• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی نجی بینک میں 590 کروڑ روپے کا فراڈ، سابق برانچ منیجر سمیت 4 افراد گرفتار

—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی نجی بینک آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کی چندی گڑھ برانچ سے سامنے آنے والے 590 کروڑ روپے کے بڑے مالی فراڈ کے معاملے میں ہریانہ اینٹی کرپشن بیورو (ACB) نے 4 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان میں بینک کا سابق برانچ منیجر ریبھو رشی، اس کی اہلیہ سواتی سنگلا، سواتی سنگلا کے بھائی ابھیشیک سنگلا اور سابق ریلیشن شپ منیجر بھی شامل ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ہریانہ حکومت کے مختلف محکموں کے اکاؤنٹس سے بڑی رقم غیر قانونی طور پر منتقل کی گئی، تقریباً 300 کروڑ روپے ’سواستک دیش پروجیکٹس‘ نامی کمپنی کے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے جو ریبھو رشی کی اہلیہ اور سالے کی ملکیت ہے۔ 

کمپنی میں سواتی سنگلا کے پاس 75 فیصد جبکہ ابھیشیک سنگلا کے پاس 25 فیصد شیئرز ہیں۔

اینٹی کرپشن بیورو کے ڈائریکٹر جنرل اے ایس چاؤلہ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ریبھو رشی اور ابھے اس فراڈ کے مرکزی ملزم ہیں، دونوں نے تقریباً 6 ماہ قبل بینک کی نوکری چھوڑ دی تھی، رقم چندی گڑھ سے موہالی کے ایک دوسرے بینک میں منتقل کی گئی تھی جس سے معاملہ مزید مشکوک ہو گیا ہے۔

فراڈ اس وقت سامنے آیا جب ہریانہ حکومت کے ایک محکمے نے اپنا اکاؤنٹ بند کر کے رقم کسی دوسرے بینک میں منتقل کرنے کی درخواست دی، جانچ کے دوران بینک ریکارڈ اور اصل بیلنس میں فرق پایا گیا جس کے بعد دیگر سرکاری اکاؤنٹس کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔

دوسری جانب آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ہریانہ حکومت کے متعلقہ محکموں کو مکمل رقم بمع سود واپس کر دی ہے جو تقریباً 583 کروڑ روپے بنتی ہے، بینک ’کسٹمر فرسٹ‘ اصولوں پر قائم ہے اور تفتیش جاری ہونے کے باوجود اس نے فوری ادائیگی کر کے اپنی ذمے داری نبھائی ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید