• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوویڈ سے اموات روکنے کیلئے تحقیقی ماہرین نے جان بچانے والا نیا علاج دریافت کرلیا

لندن (پی اے) کوویڈ سے ہونے والی اموات روکنے کے لئے ایک سستا سٹریو دریافت ہونے کے ٹھیک ایک سال بعد زندگی بچانے والا ایک اور علاج دریافت کر لیا گیا۔ تحقیقی ماہرین نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جان بچانے والی ایک اور تھراپی مل گئی ہے۔ یہ ایک مہنگا علاج ہے، جس میں جسم کے سوزش آمیز ردعمل کو نم کرنے کی بجائے وائرس کو بے اثر کرنے کے لئے اینٹی باڈیز کا ایک طاقتور جز رگ کے ذریعے خون میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ ریکوری ٹرائل کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ہسپتال میں شدید کوویڈ کے باعث زیر علاج تین میں سے ایک کو مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین نے حساب لگایا ہے کہ ہر 100 زیر علاج مریضوں میں سے چھ افراد کی جان بچ جاتی ہے۔ تاہم یہ علاج صرف ایسے مریضوں کے لئے سودمند ہوگا جن کے بدن نے وائرس کے خلاف لڑائی میں اینٹی باڈیز نہیں بنائی ہیں۔ اس علاج کی قیمت 1000 اور 2000 پونڈزکے درمیان ہے۔ 37 سالہ کمبرلے فیتھرسٹون، جنہیں ٹرائل کے دوران یہ علاج فراہم کیا گیا تھا، نے کہا کہ میں خود کوبہت خوش قسمت محسوس کرتی ہوں کہ اس وقت جب یہ ٹرائل ہو رہا تھا اور مجھے کوویڈ 19 کی وجہ سے اسپتال لے جایا گیا تھا تو مجھے یہ علاج فراہم کیا گیا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے یہ معلوم کرنے میں اہم کردار ادا کیا کہ یہ علاج کامیاب ہے۔ ریجنورون کا تیار کردہ مونوکلونل اینٹی باڈی علاج وائرس کو خلیوں کو متاثر کرنے سے روک دیتا ہے۔ اس کے ٹرائل میں برطانیہ کے 10000 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا، اس نے موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم کردیا۔جوائنٹ چیف انویسٹی گیٹر سر مارٹن لینڈری نے کہا کہ رگ کے ذریعے خون میں دو اینٹی باڈیز کا یہ مجموعہ فراہم کرنے سے مرنے کے امکانات20 فیصدتک کم ہوگئے۔ دوسرے چیف انوسٹی گیٹر سر پیٹر ہاربی نے کہا کہ اس بارے میں بڑی بے یقینی پائی جاتی تھی کہ آیا اینٹی باڈی تھراپی صحیح نقطہ نظر تھا جبکہ کچھ دیگر سٹڈیز میں بتایا گیا تھا کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ ریکوری ٹرائل میں جو اینٹی باڈی ٹریٹمنٹ استعمال ہوتا ہے، اس میں دو مخصوص اینٹی باڈیز کی بڑی مقدار ہوتی ہے، جو لیب میں بنی ہوتی ہیں، یہ وبائی وائرس سے بچنے میں اچھی ثابت ہوئی ہیں۔ سر پیٹر نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ جدید ترین کوویڈ۔19 بیماری میں بھی وائرس کو نشانہ بنانا ایسے مریضوں میں اموات کو کم کرسکتا ہے، جن کا جسم اینٹی باڈیزبڑھانے میں ناکام رہا ہے۔

یورپ سے سے مزید