• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا کی وبا، اسکول کے اوقات میں اضافے سے تعلیم اور تدریس کے نقصان کی تکمیل ناممکن نہیں

لندن(پی اے ) ایک سروے کے دوران اسکولوں کے سربراہوں کی بھاری اکثریت نے کہاہے کہ اسکول کے اوقات میں اضافے سےکورونا کے دوران بچوں کو ہونے والےتعلیم اور تدریس کے نقصان کی تکمیل ممکن نہیں ہے،70 فیصد اسکولوں کے سربراہوں کاکہناتھا کہ کورونا کے دوران بچوں کے تعلیمی نقصان کی تکمیل اسکولوں کی جانب سے دوبدو اور چھوٹے گروپوں کی تدریس کے طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہے لیکن حکومت نیشنل ٹیوٹرنگ پروگرام کے ذریعے ایسا نہیں ہوسکتا۔NAHT کے جنرل سیکریٹری پال وہائٹ مین نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ اسکولوں کو اس حوالے سے فنڈز اور وسائل فراہم کئے جائیں کیونکہ اسکول ہی یہ بہتر طورپر جانتے ہیں کہ یہ کام کس طرح انجام دیاجاسکتاہے۔یہ نتائج سر کیون کولنز کی جانب سے حکومت کی جانب سے تعلیم کی ریکوری کیلئے حکومت کی جانب سے 1.4 بلین پونڈ کی فراہمی کی مذمت کرتے ہوئے اس ماہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد سامنے آئے ہیں،سرکیون کولنز کا کہناتھا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کیاجانے ولا فنڈضرورت سے بہت کم ہے ، سرکیون نے اسکولوں میں تدریس کے اوقات میں روزانہ 30 منٹ اضافے کی تجویز دی تھی ،ہوم آفس منسٹر وکٹوریہ ایٹکنز کا کہنا ہے کہ حکومت نے تعلیم کی بحالی کیلئے اپنی کوششوں میں اسکول کے اوقات کار میں اضافے کو خارج ازامکان قرار نہیں دیاہے۔ انگلینڈ میں 700 اسکولوں کے سربراہوں سے ہونے والی بات چیت سے ظاہرہوتاہے کہ اسکولوں کے سربراہوں کی بھاری اکثریت کو یہ یقین نہیں ہے کہ حکومت اسکولوں کے اوقات کے دوران ضائع ہونے والی تدریس کی بحالی کیلئے فنڈز فراہم کرنے کو تیار ہے۔سروے کے دوران جب حکومت کی جانب سے اضافی رقم کے خرچ کیلئے 3 ترجیحات پوچھی گئیں تو 3 فیصد نے حکومت کے نیشنل ٹیوٹورنگ پروگرام اور 2 فیصد نے اضافی تدریس کیلئے اسکول کے اوقات کار میں اضافے کا انتخاب کیا۔سب سے زیادہ لوگوں نے دوبدو اور اسکولوں کے زیر اہتمام چھوٹے گروپوں میں تدریس کے حق میں رائے دی۔70 فیصد نے اسے بچوں کی دماغی جبکہ 63 فیصد نے جسمانی صحت کیلئے اچھا قرار دیاجبکہ 42 فیصد نے حکومت کی جانب سے اضافی فنڈنگ کی ضرورت کااظہار کیاتاکہ اسکول انتہائی غریب طلبہ کی مدد کرسکیں۔وہائٹ مین کاکہناہے کہ نیشنل ٹیوٹورنگ پروگرام اصولی طورپر ایک اچھا آئیڈیا ہے اور اس کے حقیقی معنوں میں مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں لیکن موجود افسر شاہی اور اسکولوں کو اساتذہ کی خدمات کے حصول میں موجودہ دشواریوں کے سبب اس سے مدد ملنے کے بجائے بوجھ میں اضافہ ہوجائے گا۔اسکولوں کے سربراہوں کاکہناہے کلاس رومز میں بچوں کی واپسی کے بعد سے اسکول بچوں کی رہ جانے والی تعلیم کی تکمیل کیلئے پہلے ہی کوشاں ہیں انھیں معلوم ہے کہ کس چیز کی ضرورت وہ حکومت سے صرف سپورٹ چاہتے ہیں۔انھیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ انھیں اپنا کام کس طرح انجام دیناہے وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کو وسائل مہیا کرے اور ان کی پشت پر کھڑی رہے ۔ محکمہ تعلیم کے ریکوری پروگرام میں 6ملین بچوں کو 15 گھنٹے کی تدریس کیلئے ایک بلین پونڈ شامل کئے گئے ہیں جبکہ تدریس کیلئے 218 ملین پونڈ براہ راست این ٹی پی کے تحت فراہم کئے جائیں گے۔اسکول 579 ملین پونڈ کے فنڈز سے نئے اور اسکول کے موجودہ عملے کے ذریعے مقامی سطح پر تدریس کا انتظام کرسکیں گے۔

یورپ سے سے مزید