• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈنمارک پرامریکہ کیلئے جاسوسی کا الزام، جرمنی اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک نے وضاحت مانگ لی

کوپن ہیگن ( نیوزڈیسک/جنگ نیوز) یورپی میڈیا کی ایک تفتیشی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ ڈنمارک کی سیکرٹ سروس نے جرمن سیاست دانوں کی جاسوسی کرنے کے لیے امریکا کے لیے کام کیا تھا ۔دوسری جانب جرمنی اور فرانس نے ڈنمارک سے جاسوسی کرنے پروضاحت مانگ لی ہے۔ یورپی میڈیا کی مشترکہ تفتیش میں بتایا گیا کہ ڈینش سیکرٹ سروس نے جرمن چانسلر انجیلا میرکل اور صدر والٹر اشٹائن مائرسمیت کئی یورپی کی جاسوسی کرنے میں امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی (این ایس اے) کی مدد کی تھی۔ امریکا کی جانب سے اپنے اتحادیوں کی جاسوسی کا معاملہ 2013 ء ہی میں سامنے آ گیا تھا، لیکن یورپی میڈیا کو اب ڈینش ڈیفنس انٹیلی جنس سروس (ایف ای) کے کرتوتوں کا ثبوت ملا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت جرمن چانسلر کے عہدے کے امیدوار ایس پی ڈی پارٹی کے پیر اسٹین بروک کی بھی جاسوسی کی گئی تھی۔ یہ معلومات ڈینش، سوئیڈش اور نارویجین براڈکاسٹروں کی ٹیموں کے علاوہ فرانسیسی و جرمن اخبار اور جرمن پبلک براڈکاسٹروں کو بھی فراہم کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 2015 ء میں ڈنمارک کی حکومت کو علم تھا کہ اس کی خفیہ ایجنسی جاسوسی میں ملوث ہے۔ رپورٹ میں اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ امریکانے ڈینش خفیہ ایجنسی کے ذریعے ناروے، فرانس، سوئیڈن، جرمنی اور ہالینڈ کے سیاست دانوں کی بھی جاسوسی کرائی تھی، جس پر ڈنمارک کی حکومت نے 2020 ء میں خفیہ ایجنسی کی قیادت کو برطرف کردیا تھا۔ ڈنمارک کی خفیہ سروس نے امریکی این ایس اے کو 2012 ء سے 2014 ء تک کوپن ہیگن کے قریب واقع اپنے جاسوسی کے مرکز کے استعمال کی اجازت دی تھی۔رپورٹ کے مطابق ڈینش انٹیلی جنس نے امریکی ایجنسی کو ڈنمارک وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ کے علاوہ ڈنمارک کی اسلحہ ساز کمپنیوں کی جاسوسی کرنے میں بھی مدد کی۔ حتیٰ کہ ایف ای نے این ایس اے کو خود امریکی حکومت کے خلاف جاسوسی کرنے میں بھی تعاون فراہم کیا۔ دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس سروسز کے درمیان جاسوسی میں اتنے بڑے پیمانے پر تعاون کا پتاچلنے کے بعد ڈنمار ک کی حکومت نے گزشتہ برس ایف ای کی پوری قیادت کو برطرف کر دیا تھا۔ سیکرٹ سروس کے ایک ڈینش ماہر تھامس ویگینر فریس کا کہنا ہے کہ ایف ای کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ کس عالمی شراکت دارکے ساتھ سب سے زیادہ مل کر کا م کرسکتی ہے۔دوسری جانب ڈنمارک کی خفیہ ایجنسی کی جانب سے امریکا کے لیے یورپی رہنماؤں کی جاسوسی کرنے پر جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل نے ڈنمارک سے وضاحت طلب کرلی ہے۔فرانس نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے زیر سمندر ڈینش کیبل کا استعمال کر کے یورپی اتحادیوں کی جاسوسی کی تصدیق ہوگئی تو یہ ʼانتہائی سنگین ثابت ہوگی۔جرمن چانسلر اور فرانسیسی صدر نے ڈنمارک سے اس کی انٹیلیجنس سروس کی طرف سے امریکا کے بیرون ملک جاسوسی کرنے والے ادارے این ایس اے کی چوٹی کے یورپی سیاست دانوں کی جاسوسی میں مدد کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل مائیکرون نے اس رپورٹ کے عام ہونے کے بعد ڈنمارک کی خفیہ ایجنسی کے ان اقدامات کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے یہ مذمتی بیان جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد دیا۔مائیکرون نے اس اقدام کو اتحادیوں اور یورپی شراکت داروں کے حوالے سے ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انہوں نے یورپ اور امریکا کے تعلقات کو خوشگوار بنیادوں پر استوار ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ فرانس کے صدر نے واضح کیا کہ ان تعلقات میں شبہات کی گنجایش نہیں ہونی چاہیے۔ فرانسیسی صدر کے بیان کے ساتھ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملات کو بہتر انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں بااعتماد تعلق کا ہونا اہم ہے۔ اس تناظر میں جرمن چانسلر کا لہجہ قدرے نرم خیال سمجھا جا رہا ہے۔ جرمن اور فرانسیسی رہنماؤں کی ملاقات میں اس پر بھی اتفاق کیا گیا کہ واشنگٹن اور کوپن ہیگن کی حکومتوں سے اس معاملے پر مناسب جواب لیا جانا ضروری ہے۔ جس عرصے میں ڈنمارک کی خفیہ ایجنسی نے امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے لیے جاسوسی کی تھی، اس وقت موجودہ خاتون وزیر دفاع ٹرینے برامسن اس منصب پر فائز نہیں تھیں۔ انہوں نے اس میڈیا رپورٹ کے حوالے سے کوئی تصدیقی بیان نہیں دیا، البتہ انہوں نے اس جاسوسی کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول ضرور قرار دیا ہے۔ ڈنمارک کے حکومتی نگرانی میں چلنے والے نشریاتی ادارے کے مطابق ٹرینے برامسن کو 2020ء کے آخری مہینوں میں ملکی خفیہ ادارے کی کارروائی سےآگہی ہوئی تھی۔ ان معلومات کے ملنے کے بعد وزیر دفاع نے ڈینش خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ عہدے داروں کو فارغ کر دیا تھا۔ یہ بھی درست ہے کہ اس وقت ان اہل کاروں کو ملازمتوں سے نکالے جانے کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی تھی۔ڈنمارک ریڈیو کی رپورٹ میں کہا گیا کہ این ایس اے ٹیسٹ میسیجز، ٹیلیفون کالز، انٹرنیٹ ٹریفک بشمول سرچز، چیٹس اور مسیجنگ سروسز تک رسائی حاصل کرسکتی تھی جس میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل، سابق وزیر خارجہ فرینک والٹر اور اس وقت کے اپوزیشن لیڈرپیر اسٹینبرک کی بات چیت بھی شامل تھی۔ ڈنمارک جس علاقے میں واقع ہے، اسے اسکینڈے نیویا کہتے ہیں۔ اسکنڈے نیویا خطے کے دیگر ممالک سوئیڈن اور ناروے نے بھی اپنے ہمسایہ ملک ڈنمارک سے اس جاسوسی کا جواب طلب کیا ہے، جب کہ ناروے کی خاتون وزیر اعظم ایرنا سولبرگ نے اسے نامناسب اور ناقابل قبول قرار دیا۔ سوئیڈن کے وزیر دفاع پیٹر ہلٹکوسٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کے حوالے سے اپنی ڈینش ہم منصب کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان سے پوچھا ہے۔
یورپ سے سے مزید