• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راولپنڈی سے شمال کی جانب سفر کرتے ہوئے 16کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں آتا ہے، جس کا نام روات ہے۔ روات کی اصل پہچان اس کا قلعہ ہے، جو جی ٹی روڈ کے دائیں جانب واقع ہے۔ قلعہ تک پہنچنا مشکل نہیں، اگر روات کے مرکزی بازار سے گزر کر پیچھے چلے جائیں تو یہ تاریخی عمارت نظر آتی ہے۔ قلعے کے دروازے پر حکومت پاکستان اور محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے لگے بورڈ کے مطابق روات عربی زبان کے لفظ رباط کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ رباط کے لغوی معنٰی سرائے کے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ قلعہ درحقیقت ایک قدیم کاروان سرائے تھا، جو جی ٹی روڈ کے ساتھ مسافروں کی سہولت یا سرکاری اہلکاروں کے ٹھہرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ 

اس کا فن تعمیر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ قلعہ نماسرائے پندرہویں صدی کے اوائل میں سلاطین دہلی کے زمانے میں تعمیر ہوئی تھی۔ لیکن اس قلعے کو سلطان محمود غزنوی کے بیٹے مسعود کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے، جس کا زمانہ 1036ء ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے لشکر کے باغی سپاہیوں نے اسے اس قلعے میں گرفتار کیا اور بعد میں ٹیکسلا کے نزدیک گڑی کے قلعے میں لے جا کر قتل کر دیا۔ یہ قلعہ بعد میں گکھڑ قبیلے کے سربراہ سلطان سارنگ خان کے قبضے میں آیا۔ یہ قلعہ سلطان سارنگ خان اور شیر شاہ سوری کے درمیان جنگ کی یاد بھی دلاتا ہے، جو اسی مقام پر لڑی گئی تھی۔

دراصل، پوٹھوہار کا گکھڑ قبیلہ مغلوں کا وفادار تھا اور ان کی جانب سے گاہے بگاہے شیر شاہ سوری کی فوج پر حملہ کیا جاتا رہتا تھا۔ سلطان سارنگ خان نے دورِ جلاوطنی میں مغل بادشاہ ہمایوں کی عسکری مدد کی تھی۔ ہمایوں کو شکست دینے کے بعد شیر شاہ سوری کی نظریں گکھڑوں کے علاقے کی جانب تھیں۔ لہٰذا سلطان سارنگ خان سے لڑنے کے لیے شیرشاہ سوری نے اپنے جرنیل خواص خان کی کمان میں ایک بڑا لشکر بھیجا۔ ادھر سلطان نے بھی مقابلے کے لیے اپنی فوجیں تیار کیں۔ روات کے مقام پر دونوں فوجوں کے درمیان خونریز جنگ ہوئی جس میں بالآخر سلطان سارنگ خان کو شکست ہوئی اور وہ اپنے سولہ بیٹوں سمیت میدان جنگ میں مارا گیا، جن کی قبریں روات کے قلعے میں ہی موجود ہیں۔

ہمایوں جب طویل جلاوطنی کے بعد واپس آیا تو اس نے پھروالہ قلعہ میں آدم خان کے پاس قیام کیا اور اس کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کی تجدید کی، فوج کومنظم کیا اور اپنی کھوئی ہوئی سلطنت دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ آدم خان نے پوٹھوہار کا حاکم بنتے ہی سلطان سارنگ خان کے اعزاز میں ایک عالیشان ہشت پہلو گنبد والا مقبرہ تعمیر کروایا، جس کی تعمیر میں سنگِ مرمر اور دوسرے قیمتی پتھر استعمال کیے گئے تھے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے یہ سارے پتھر اکھاڑ لیے، جس کے بعد یہ اپنی تمام شان و شوکت کھو چکا ہے، تاہم اس کے در و دیوار اب بھی بہتر حالت میں ہیں۔ 

تاہم، حیران کن طور پر مقبرے کے اندر کسی قبر کا کوئی نام و نشان موجود نہیں ہے جبکہ سلطان سارنگ خان کی قبر بھی صحن میں ہے۔ اس قلعے کی ایک اور قابلِ دید چیز یہاں کی تین گنبدوں والی مسجد ہے، جو آج بھی آباد ہے اور قدیم دور کی یاد دلاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ رنجیت سنگھ کے دور میں یہ مسجد شدید بے حرمتی کا شکار ہوئی اور اس کی چھت اڑا دی گئی۔ بعد میں اہلِ روات نے اس کی دوبارہ تعمیر کی۔ مسجد کے در و دیوار کی بربادی، ویرانی اور بے ثباتی کے باوجود اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسجد اپنے وقت میں فنِ تعمیر کا نادر نمونہ رہی ہو گی۔

اونچائی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ قلعہ دفاعی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ یہاں سے آس پاس کے وسیع علاقے پر موثر کنٹرول حاصل کیا جا تا تھا۔ چونکہ یہ قلعہ صرف فوجی اغراض و مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا، اس لیے اس میں رہائشی عمارتیں نہیں ہیں۔ اس لحاظ سے یہ قلعہ اسی نوعیت کے دوسرے قلعوں سے مختلف ہے۔ قلعہ روات مربع شکل میں پتھر سے تعمیر کیا گیا ہے، جس کی فصیل میں مشرق، شمال اور جنوب کی جانب تین دروازے بنائے گئے تھے۔ صدر دروازے کا رُخ مشرقی جانب ہے جبکہ عقبی دروازہ شمال کی طرف کھلتا ہے۔ 

یہ دونوں دروازے اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں، تاہم ان کی محرابیں، طاق اور ڈاٹیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ جنوبی دروازے کو پتھروں سے بند کر دیا گیا ہے۔ صدر دروازے سے کے دونوں جانب دو کمرے ہیں، جن میں پہرےدار رہا کرتے تھے۔ قلعہ کی فصیل 30فٹ بلند رکھی گئی تھی، جس کے اندر چاروں اطراف میں حجرے بنے ہوئے ہیں۔ صدر دروازے کے مشرق، شمال اور جنوب میں بیس بیس حجرے تعمیر کیے گئے تھے، جو دفاعی لحاظ سے اہمیت کے حامل تھے بلکہ اس جگہ کے ماضی کے کاروانوں کی آرامگاہ ہونے کی نشاندھی بھی کرتے ہیں۔ قلعے کی بعض دیواروں، محرابوں، ڈاٹوں، طاقوں اور گنبدوں میں چھوٹی اینٹیں لگی ہوئی ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد قلعہ کو محکمہ اوقاف کی نگرانی میں دے دیا گیا تھا۔قلعے کے ارد گرد مضبوط فصیل جو کسی زمانے میں اسے بیرونی دشمنوں سے تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ تھی، اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ روات کے باسیوں نے بھی اس کی دیواروں کو نقصان پہنچایا۔ انھوں نے اپنے گھر تعمیر کرنے کے لیے قلعے کی دیواروں کو گرایا، تاہم بعد میں حکومت نے دیواروں کے ارد گرد تعمیرات پر پابندی لگا دی۔ 

قلعے کے دونوں اطراف میں بنائے گئے خوبصورت لان بھی زبوں حالی کا شکار ہیں ۔ قلعہ روات دیکھنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ آجکل یونیسکو کے تعاون سے قلعے کی بحالی کا کام جاری ہے۔ اس تاریخی قلعے کی بحالی پر بھرپور توجہ دے کر اسے سیاحت کے لیے حوصلہ افزا مقام بنایا جا سکتا ہے۔