• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی فلمساز و سماجی کارکن عائشہ سلطانہ کے خلاف غداری کا کیس درج

(مانیٹرنگ ڈیسک) فلمساز و سماجی کارکن عائشہ سلطانہ کے خلاف ملک سے غداری کا کیس درج کیا گیا ہے۔ یہ کیس مقامی بی جے پی لیڈر کی شکایت کے بعد درج کیا گیا ہے جن کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے ایک بیان سے مرکز کی مودی حکومت کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ بی جے پی کارکنوں نے کیرالہ میں بھی عائشہ کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق عائشہ سلطانہ کے خلاف لکشدیپ یونٹ کے بی جے پی صدر عبدالقادر نے کروتّی پولس اسٹیشن میں شکایت لگائی ہے جس کے بعد ان پر دفعہ 124 اے (ملک سے غداری) اور 153 بی (تشدد آمیز بیان) کے تحت کیس درج کر لیا گیا ہے۔ بی جے پی لیڈر عبدالقادر کا الزام ہے کہ عائشہ نے ایک ملیالم چینل پر بحث کے دوران مرکز کے زیر انتظام خطہ (لکشدیپ) میں کورونا سے متعلق جھوٹی خبر پھیلائی۔ انھوں نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت نے لکشدیپ میں کورونا کے پھیلاؤ کے لیے بایو ویپن کا استعمال کیا۔ بی جے پی لیڈر کا مزید کہنا ہے کہ عائشہ کا بیان ملک مخالف ہے ،جس سے مرکزی حکومت کی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔ ایسا دوبارہ نہ ہو اس لیے عائشہ کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔لکشدیپ میں مجوزہ قانون کے خلاف مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی عائشہ سلطانہ نے اپنے اوپر ملک سے غداری کا کیس درج کیے جانے کے بعد ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعہ رد عمل بھی ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ میں نے ٹی وی چینل کی بحث میں بایو ویپن لفظ کا استعمال کیا تھا۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ پٹیل (پرفل پٹیل) اور ان کی پالیسیاں بایو ویپن کی شکل میں ہیں۔ پٹیل اور ان کی پارٹی کے ذریعہ سے ہی لکشدیپ میں کووڈ-19 پھیلا۔ میں نے پٹیل کا موازنہ بایو ویپن سے کیا، حکومت یا ملک سے نہیں۔ آپ کو یہ سمجھنا چاہیے۔لکشدیپ کے چیٹی آتھ جزیرہ کی باشندہ عائشہ سلطانہ ماڈل بھی رہ چکی ہیں اور انھوں نے کئی ملیالم فلموں میں کام کیا ہے۔ عائشہ طویل مدت سے وہاں کی حکومت کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔لکشدیپ ساہتیہ پرورتک سنگم ادارے کا کہنا ہے کہ عائشہ کو غدارِ وطن کہنادرست نہیں ہے۔ انھوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

دل لگی سے مزید