• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تیغو خان تیغانی کی میڈیا ٹاک، پولیس نظام پر سوالات اٹھ گئے

سکھر (بیورورپورٹ، چوہدری محمد ارشاد ) سردار تیغو خان تیغانی کی میڈیا ٹاک نے پولیس کے انویسٹی گیشن نظام پر سوالات اٹھا دئیے،شکارپور آپریشن، پولیس کا کمزور انویسٹی گیشن نظام انتہائی مطلوب اور انعام یافتہ ڈاکو پولیس کی گرفت میں آنے کے بعد آزاد کیسے ہو جاتے ہیں؟ ڈاکو بیلو تیغانی پر حکومت کی جانب سے ایک کڑور روپے انعام مقرر کیا گیا ہے

بیلو تیغانی کو دو مرتبہ پیش یا گرفتار کرایا گیا، متعدد دیگر بدنام ڈاکوئوں جن میں گولو، بچلو، لاڈو تیغانی سمیت متعدد ڈاکو اور جرائم پیشہ عناصر شامل ہیں جن میں متعدد کی گرفتاری پر انعام مقرر ہے اور ان کی گرفتاری کے لئے حکومت اور پولیس سرگرم عمل ہے اور ان ڈاکوئوں اور جرائم پیشہ عناصر جن کو ماضی میں تیغانی برادری کے سربراہ اور ڈاکووں کی سرپرستی کے الزام میں گرفتار سردار تیغو خان تیغانی خود پولیس کے ہاتھوں گرفتار یا پیش کراچکے ہیں وہ آزاد کیسے ہوگئے،

سردار تیغو خان تیغانی کی میڈیا ٹاک نے پولیس کے انویسٹی گیشن نظام پر سوالات اٹھا دئیے۔

انسداد دہشت گردی شکارپور کی عدالت کے باہر گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہ سردار صاحب آپ نے ابتک کتنے ڈاکو اور جرائم پیشہ لوگ پیش کرائے ہیں کے جواب میں سردار تیغو خان تیغانی نے کہا کہ بچلو تیغانی ، بیلو تیغانی، گولو تیغانی ، لاڈو تیغانی اور متعدد سبزوئی برادری کے لوگ شامل ہیں ان سمیت ابتک 100 سو سے زائد جن میں سنگین مقدمات میں مطلوب ڈاکو اور جرائم پیشہ عناصر بھی شامل ہیں کو پولیس کے ہاتھوں گرفتار یا پیش کرا چکا ہوں اور بیلو تیغانی کو دو بار پیش کرایا ہے۔

اہم خبریں سے مزید