• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹ خزانہ کمیٹی کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافے کی سفارش

اسلام آباد( نمائندہ جنگ ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے ملازمین کی تنخواہوں میں 20فیصد اضافے کی سفارش کردی ، سگریٹ پر ٹیکس میں اضافے کی سفارش ، پٹرولیم مصنوعات پر ممکنہ 20 روپے لیٹر پیٹرولیم لیوی واپس لینے کا مطالبہ، ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافے کی شرح کی تجویز مسترد ، کاروباری افراد کو بھیجے گئے نیب نوٹسز کی تفصیلات طلب ،قائمہ کمیٹی نے ایف بی آر سے کاروباری افراد کو گزشتہ چھ ماہ کے دوران بھیجے گئے نوٹسز کی تفصیلات اور فاٹا ، پاٹا کے خصوصی طریقہ کارپر بریفنگ طلب کرلی،سگریٹ کے مختلف برانڈز پر ٹیکس میں ا ضافےکی سفارش کی ، قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینٹر طلحہ محمود کی سربراہی میں ہوا ،ایف پی سی سی آئی کے سابق چیئرمین میاں انجم نثار نے نیب پر شدید تنقید کی اور کہا کہ کاروباری افراد کے ساتھ نیب کا سلوک مایوس کن ہے، قائمہ کمیٹی نے ایف بی آر اور نیب کی جانب سے کاروباری افراد کو ہراساں کیے جانےپر برہمی کر اظہار کیا ، چیئرمین کمیٹی سینٹر طلحہ محمود نے کہا کہ جو جان بوجھ کر غلط نوٹس بھیجے اس کوبھی ہتھکڑی لگنی چاہیے ،سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ و ریونیو نے کسٹم کلکٹر کو اختیارات دینے کے حوالے سے فنانس بل میں شامل تجویز کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا، سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کسٹم کلکٹر کسی بھی معاملہ پر سوموٹو یا پھر سپریم کورٹ تفویض اختیارات استعمال کرسکتا ہے،کمیٹی نے معاملہ آج تک کیلئے مؤخر کردیا، کمیٹی نے سگریٹ کے فی پیکٹ پر 15روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی، اس اضافے سے 50ارب روپے ریونیو حاصل ہوگا، سینٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ بات ایف بی آر کے نوٹسز سےآگے نکل گئی ہے، کئی کاروباری افراد کو پلی بارگین کےلیے اٹھا لیا گیا ، کاروباری افراد کوپلی بارگین کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے، یہ کام ایف بی آر سے زیادہ تباہ کن ہے، سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ ابھی تک کوئی بھی چینی کمپنی خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کیلئے نہیں آئی ، اجلاس میں ارکان سینیٹ کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید