• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پرتشدد واقعہ میں جاں بحق پاکستان نژاد نوجوان کو خراج عقیدت

لوٹن ( نمائندہ جنگ) لوٹن میں منگل کو ایک پرتشدد واقعہ میں جاں بحق ہونے والے پاکستان نژاد 16 سالہ نوجوان حمزہ علی حسین کی فیملی نے اسے خراج تحسین عقیدت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ "انتہائی غمزدہ اور دل شکستہ" ہیں۔ بیڈفورڈشائر پولیس کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایک بیان میں حمزہ کے اہل خانہ نے کہا ہےکہ ایک خاندان کی حیثیت سے ان کے لیے انتہائی افسوسناک نقصان ہے۔ فیملی کا کہنا ہے کہ وہ یہ کہیں گے کہ اس مشکل وقت میں ان کی پرائیوسی کا احترام کیا جائے۔ اس واقعے کے حوالے سے دو نوعمر افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی اس کےمتعلق مزید تفصیل کے مطابق ایک نو عمر لڑکےکو قتل کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس وقت وہ اسپتال میں زیر علاج ہے کیونکہ وہ خود بھی زخمی ہوا ہے جبکہ تشدد اوربدامنی پھیلانے کے شبہ میں گرفتار ہونے والے ایک دوسرے نوعمر لڑکے کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔ پولیس نے متاثرہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہےکہ اس افسوسناک حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے پوری طرح پرعزم ہیں۔ دریں اثناء سوشل میڈیا پر جاری اطلاعات کے مطابق حمزہ کی میت جنازہ کے لیے ریلیز کر دی گئی ہے اور بروز ہفتہ 4 بجے 405 ڈنسٹیل روڈ پر واقع کنگزوے پارک میں نماز جنازہ کا اعلان کیا گیا تھا قبل ازیں جامعہ اسلامیہ غوثیہ لوٹن میں پولیس کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس علامہ قاضی عبد العزیز چشتی کی میزبانی میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی لیڈر لوٹن کونسل راجہ محمد اسلم خان، لوٹن کونسل کمیونٹی سیفٹی افسر، مساجد رہنما پروفیسر مسعود اختر ہزاوی، چوہدری شفاعت، راجہ فیصل حسین، حاجی ملک پنوں خان اور دیگر شریک ہوئے۔ ڈپٹی لیڈر لوٹن کونسل راجہ محمد اسلم خان کے مطابق اجلاس میںسولہ سالہ لڑکے کی جان ضائع ہونے پر تشویش کااظہارکیاگیا۔ ڈپٹی لیڈر لوٹن کونسل راجہ محمد اسلم خان نے جنگ کو بتایا ہے کہ پولیس کے ساتھ منعقد اجلاس میں جاں بحق ہو جائے والے سولہ سالہ لڑکے کی بروقت تدفین جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیالات کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں کمیونٹی اور اداروں کے تعاون کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا اور یہ پیغام دیا گیا ہے کہ نوجوان نسل سے متعلق مسائل کو کم کرنے کے لیے پولیس، والدین، مساجد، سکولوں اور دیگر اداروں کے کردار کو مربوط کرنے کی ضرورت ہے ۔
یورپ سے سے مزید