• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں آئندہ چند ہفتوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ بارش ربِ کریم کی جانب سے ہم پر ایک رحمت ہوتی ہے۔ تاہم، ناقص منصوبہ بندی اور دوراندیشی نہ ہونے کے باعث، ہمیں بارش کی وجہ سے کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

اگر ہم گھروں کی بات کریں تو بارشوں میں گھر کی چھت سے پانی ٹپکنا، اے سی فٹنگ سے گھر کے اندر پانی کا رساؤ اور بیرونی کھڑکیوں سے بارش کا پانی اندر آنا، سنگین مسئلہ بن جاتا ہے۔ اور تو اور، رہی سہی کسر، ہمارے ٹاؤن پلانرز اور سول انجینئرز پوری کردیتے ہیں کہ جس طرح وہ شہر کی مرکزی اور اندرونی سڑکیں بناتے ہیں، اس کی بدولت چند سال بعد ہمارے گھر نیچے اور گلیاں اونچی ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ سے گلی محلے کا پانی بھی گھروں میں داخل ہوجاتا ہے۔ 

ہمیں اپنے گھروں کی تعمیرات میں ایسا کیا کرنا چاہیے کہ وہ بارش کے اثرات سے محفوظ رہیں، آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

اہم بات کیا ہے؟

سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ اگر آپ نیا گھر تعمیر کروارہے ہیں تو بارشوں سے محفوظ رہنے کے لیے چھت پر خصوصی توجہ دیں۔ چھت سے بارش کا پانی نکالنے کے لیے نکاسی کے نظام کو ہرگز نظرانداز نہ کریں اور اس میں بچت کے طریقے نکالنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ آپ کی ایک بار کی ایسی سرمایہ کاری ہے، جو طویل عرصے تک آپ کو فائدہ دے گی۔ چھت پر ایک سے زیادہ مقامات پر پانی نکالنے کا نظام بنوائیں، تاکہ اگر ایک جگہ کسی وجہ سے پانی کی نکاسی رُک جائے تو دوسری جگہ سے پانی کا بہاؤ جاری رہے اور کسی طور پر بھی چھت پر پانی رُک نہ پائے۔ 

اگر آپ پُرانی چھت کی مرمت اور بحالی کا کام کرانا چاہتے ہیں تو پلستر میں پڑنے والے کسی بھی شگاف کو نظرانداز نہ کریں۔ اس سلسلے میں آپ سب سے بہترین کام یہ کرسکتے ہیں کہ چھت کی ’واٹر پروف کوٹنگ‘ کرالیں۔ اگر چھت میں سلیب کا استعمال کیا گیا ہے تو، سلیب میں آنے والے شگافوں کو سفید سیمنٹ سے بھریں۔ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ چھت کی سطح پوری طرح ہموار ہو اور پانی آسانی کے ساتھ بیچ چھت میں کہیں رُکے بغیر بہہ جائے۔

ایئرکنڈیشنر کیسے لگانا چاہیے؟

بڑھتے درجہ حرارت کے باعث آج کے زمانے میں ایئرکنڈیشنر کا استعمال بڑھ گیا ہے اور گھر کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ایئرکنڈیشنر چند بنیادی لوازمات میں شامل ہوتا ہے۔ تاہم، ایئرکنڈیشنر کی تنصیب کے لیے آپ کو کسی ماہر اِنسٹالر کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں یا پھر آپ جس برانڈ کا ایئرکنڈیشنر خرید رہے ہیں، اس کے ڈیلرز خود بھی تنصیب کرنے کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ 

دیوار میں ایئرکنڈیشنر کی تنصیب کے بعد اس کی انسولیشن پر خصوصی توجہ دیں اور دیوار کے شگاف کی دوبارہ سے اچھی طرح بھرائی کرکے پلستر کروائیں، بصورت دیگر خدشہ رہتا ہے کہ بارش کے وقت اس جگہ سے پانی آپ کے کمرے میں ٹپکتا رہے۔

دیواروں کو محفوظ بنائیں

بیرونی دیواروں کی تعمیر آپ کی توجہ مانگتی ہے۔ اگر پاکستان کے شہروں کی بات کریں تو یہاں پینے کے علاوہ عام استعمال کے لیے میٹھے پانی کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے میں کنکریٹ کے بلاکس بھی کھارے پانی سے بنائے جاتے ہیںاور گھر کی تعمیر میں استعمال کیے جانے پر یہ چند سال بعد ہی گَلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ 

اس لیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ گھر کی تعمیر میں میٹھے پانی کا استعمال کیا جائے۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد جب رنگ روغن کا وقت آئے تو بیرونی دیواروں کے لیے واٹر پروف کوٹنگ کا انتخاب کریں۔ اس طرح دیواریں زیادہ طویل عرصہ تک نمی سے محفوظ رہیں گی۔ ایک اور بات یہ کہ رنگ روغن کرنے سے پہلے دیواروںکے اچھی طرح خشک ہونے کا انتظار کریں، ورنہ پینٹ جلد ہی اُکھڑ جائے گا۔

بجلی کا نظامِ تنصیب

بجلی کی وائرنگ ایک سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وائرنگ ایسی ہو جو لائف ٹائم آپ کا ساتھ نبھائے۔ آجکل کنسیلڈ وائرنگ کا رجحان ہے۔ اگر آپ پرانے گھر میں رہتے ہیں تو مون سون کی بارشوں سے پہلے اس بات کو یقینی بنالیں کہ ساری وائرنگ مکمل طور پر سِیلڈ ہو اور کہیں سے کوئی تار یا سوئچ بورڈ کھُلا ہوا نہ ہو، کیونکہ کُھلی ہوئی وائرنگ سے شارٹ سرکٹ ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

ونڈو شیڈ

بیرونی دیوار میں آپ جہاں جہاں روشنی یا ہوا کی ڈَکٹ اور کھڑکی بنانا چاہتے ہیں، وہاں سَن شیڈ بھی ضرور لگوائیں۔ اس طرح، کھڑکی اور ڈکٹ کے ذریعے بارش کا پانی گھر کے اندر داخل نہیں ہوسکے گا۔