• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے تین سال میں کسی نے پارلیمنٹ کوسنجیدہ نہیں لیا، تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے پہلے سوال پارلیمنٹ اجلاسوں کی سنجیدگی برقرار رکھنے میں کیوں ناکام ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا کہ پچھلے تین سال میں کسی نے پارلیمنٹ کوسنجیدہ نہیں لیا،ایک دوسرے سوال پر تجزیہ کاروں نے کہا کہ جنسی ہراسانی کے واقعات پر کھل کر بات نہیں ہوسکتی اسی لئے واقعات ختم نہیں ہورہے۔

بینظیر شاہ نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کو ٹوئٹر سمجھتی ہے اسی لئے اجلاسوں میں سنجیدگی نہیں ہے،پارلیمنٹ میں انتہائی غیرسنجیدہ گفتگو کی جاتی ہے، سوشل میڈیا کی طرح کے ٹرولز پارلیمنٹ میں بھی کیے جارہے ہیں، سیاستدانوں کی اکثریت خاص طور پر حکومت پارلیمان کو اہمیت نہیں دیتی ہے

پارلیمنٹ کی اہمیت کس کی نظر میں زیادہ ہے اس کیلئے پیپلز پارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی حکومتوں کا ریکارڈ دیکھ لیں کہ کس حکومت میں کتنے قانون اسمبلی سے پاس ہوئے اور کتنے آرڈیننس لائے گئے۔

مظہر عباس کا کہنا تھاکہ پارلیمنٹ کی کارکردگی پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے لیکن اسے ناکام قرار نہیں دیا جاسکتا، تمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں نے نو مہینے محنت کے بعد اٹھارہویں ترمیم منظور کی، اٹھارہویں ترمیم سے قبل پورے پاکستان سے رائے لی گئی

پاکستان میں قانون سازی کے حوالے سے اتنی بھرپور بحث اور عام آدمی کی شمولیت پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی، صوبے اگر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اٹھارہویں ترمیم غلط ہے، کیا وفاق نے پچھلے ساٹھ سال میں اپنی ذمہ داری پوری کی تھی، اٹھارہویں ترمیم 1970ء میں ہوجاتی تو ملک نہیں ٹوٹتا۔

ارشاد بھٹی نے کہا کہ تمام سیاستدان سویلین ڈکٹیٹر ہیں ان کی نظر میں پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے، پارلیمنٹ اقلیت کو نکال کر ایلیٹ کلب بن گیا ہے، ملک میں گدھوں کے ساتھ بھیڑیں، بھینسیں او ر بکریوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے بلاول بھٹو کو اپنی تقریر میں اس کا ذکر بھی کرنا چاہئے تھا،پچھلے تین سال میں کسی نے پارلیمنٹ کوسنجیدہ نہیں لیا

وزیراعظم کو ہر بدھ کے روز اسمبلی آنا تھا لیکن وہ کتنے اجلاسوں میں آئے،اپنی قیادت کا مسئلہ ہو تو اسمبلی میں سب اکٹھے ہوجاتے ہیں ورنہ کورم ہی پورا نہیں ہوتا، اٹھارہویں ترمیم بڑی قانون سازی ہے لیکن اس میں کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے،صوبے وفاق سے پیسے لے لیتے ہیں لیکن تعلیم، صحت سمیت کسی معاملہ میں خرچ نہیں کرتے۔

محمل سرفراز کا کہنا تھا کہ حکومت پارلیمانی بزنس اور پارلیمانی سیاست کو اہمیت نہیں دیتی، پی ٹی آئی حکومت میں بھی ہمیشہ اپوزیشن موڈ میں ہی رہی ہے، حکومت اپوزیشن کے سوالات کے جواب دینے کے بجائے ذاتی حملے کرنے میں مشغول رہتی ہے۔

اہم خبریں سے مزید