• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سائبر جرم میں ایک ہی دن دو فیصلے، ایک سوشل میڈیا کی وجہ سے مشہور، دوسرے کا کوئی ذکر نہ ہوسکا

کراچی (اسد ابن حسن) سوشل میڈیا پر ایک خاتون استاد کی بلیک میلنگ کے مقدمے میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت سزا کا تو چرچہ میڈیا میں گزشتہ روز رہا مگر اسی دن سائبر جرم میں ایک اور شخص کو اپنی ہی سابقہ بیوی کی نازیبا تصاویر سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کرنے میں دو دفعات پر 5، 5برس قید اور 30لاکھ جرمانہ اور ایک دفعہ کے تحت 2برس قید کی سزا دی گئی ہے، اس کا کوئی خاص ذکر نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق 2017ء میں اختر عباسی نے ایف آئی اے سائبر کراچی میں ایف آئی آر نمبر 4/2017 درج کروائی جس میں تحریر کیا گیا ہے کہ ان کی بیٹی ایس اے شادی کے بعد اپنے شوہر ارشد ہادی کے ساتھ دبئی میں مقیم تھی اور اختلافات کے بعد 2016ء میں شادی ختم ہوگئی۔ شادی کے بعد ارشد ہادی نے اپنی زوجہ کی نازیبا ویڈیو اور تصاویر بنائی تھیں اور جب وہ پاکستان واپس آیا تو اس نے جعلی آئی ڈی بنا کر وہ تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا ناصرف فیس بک بلکہ خاتون کے عزیز و اقارب کو بھی بھیج دیں۔ دبئی میں رہائش کے دوران خاتون نے اپنے ساتھ شوہر کے نازیبا سلوک اور مار پٹائی کی شکایت، دبئی میں پاکستانی سفارتخانے کو بھی کی تھی۔ کراچی میں مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیشی افسر سب انسپکٹر بلال نے مجرم ارشد ہادی کے گھر پر چھاپہ مار کر اس کو گرفتار کیا اور ساتھ ہی اس کا لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور موبائل فون بھی قبضے میں لے لیا جس میں خاتون سے متعلق تمام ریکارڈ موجود تھا جس کے بعد مقدمے کی کارروائی جاری رہی اور ملزم کے وکیل نے یہ دلائل دیئے کہ یہ ڈویل جیوپرڈی (ایک ہی جرم میں دو الگ الگ تفتیش) کا کیس ہے کیونکہ دبئی میں بھی شکایت پر کارروائی ہوئی تھی اور دونوں میاں بیوی میں صلح ہوگئی تھی۔

ملک بھر سے سے مزید