• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہوچکی ہے اور کئی صنعتیں پُرانی ٹیکنالوجی کا استعمال اور کام انجام دینے کے پُرانے طریقہ کار چھوڑ کر اسٹیٹ آف دا آرٹ ٹیکنالوجی اپنا چکی ہیں۔ تاہم، تعمیراتی صنعت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اب بھی 50برس پرانی پیداواری صلاحیت پر کام کررہی ہے، حالانکہ حالیہ چند برسوں میں اور خصوصاً کورونا وبا کے بعد اس صنعت کو بھی جدید انداز اپنانے پڑرہے ہیں۔

اگر چند سال پہلے کی بات کریں تو عالمی تعمیراتی صنعت میں ٹیکنالوجی کا کردار نہ ہونے کے برابر تھا اور تعمیراتی ادارے روایتی اندازچھوڑ کر جدت اپنانے کو تیار نہیں تھے۔ البتہ حالیہ چند برس کے دوران تعمیراتی صنعت نے جدید ٹیکنالوجی کو اختیار کرنا شروع کردیا ہے، جس کے بعد اس صنعت میں کام کرنے کا طریقہ کار بدل کر رہ گیا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کو اختیار کرتے ہوئے دنیا بھر میں کئی تعمیراتی شاہکار پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں یا زیرِ تکمیل ہیں، ان میں دبئی کا برج خلیفہ (دنیا کی اب تک کی بلندترین عمارت) اور ایمسٹرڈیم کی Edge بلڈنگ (دنیا کی سب سے پائیدار یا سسٹین ایبل عمارت) تعمیراتی صنعت میں آنے والی جدت کی بہترین مثالیں ہیں۔

افرادی قوت کی تربیت

اگر ٹیکنالوجی کی بات کریں تو اس شعبہ میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اسی وقت ممکن ہے، جب اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے والی تربیت یافتہ افرادی قوت دستیاب ہوگی یعنی اس شعبہ کی ترقی میں اس کی جامع معلومات کا ہونا اور ہنر مند افرادی قوت کی شمولیت مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ 

تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے لوگ اب معیار اور جمالیات کے علاوہ ماحول دوست تعمیرات پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس شعبے میں نوجوانوں کی آمد نے نئے خیالات و رجحانات کے ساتھ سائنسی انداز میں انتظامی معاملات کوپروان چڑھایا ہے، یہی وجہ ہے کہ ناصرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ ملکی سطح پر بھی ہم جدید طرز کی تعمیرات دیکھ رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی معاشرے میں بہتری کا باعث بنتی ہے اور اس کے استعمال سے مثبت تبدیلیاں دیکھی جاتی ہیں اور کام کرنے کے انداز نہ صرف بدل جاتے ہیں بلکہ آسان بھی ہوجاتے ہیں۔ تعمیراتی صنعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال مجموعی طور پر دنیا کو ایک روشن مستقبل کی طرف لے جارہا ہے، یہ اس لیے بھی ناگزیر بن گیا ہے کیونکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور دیہی آبادی کی شہروں کی طرف نقل مکانی جیسے رجحانات کا پرانے طرز تعمیر سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی مستقبل کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔

21ویں صدی کی بات کریں تو موجودہ صدی کے دوران تعمیراتی شعبہ مثبت انداز میں ترقی و توسیع کے مراحل طے کر رہا ہے اور ہر نئے دن کے ساتھ تعمیراتی آلات اور کام کے انداز میں جدت دیکھی جارہی ہے۔ تعمیراتی صنعت میں ترقی و توسیع کا یہ رجحان پاکستان سمیت دنیا بھر میں پایا جاتا ہے۔ اس ترقی و توسیع میں ویسے تو کئی عوامل شامل ہیں، تاہم سب سے اہم کردار ٹیکنالوجی کا ہے۔

ٹیکنالوجی کا کردار

تربیت یافتہ افرادی قوت کے ساتھ اگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جائے تو اس کے بعد نتائج یقیناً ناقابلِ یقین ہوں گے، یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ تعمیراتی کمپنیوں کو جدید ٹیکنالوجی کو محدود پیمانے پر استعمال میں لانے کے بجائے اسے بڑے پیمانے پر تعمیراتی صنعت کے استعمال میں لانا ہوگا، تاہم پاکستان جیسے ترقی پزیر ملکوں کو اس رجحان کو اپنانے میں نسبتاً زیادہ وقت درکار ہوگا۔

ریئل اسٹیٹ اور تعمیرات کے شعبہ کو دنیا بھر میں انتہائی پُرکشش مانا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں ترقی یافتہ بلکہ یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ترقی پذیر ممالک میں بھی تعمیراتی صنعت کو بہت فروغ ملا ہے، جس کی وجہ یہی ہے کہ سرمایہ کاری اور منافع کے لیے یہ شعبہ ہمیشہ قابلِ بھروسہ رہا ہے اور ہر شخص کے سرمایہ کاری پورٹ فولیو میں ریئل اسٹیٹ ہمیشہ شامل ہوتی ہے۔

ماہرین کا یہی خیال ہے کہ جدت کے اس دور میں جو تعمیراتی کمپنیاں نئے رجحانات اور نئی ٹیکنالوجی کو نہیں اپنائیں گی، وہ ان کمپنیوں سے بہت پیچھے رہ جائیں گی جو بروقت ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ یا وقت سے آگے چلیں گی۔

مستقبل کے امکانات

تعمیراتی صنعت کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہ ان چند شعبہ جات میں شامل ہے، جہاں نہ صرف تربیت یافتہ اور ہنرمند افراد بلکہ کم ہنرمند یا غیرتعلیم یافتہ اور غیرہنرمند افراد بھی کھپ جاتے ہیں اور انھیں کوئی نہ کوئی روزگار مل جاتا ہے۔ 

اگر عالمی سطح پر عوام کو مہنگائی میں اضافے یا آمدن میں مزید کمی کا سامنا کرنا پڑا توتعمیراتی شعبے کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں معمولی سی تبدیلی اس ضمن میں سود مند ثابت ہوتی دکھائی نہیں دیتی، تاہم جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بدولت تعمیراتی صنعت میں معاشی اور ماحولیاتی سطح پر بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

ایسے میں یہ بات اہمیت اختیار کرجاتی ہے کہ تعمیراتی کمپنیاں جدید منصوبوں کو عملی شکل دے کر مارکیٹ میں زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ تعمیراتی شعبے کو ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے جہاں نئی سوچ کے حامل سول انجینئرز کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ انفرادی سطح پر ایک منصوبے کی سوچ رکھنے کے بجائے مجموعی اور طویل مدتی نقطہ نظر کے تحت کام کیا جائے۔ 

انضباطی ماحول کو جدید ضروریات کے مطابق ڈھالنے پر کام کیا جائے۔ نیز، تعمیراتی صنعت میں جدید ٹیکنالوجی اور جدید رجحانات کو اسی وقت بروقت اور مؤثر انداز میں اپنایا جاسکے گا جب نجی شعبہ کے ساتھ ساتھ سرکاری شعبہ بھی اس پر کام کرے ۔