فرانس میں موجود کیوبا کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو شیئر کی ہے جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی تھی جس میں ماں سے محروم ایک ننھا بندر کھلونا بندر کو اپنی ماں سمجھ کر اس سے لپٹا ہوا دکھائی دیتا ہے، اس منظر نے دنیا بھر کے صارفین کو افسردہ کر دیا اور ہمدردی کے پیغامات کی بھرمار ہو گئی۔
تاہم کیوبا کے سفارت خانے نے اسی جذباتی ردِعمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے دہرا معیار قرار دیا ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو کے ایک حصے میں جاپان کے ایک چڑیا گھر میں موجود ننھے بندر پنچ کو دکھایا گیا ہے، جو ماں کی جدائی کے بعد ایک کھلونے کو سینے سے لگائے بیٹھا ہے۔
ویڈیو کے دوسرے حصے میں منظر مکمل طور پر بدل جاتا ہے، اس میں غزہ کی ایک کمسن بچی کو دکھایا گیا ہے جو اسرائیلی حملوں میں اپنا گھر اور اہلِ خانہ کھونے کے بعد ملبے کے درمیان کھڑی اپنی گڑیا کو سینے سے لگائے خاموشی سے صدمہ برداشت کر رہی ہے۔
سفارت خانے نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ دنیا ایک بندر کے کھلونے سے لپٹنے پر تو اشک بار ہو جاتی ہے، مگر غزہ میں ہزاروں یتیم بچوں کے دکھ پر خاموش رہتی ہے، جن کے خاندان جنگی کارروائیوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
کیوبن سفارت خانے نے اس طرزِ عمل کو اپنی مرضی کی ہمدردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تضاد عالمی انسانی دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑا کرتا ہے۔