میڈیا ایک خاص ایجنڈے پر عمل پیرا رہا ہے اور اسلام مخالف پروپیگنڈوں میں انتہائی مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا۔ اسلام کو مغربی تہذیب و ثقافت اور مغربی دنیاکا دشمن دکھایا گیا۔ کسی ایک کردار کولے کر اسے اس طرح اچھالا گیا کہ فرد یا چند افراد کے گروہ کو تمام عالم اسلام کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ دوسری طرف سفید فام دہشت گردی White Terrorism کو ایک فرد کی غلطی بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔چناں چہ آج پھیلتی ہوئی اسلاموفوبیا کی بیماری تہذیبوں کے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔

قرآن مجید کے ساتھ گوانتا نامو بے اور ابوغرائب جیل میں جو توہین آمیز سلوک کیا گیا وہ اسلاموفوبیا ہی کا نتیجہ تھا۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ میں جس طرح مساجد کے اندر مسلمانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ تہذیبوں کے تصادم کی طرف بڑھتا ہوا قدم تھا۔ آئے روز یورپ کے کسی نہ کسی علاقے میں مسلمانوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک اور مقدس ہستیوں کے توہین آمیز خاکےبنانا بھی تہذیبوں کے تصادم کی راہ کھول رہے ہیں۔

ہالینڈ میں ایک اسلام دشمن شدت پسند تنظیم کی جانب سے توہین قرآن کے واقعے پر تمام عالم اسلام میں غم و غصہ پھیلا۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل گٹیرس نے دورہ سعودی عرب کے موقعے پر اسلاموفوبیا کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔اسلاموفوبیا میں اہلیانِ مغرب اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ انہیں نہتے مسلمانوں پر ہونے والا ظلم و ستم نظر نہیں آتا۔

اسلامو فوبیا کا شکا ر شخص اس واہمے کا اسیر ہوجاتاہے کہ تمام یا بیش تر مسلمان مذہبی جنون کی وجہ سے غیر مسلموں کے خلاف جارحانہ رویہ رکھتے ہیں۔ایسا شخص یہ یقین رکھتاہے کہ اسلام رواداری، مساوات اورجمہوریت کو یک سر مسترد کرتا ہے۔ اسلامو فوبیا کو نسل پرستی کی نئی شکل قرار دیا جاتاہے۔

بعض ماہرینِ سماجیات کے نزدیک اہلیان مغرب کے اسلاموفوبیا کے مرض میں جکڑے رہنےکا عمل اور عالمی اداروں کی غفلت تہذیبوں کے تصادم کے طورپر سامنے آسکتی ہے۔

اسلامو فوبیا

اسلاموفوبیا (اسلام کا خوف )کی اصطلاح دراصل لفظ’ ’اسلام‘‘ اور یونانی لفظ ’’فوبیا‘‘ (یعنی ڈر جانا) کا مجموعہ ہے۔ اس سے غیر مسلم ’’ اسلامی تہذیب سے ڈرنا‘‘ اور’ ’ نسلیتِ مسلم گروہ سے ڈرنا‘ ‘کا مطلب لیتے ہیں۔ جب غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بھڑکا یاجاتاہے یا اس بارے میں غلط اور تحریف شدہ معلومات دی جاتی ہیں تو ان کے دلوں میں اسلام کا خوف داخل ہوجاتاہے۔ اسے اسلاموفوبیا کہا جاتا ہے۔

یہ انگریزی زبان کاایک نسبتاجدید لفظ ہے جواب ایک اصطلاح بھی بن چکا ہے۔اس کا مفہوم بے جا طرف داری، نسلی امتیاز اور لڑائی کی آگ بھڑکانا طے کیا گیا ہے۔ بہت سے افراد نے اس کی ایک شناخت یہ بھی کرائی ہے کہ یہ لفظ مسلمانوں یا پھر ان کی شدت پسندی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کے استعمال کا آغاز 1976 سے ہوا، لیکن بیسویں صدی کی اسّی اور نوّے کی ابتدائی دہائیوں میں اس کا استعمال بہت ہی کم رہا۔ 11 ستمبر 2011 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد کثرت سے یہ استعمال ہونے لگا۔

انگریزی زبان میں مستعمل یہ لفظ دنیا کی بیش تر زبانوں میں اسلام سے خوف و دہشت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ برطانیا کے ایک ادارے runnymadeنے1997میں ایک دستاویز’’ islamophobia:a challeng for us all‘‘۔’’اسلاموفوبیا: ہم سب کے لیے ایک چیلنج‘‘ کے عنوان سے جاری کی تھی، جس میں اسلاموفوبیا کی تعریف متعین کرتے ہوئے اس کے آٹھ نکات بتائے گئے تھے ۔اس تعریف کو آج وسیع پیمانے پر بہ شمول’’ european monitorang centre on racism and xenophobia‘‘ تسلیم کیا جاتا ہے۔اس کے بعد اس نے2004میں ایک فالو اپ رپورٹ،بہ عنوان ’’اسلامو فوبیا ایشوز، چیلنجز اور ایکشن ‘‘ شائع کی۔ اس تعریف کے آٹھ اجزاءدرجِ ذیل ہیں:

(1)اسلام کو وہ ایک موحد، جامد اور تبدیلی مخالف مذہب تصور کرتے ہیں؎

(2)وہ اسلام کو ایک علیحدہ اور منفرد مذہب سمجھتے ہیں جس میں مشترک تہذیبی قدریں نہیں ہیں اور دوسروں کے اثرات قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

(3)اسلام’’ تہذیبوں کے تصادم‘‘کے نظریےپر عمل پیرا ہے، جو تشدد، جارحیت اور دہشت گردی کو شہ دیتا ہے۔

(4)اسلام کووہ مغرب کے مقابلے میں کم تر تصور کرتے ہیں، اسے غیر عقلی، جاہلانہ اور شہوت زدہ گردانتے ہیں۔

(5)اسلام کو وہ ایک سیاسی نظریہ تصور کرتے ہیں، جو سیاسی یا فوجی فائدےکےلیےاستعمال کیا جاتاہے۔

(6)ان کے نزدیک اسلام پر مغرب کی تنقید کو بغیر کسی حجت کے مسترد کردیاجاتاہے۔

(7)اسلام کے خلاف معاندانہ ومخاصمانہ رویے کو مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور انہیں معاشرہ سے الگ تھلگ رکھنے کےلیے لہ طور ِجواز استعمال کیا جاتاہے۔

(8)مسلمانوں کے خلاف مخاصمت کو قدرتی یا معمول کا رد عمل قرار دیا جاتا ہے۔

اس رپورٹ میںاسلاموفوبیا کی وجہ سے مسلمانوں کو درپیش مشکلات اور حقیقی مسائل کا احاطہ مبسوط انداز میں کیا گیاہے۔

فرانسیسی مصنفین کے نزدیک اس لفظ کا استعمال سب سے پہلے مالیہ ایمیلی نے ’’ثقافت اور وحشیت‘‘ کے عنوان سےتحریر کردہ مقالے میں کیاجسے 1994 ء میں فرانس کے ایک اخبار لیمنڈا نے شائع کیا تھا۔1998ء میں صہیب بن الشیخ نے اپنی کتاب Marianne et le Prophète (ص:171) میں اس لفظ کو ایک باب کے عنوان کے طور پر لیا۔ 

عالمی سطح پر اس لفظ کا استعمال خوب ہوا، خصوصا 11ستمر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد روایت پسند اسلامی جماعتوں کی طرف سے رد عمل کے طور پر اس لفظ کو خوب فروغ دیا گیا۔