• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تابش وسیم سمیت تمام لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایاجائے،بی ایس او

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی چیرمین زبیر بلوچ نےتا بش وسیم بلوچ کی بازیابی کے لئے ہفتہ 19 جون کو بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بازیابی کے لئے ہر فورم پہ آواز بلند کی جائے گی۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو صوبائی صدر بابل ملک بلوچ ، سینٹرل کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر طارق بلوچ ، ڈاکٹر عمیر بلوچ ، روبینہ بلوچ کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے بلوچستان سمیت تمام قومی وحدتوں میں ہر ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہےبلوچ طلباء پر گزشتہ دو دہائیوں سے جبر تشویش ناک حد تک بڑھ گیا ہے طلبہ و طالبات اپنے جائز حقوق کے لئے بھی آواز بلند نہیں کرسکتے حتی کے ان کو ان کے بنیادی و جائز حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کامریڈ تابش وسیم بلوچ جو وندر انٹر کالج کے طالب علم اور تنظیم کے وندر زون کے آرگنائزر ہیں ان کو خضدار کے ایک اسپتال سے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا ہے جن کے بارئے میں تاحال کچھ معلوم نہیں کہ کہاں ہیں تابش وسیم بلوچ تنظیم کے دیرینہ ساتھی ور روشن خیال و میر غوث بخش بزنجو کے عدم تشدد کے فلسفہ کے پیروکار ہیں اگر ان کے کسی بھی بیانیہ یا عمل پہ کوئی اعتراض ہے تو تابش وسیم بلوچ کو عدالت میں پیش کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تابش وسیم بلوچ سیاسی کارکن ہونے کے ساتھ براہوئی زبان کے شاعر بھی ہیں جو سماج میںبرائیوں اور خامیوں کو اجاگر کرتے تھےایک سیاسی کارکن کے لئے اس کی جہد و جہد سب کچھ ہوتا ہےبی ایس او پجار کا ہر کارکن اس کا اثاثہ ہے وسیم تابش بھی تنظیم کے کمٹڈ ساتھیوں میں سے ایک ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تابش وسیم بلوچ کی بازیابی کے لئے تنظیم ہر فورم پہ آواز بلند کرے گی بی ایس او پجار اپنے کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے احتجاج کے تمام راستے اختیار کرئے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تابش وسیم بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایاجائے اور اگر ان پہ کسی قسم کا الزام ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ تنظیم نے فیصلہ کیا کہ ہفتہ 19 جون کو بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے اور آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان 19 جون کوکیا جائے گا ۔
کوئٹہ سے مزید