• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کے ’’ٹرائیکا‘‘ کے اختیارات کی ’’مرکزیت‘‘ کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں یار لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ ’’ٹرائیکا‘‘ کو ’’اعلیٰ کلیدی عہدوں‘‘ پر ’’من پسند افسران‘‘ کو تعینات کرنے کے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ 

واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ آئی جی آزاد کشمیر اور آئی جی گلگت پاکستان کے عہدہ پر کی جانے والی حالیہ تعیناتیوں پر بیشتر سینئر افسران میں شدید تحفظات پائے جانے کی کہانیاں سننے میں آ رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سینئر پولیس افسران اس سلسلہ میں ’’تذبذب‘‘ میں مبتلا دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ آزاد کشمیر کے بعض اعلیٰ پولیس افسران نے اپنے سے جونیئر افسر کو آئی جی کے عہدہ پر تقری کے سلسلہ میں ’’احتجاج‘‘ بھی وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام کو ریکارڈ کرایا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کے اہم کلیدی عہدہ پر تعینات کپتان کے ٹرائیکا کے دو ارکان نے آزاد کشمیر کے آنے والے عام انتخابات کے تناظر میں یہ احکامات جاری کروائے ہیں؟

سیاسی بھرتیاں اور میرٹ؟

٭وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ایک وفاقی وزارت میں حالیہ بھرتیوں میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے ایک بڑے سکینڈل میں کے بارے میں کئی کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ بھرتیوں میں ایک وفاقی وزیر اور ایک ایم این اے کے کردار کے بارے میں کئی باتیں سننے میں آ رہی ہیں۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں لندن سے آنے والے ایک نوجوان کا واقعہ بھی سیاسی اور سرکاری محفلوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

مذکورہ نوجوان حکومتی پارٹی کی ’’میرٹ پالیسی ‘‘سے متاثر ہو کر قومی خدمت کے جذبے سے سرشار وطن عزیز کی محبت میں سرکاری نوکری کو حاصل کرنے کے لئے ’’امتحان‘‘ دینے کے لئے پاکستان آیا تھا۔تاہم بعدازاں جب اسے بھرتی کے تمام مراحل سے گزرنے کے بعد معلوم ہواکہ کامیاب ہونے والوں کی فہرست تو وفاقی وزیر اور ان کے دستِ راست ایم این اے کی طرف سے اپنے من پسند امیدواروں کی بنا دی گئی ہے اور ان کو ملازمت کےپروانے جاری کر دیئے گئے ہیں تو وہ مایوس ہو کر واپس لوٹ گیا۔اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان کی طرف سے کی جانے والی شکایت ابھی تک ناانصافی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی منتظر ہے؟

سابق آئی جی کی گلوکاری؟

٭صوبائی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ایک سابق آئی جی پنجاب پولیس کی ’’گلوکاری‘‘ کے چرچے سننے میں آرہے ہیں۔ان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری نوکری کے دوان بھی موسیقی کے دلدادہ تھے اور ایک طویل عرصہ سے فن موسیقی کے اساتذہ سے بھی فیض حاصل کرتے رہے ہیں۔ 

واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ پولیس سروس آف پاکستان میں اس سے قبل ان کے ’’بیج میٹ‘‘ درویش صفت پولیس افسر مرحوم اسرار احمد کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ برصغیر کے نامور موسیقار خواجہ خورشید انورکے ہاتھ پر بیعت تھے اور موسیقی کے علم اور لگن میں وہ ’’یکتائی‘‘ رکھتے تھے۔

گلوکاری کے میدان میں اترنے والے سابق آئی جی آج کل ایک گلوکارہ کے ساتھ گانے گا رہے ہیں اور ان کی گلوکاری سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھارت کے بڑے معروف گلوکاروں سے متاثر ہیں ۔اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس شوق کو مسلسل جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور خود کو ایک پختہ گلوکار کے طور پر منوانا چاہتے ہیں؟

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید