• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:انعام الحق نامی ۔۔۔امریکا
امریکہ میں ووٹنگ کے مساوی حقوق کے حصول کی عظیم جدوجہد کرنے والے جان لویس نے 1965 میں ووٹنگ ایکٹ پاس کروانے کے بعد نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’ووٹ انتہائی قیمتی چیز ہے، ایک جمہوری معاشرے میں یہ ایک طاقت ور ترین غیر متشدد ہتھیار ہے جسے ضرور استعمال کرنا چاہئے‘‘۔ دنیا کے دیگر جمہوری معاشروں کی طرح ہم بھی ہر پانچ سال بعد اس مشق سے گزرتے ہیں۔ باقی دنیا میں الیکشن امن و خوشحالی اور تبدیلی کے تازہ جھونکے لے کر آتے ہیں ، لیکن ہمارے ہاں ان کا نتیجہ ہمیشہ اس کے برعکس نکلتا رہا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ با شعور معاشروں کے عوام اس ہتھیا ر کو انتہائی سوچ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اور صحیح اور اہل لوگوں کو منتخب کر کے خود چار یا پانچ سال کیلئے آرام کرتے ہیں جبکہ ہم اہلیت کی بجائے مجبوری، لالچ، تعلق یا تعصب کی بنیاد پر ووٹ دے کر نا اہل لوگوں کو اپنے اوپر مسلط کر کے پانچ سال ہائے ہائے کرتے گزارتے ہیں۔ پھر کبھی بجلی کیلئے جلوس تو کبھی پانی کے لئے ، کبھی ہسپتالوں میں ذلیل تو کبھی تھانے کچہری میں ۔ تقریبا گزشتہ پچاس سال سے آزاد کشمیر میں الیکشن ہوتے آرہے ہیں۔ اکثرلیڈران کوڑیوں سے نکل کر کروڑ پتیوں میں شامل ہو چکے ہیں ۔ ان کی دوسری کے بعد اب تیسری نسل گدی نشین ہونے کیلئے میدان میں ہے۔ پچاس سال سے ان کی نسلیں جائیدادیں بنانے جبکہ ووٹروں کی نسلیں برتن مانجنے کیلئے ایکسپورٹ ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک اسی شد و مد سے جاری ہے لیکن اس میں قصور صرف اس کرپٹ حکمران ٹولے کا نہیں بلکہ کچھ ذمہ داریاں عوام پر اور بالخصوص تعلیم یافتہ افراد پر بھی عائد ہوتی ہیں۔ اگر آپ غلط لوگوں کو منتخب کریں گے تو پھر ان سے درست فیصلوں کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ غلط بندہ صحیح فیصلہ کر ہی نہیں سکتا۔ بار بار ایسا کرنے کا انجام ہر بار ایسا ہی ہو گا۔ بقول آئن سٹائن ایک ہی کام بار بار کر کے مختلف نتائج کی توقع کرنا حماقت کے سوا کچھ نہیں ۔ اس لئے صرف ووٹ دینا ہی کافی نہیں ، بلکہ درست ، باکردار اور اہل امیدوار کو ووٹ دینا ملی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ جو لوگ سال ہا سال گھروں میں بیٹھ کر غلط نظام اور کرپشن کو کوستے رہتے ہیں ان کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ گھروں سے نکلیں اور معاشرے میں پر امن اور مثبت تبدیلی کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔ صحیح امیدواروں کا ساتھ دیں اور چوروں اور نو سر بازوں کی مخالفت کر کے انھیں بے نقاب کریں ۔ ووٹ نہ صرف آپ کی اور آپ کے ارد گرد رہنے والے لوگوں کی آواز ہے بلکہ آپ اور آپ کے بچوں کے مستقبل کا تعین بھی اسی سے ہونا ہے۔ اگر آپ نے ستر سال سے عوام کا لہو چوسنے والوں کا ہی ساتھ دینا ہے تو نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان یاد رکھیں ، ’’ جس شخص نے کسی ظالم کا ساتھ دیا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ظلم کر رہا ہے تو وہ اسلام کے دائرے سے نکل گیا۔ (طبرانی)
یورپ سے سے مزید