• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھر کی تعمیر ایسے کریں کہ بجلی کا استعمال کم ہو

ہمارے یہاں گرمیوں کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ عموماً بڑھ جاتی ہے۔ ہم انفرادی طور پر اس صورتِ حال کو درست تو نہیں کرسکتے مگر ہم اپنا مثبت کردار ضرور ادا کرسکتے ہیں، جس کا فائدہ بھی انفرادی طور پر ہمیں ہی ہوگا۔ وہ مشورہ یہ ہے کہ ہم بجلی کا استعمال سمجھداری سے کریں، اس طرح نہ صرف ہم بجلی کی بچت کرسکتے ہیں بلکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں کا بھی بہتر طور پر مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایک اور سنگین مسئلہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث عالمی درجہ حرارت بڑھتا جارہا ہے، جوکہ ساری دنیا کے لیے باعث فکر ہے۔ گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار تیز ہونے کے باعث سمندروں کی سطح بلند ہورہی ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں سیلابوں کی آمد بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب جنگلوں میں لگنے والی آگ کے باعث زمین پر درختوں کی شرح کم ہورہی ہے، یہ صورتِ حال عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔

گرمی سے لوگ پریشان ہیں، جس کی وجہ سے گھروں اور دفاتر میں گرمی پر قابو پانے کے لیے ایئر کنڈیشنرز لگائے جا رہے ہیں۔ لیکن ایئر کنڈیشنر اندر کمرہ جتنا ٹھنڈا کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ باہر گرمی بڑھا دیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کو کم کرنے کے اقدامات بھی درحقیقت اس میں اضافے کا باعث ہی بن رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھروں کو ٹھنڈا کرنے کا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے؟

اس کا ایک مؤثر فطری طریقہ غالباً عمارتوں کے تعمیراتی ڈیزائن اور ہریالی میں چھُپا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، سان فرانسسکو میں کیلیفورنیا اکیڈمی آف سائنس کی عمارت کی پوری چھت پر ہریالی ہے۔ اس سے عمارت کا درجہ حرارت کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کھڑکیاں کُھلی ہیں، جہاں سے ٹھنڈی ہوا اندر تک آتی ہے۔ شدید گرمی کے دنوں میں بھی یہاں اے سی کے بغیر گزارا ہو جاتا ہے۔ آپ اپنے گھر میں موسمِ گرما کے دوران بجلی کس طرح بچا سکتے ہیں، اس حوالے سے چند مفید مشورے پیش ہیں۔

بیڈ روم

گھر میں مجموعی طور پر جتنی بجلی خرچ ہوتی ہے، اس میں بیڈ روم میں خرچ ہونے والی بجلی کا حصہ غالباً سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کے کمرے میں اے سی لگا ہوا ہے تو اسے 26ڈگری سینٹی گریڈ پر چلائیں۔ کمرے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کھڑکیوں اور دروازے کو اچھی طرح بند رکھیں۔ 

صبح اُٹھنے سے دو گھنٹے پہلے ایئر کنڈیشنر کو بند کرکے فین کو کم اسپیڈ پر آن کردیں۔ آپ کا کمرہ دو، تین گھنٹہ تک ٹھنڈا رہے گا۔ اپنے اسمارٹ فونز کو ساری رات چارج پر نہ لگائیں، فون چند گھنٹوں میں مکمل طور پر چارج ہوجاتا ہے، جس کے بعد بجلی ضائع ہوتی رہتی ہے۔ اگر آپ اپنے بیڈ روم میں ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں تو اسے اسینڈ بائے موڈ پر نہ چھوڑیں۔ سونے سے پہلے ٹی وی سیٹ کو سوئچ آف کردیں۔

لیونگ روم

گھر میں سب سے زیادہ استعمال میں رہنے والا کمرہ لیونگ روم ہوتا ہے، اس لیے اگر آپ بجلی بچانا چاہتے ہیں تو سب سے زیادہ توجہ لیونگ روم پر دیں۔ دن کے وقت پاکستان کے تقریباً تمام حصوں میں قدرتی روشنی وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے۔ بیٹھک کے کمرے کو اس طرح ڈیزائن کریں کہ وہاں قدرتی روشنی ضرور پہنچے۔ 

ہوا کے لیے بیٹھک کی بیرونی دیوار کو گلاس سلائیڈنگ ڈور اور جالی سے بنے سلائیڈنگ ڈور سے بنوائیں۔ گلاس سلائیڈنگ ڈور کو کھول دیں او ر مچھروں وغیرہ سے بچنے کے لیے جالی کے سلائیڈنگ ڈور کو بند رکھیں۔ اس طرح بیٹھک میں روشنی اور ہوا کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ استعمال میں نہ آنے والے برقی آلات کو اسٹینڈبائے پر نہ چھوڑیں۔ اس سے سالانہ چار سے پانچ ہزار روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔

بچوں کے سونے کا کمرہ

ٹیلی ویژن اور گیم کنسول چلانے میں سالانہ ہزاروں روپے کی بجلی خرچ ہوجاتی ہے۔ استعمال میں نہ ہونے پر کنسول کا پلگ نکال دینے سے کھپت میں تقریباً نصف کمی آتی ہے۔ سوئچ تک رسائی کو آسان بناکر آلات کو ساکٹ سے آف کرنے کے لیے اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ اگر آپ کے بچوں کو رات میں لائٹ کی ضرورت ہے تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ کم توانائی والا بلب استعمال کیا جائے۔

اگر آپ نیا کمپیوٹر خریدنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، تو جان لیں کہ پرانے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے مقابلہ میں ایک نیا لیپ ٹاپ سالانہ دو سے ڈھائی ہزار روپے کی توانائی بچا سکتا ہے (اور جگہ بھی کم لیتا ہے)۔ اسی طرح دالان کی بتیوں کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، – لہٰذا یہاں توانائی کی بچت والے بلب لگاکرسالانہ تقریبا ًپانچ سو روپے فی بلب کی بچت کی جاسکتی ہے۔ مزید برآں، کپڑے دھونے اور کپڑے استری کرنے کے عمل میں بھی بجلی کی بچت کی جاسکتی ہے۔

متبادل توانائی

گھر کے بیرونی حصوں میں جہاں جہاں براہ راست سورج کی روشنی پڑتی ہے، وہاں رات کے اوقات میں لائٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شمسی آلات کا استعمال کریں۔ دن کے وقت سولربلب اور دیگر شمسی آلات کو چارج کریں اور پھر رات کے وقت ان کو جلا دیں۔