• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

فلموں میں وکیل کے کردار میں فن کاروں کی للکار

جس طرح دَرس وتدریس کے پیشےکو تمام مذاہب اور معاشرے میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، بالکل اسی طرح وکالت کے پیشے کی بھی انسانی سماج میں بڑی قدر و منزلت ہے۔ دُنیا بھر میں، جہاں جہاں فلم سازی۔ڈراما، فلم سازی یا تھیٹر کے حوالے سے کام ہوتا ہے، وہاں معاشرے ماحول اور سوسائٹی سے ہی ماخوذ کہانی واقعات اور کرداروں کو اپنی تخلیقات کی کلید بنایا جاتا ہے۔ لالی وڈ میں اس پروفیشن سے جُڑے کرداروں پر متعدد یادگار فلمیں بنائی گئیں، جس میں سے کچھ قابل ذِکر اور خاص فلموں کا تذکرہ ہم اپنی اس تحریر میں کریں گے۔

فرسٹ لیڈی آف پاکستانی سلور اسکرین صبیحہ خانم اور سب سے پہلے سپر اسٹار کہلانے والے’’ سنوتش کمار‘‘ نے درپن پروڈکشنز کے بینر تلے بننے والی معیاری کامیاب فلم’’ ساتھی‘‘میں بالترتیب وکیل استغاثہ اور وکیل صفائی کے خصوصی رول پلے کیے۔ اور دونوں نے ہی نہایت خُوب صورت اور پُر وقار انداز سے یہ رول نبھائے تھے۔ 1963کی رومانی نغمانی فلم’’ عشق پر زور نہیں‘‘ میں ’’ آغا طالش‘‘ بہ طور وکیل صفائی نظر آئے۔ اور بہت سی رئیل اور جاندار انداز میں اپنے کردار سے انصاف کرتے نظر آئے۔1963ہی کی ریلیز ہدایت کار حسن طارق کی سماجی تصویر فلم’’ شکوہ‘‘ میں پاپا علاوہ الدین دی گریٹ وکیل کے روپ میں نظر آئے۔ یہ ایک غریب پرور دل رکھنے والے انسانی خدمت کے جذبے سے معمور شخص کا کردار تھا۔ جو اپنی موکلہ’’ صبیحہ خانم‘‘ کے وکیل صفائی کی حیثیت سے عدالت کے روبرو اس متاثرین انداز سے دلائل دیتے ہیں کہ دیکھنے والا ان کی شان دار پر فارمینس کی داد دیے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔

1964کی ایک چونکا دینے والی فلم ’’خاموش رہو‘‘ جسے جمیل اختر نے ڈائریکٹ کیا تھا، میں گوکہ عدالت کا پُورا سین پرفارمینس کے تناظر میں صرف اور صرف محمد علی دی گریٹ سے منسوب ہے،لیکن شوبز کی بہت بڑی اور عظیم شخصیت طارق عزیز مرحوم کی پہلی فلم ہونے کے حوالے سے اس کا ذکر ضروری ہے کہ اس فلم کے عدالتی منظر میں وہ وکیل استغاثہ کی حیثیت سے محمد علی سے جرح کرتے ہوئے نظر آئے۔1968میں منظر عام پر آنے والی ہدایت کار حسن طارق کی فلم ’’ عدالت‘‘ میں پاکستانی سینما کی خُوب صورت ترین فن کارہ ’’زیبا‘‘ وکیل استغاثہ کی حیثیت سے اپنے کردار کی ادائیگی بھرپور اعتماد اور متاثرکُن لب ولہجے کے ساتھ کرتی نظر آئیں۔ ان کے سامنے کٹہرے میں ملزم کی حیثیت سے اسلم پرویز کھڑے ہوتے ہیں۔ وکیل استغاثہ زیبا بیگم کے تابڑ توڑ سوالات اسلم پرویز کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیتے ہیں۔ زیبا بیگم نے قدرخوب صورتی سے خاتون وکیل کے اس کردار کی ادائیگی کی۔ 

اردو فلموں کے ضمن میں سب سے زیادہ گولڈن جوبلی فلموں کے میکر ہدایت کار شباب کیرانوی کی یادگار نغمہ بار معیاری فلم ’’انسان اور آدمی‘‘ میں لیجنڈ فن کار محمد علی ایک قانون دان وکیل کے شان دار کردار میں جلوہ گر ہوئے۔ فلم کی آخری سین میں محمد علی اور زیبا کے وکیل صفائی کی حیثیت سے جب کہ منجھے ہوئے فن کار طلعت حسین ان کے مدِمقابل بہ طور وکیل ’’ استغاثہ عدالتی مناظر میں ایک دوسرے کے مدمقابل تھے ۔ 

محمد علی نے اپنی خُوب صورت پرسنالٹی،جاندار آواز،شان دار ڈائیلاگ ڈیلیوری اور عمدہ ایکسپریشنز کی بدولت عدالتی اسپیل کو اس قدر یادگار اور مثالی بنادیا کہ انسان اور آدمی کی ریلیزکو51سال گزر جانے کے باوجود آج بھی فلمی عدالتی مناظر کے حوالے سے بہ حیثیت وکیل محمد علی کی پرفارمینس کو سب سے بڑی معیاری اور متاثرکن پر فارمنس کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ تاہم طلعت حسین نے نوآموز ہونے کے باجوود بھی اپنے رول میں جم کر پرفارمینس دیں۔1971کی ریلیز ہدایت کار ایس اے بخاری کی ’’ آنسو‘‘ میں مسعود اختر نے ایک ایسے وکیل استغاثہ کا کردار ادا کیا کہ وہ جس خاتون کو قاتلہ ثابت کرنے کے لیے اس کی کردار کُشی کررہے ہوتے ہیں ، دراصل ماضی میں وہ اسی خاتون کے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہوچکے تھے، لیکن خاتون کو پہچان لینے کے بعد وکیل استغاثہ شرمندگی کے سبب اچانک ہارٹ فیل کا شکار ہوکر کمرہ عدالت ہی میں جان بحق ہوجاتے ہیں۔

وکالت کے مقدس پیشے کا نمائندہ یہ کردار مثبت اور منفی کیریکٹر کا عکاس تھا،جو اپنی عمدہ ادائیگی کے تناظر میں آج بھی لوگوں کو نہیں بھولا۔ اداکار درپن نے جب بہ طور ہدایت کار فلم عظمت 1993بنائی، تو اس میں اپنی شریک حیات عظیم اداکارہ نیر سلطانہ کو خاتون وکیل کے روپ میں پیش کیا ۔فلم کے آخری مناظر میں نیر سلطانہ نے ایک وکیل صفائی کی حیثیت سے اپنی پر وقار شخصیت اور شان دار کردار نگاری کی بدولت فلم کے عدالتی مناظر کو یادگار کردیا۔ 

شمیم آرا پروڈکشنز کی ’’ بھول‘‘ میں سلور اسکرین کی سب سے کام یاب اور اپنے وقت کی مقبول ترین ہیروئن ’’ شبنم‘‘ نے خاتون وکیل کا کردار ادا کیا ۔ یہ ایک ایسی خاتون کا کردار تھا، جو عورتوں کے حقوق کی علمبردار ہے۔ شبنم کے کردار کا دل چسپ پہلو یہ تھا کہ وہ ایک ایسی عورت کی وکیل استغاثہ بن جاتی ہیں کہ جوان کی سوتن ہونے کی دعوےدار ہوتی ہے۔ اور ان کے شوہر میں شراکت داری کا مطالبہ کرتی ہے، لیکن شبنم پُورے وقار اور دیانت کے ساتھ اس کا مقدمہ لڑتی ہیں۔ 

شبنم نے کمال مہارت سے اپنے کردار کو ادا کیا۔ ہدایت کار رحمت علی نے بہت ہی جان دار اور مضبوط اسکرپٹ پر پنجابی زبان میں ’’ دوطوفان‘‘ کے ٹائٹل سے ایک عمدہ فلم بنائی، جس میں لالہ سدھیر نے ایک ذہین اور زیرک وکیل کے کردار کی ادائیگی میں اپنی بہترین فنکارانہ صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ یہ کہانی دراصل پڑوسی ملک کی فلم وشواناتھ‘‘ سے اخذ شدہ تھی ’’ دوطوفان‘‘ 1980 کی ریلیز تھی۔ 1981میں پاکستانی باکس آفس کے کام یاب ترین فلم میکر پرویزملک نے اپنی فنی زندگی کی سب سے بڑی اور معیاری فلم ‘‘ قربانی‘‘ بنائی تو اس میں عدالتی مناظر خاص اہمیت کے حامل تھے، جس میں مونالیزا کی مسکراہٹ والی ’’ دیبا خانم‘‘شبنم کی جانب سے وکیل استغاثہ تھیں اور ندیم کی جانب سے افضال احمد‘‘ وکیل صفائی۔ 

دیبا نے اپنا کردار جس تحمل وقار اور متانت سے ادا کیا۔ اس کے لیے انہیں جتنی دادا دی جائے کم ہے۔ بے شک اس خصوصی رول کے لیے پرویز ملک کا انتخاب’’ لاکھوں میں ایک‘‘ کے مصداق تھا۔ جب کہ دوسری جانب افضال احمد نے قدرمنفی طرز فکر کے حامل وکیل کے ’’ جارحانہ‘‘ کردار میں غضب کی پرفارمینس دی۔ اور بھرپور پذیرائی کے مستحق ٹھہرے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید