• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عبدالرزاق (مرحوم) برطانیہ میں اردو صحافت کے علمبردار!

تحریر:احمد عجا ئب ملک
کہاجاتا ہے کہ دنیا ایک اسٹیج کی ما نند ہے ہر کوئی اسٹیج پر اپنا کردار کرنے کے بعد ایک معین وقت پر چلا جاتا ہے ۔ لیکن جانے والے نے ’’ایکٹ‘‘ کیسے اور اپنا کر دار کیسے نبھا یا؟یقینا کسی ایک فرد کے لئے اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے ۔ مرحوم عبدا لر زاق صاحب کو ہم سے بچھڑے ہو ئے سترہ سال کا عر صہ گزرچکا ہے ہر سال25جون ہمیں اُن کی یاد دلا تا ہے اورسوچنے پر مجبورکرتا ہے کہ ان کی شخصیت میں آخر کو ن سی ایسی مقنا طیسی کشش تھی کہ ان سے ملنے والا بار بار ان سے ملنے کی تمنا کر تا تھا آخر کو ن سا ایسا جذبہ تھا جو انہی با ر بار پاکستان کھینچ لا تا تھا! پا کستا نی تارکین وطن کی کثیر تعداد اور بر طانیہ میں آباد ہے ۔ لندن شہر کی ایک مسلمہ بین الاقوامی حیثیت ہے اسے ہر طرح کی سیاسی اور معاشی سرگرمیوں کا مرکزما نا جاتا ہے ۔ لندن ائیر پورٹ کے در و دیوار گواہ ہیں کعبدالرزاق صاحب کی زند گی کا ایک اہم حصہ پاکستان آئے ہوئے دوستوں اور عز یزوں کو ائیر پورٹ چھوڑنے اور لے جانے پر صرف ہوالیکن وہ یہ سب کچھ خلو ص اورمحبت سے کرتے تھے اگر کسی دوست نے برطانیہ کی زمین پر قد م رکھ لیا اور اُنہیں اپنی آمد کی اطلاع کردی تو رزاق صاحب انہیں فوراً ’’ اون‘‘ کر لیتے تھے اُس کی آئو بھگت اور مہما ن نوازی کو اپنا ذاتی فر ض سمجھتے تھے ۔ ایسا کیوں تھا؟ بقول ان کے ایک کالم نگار دوست کے اِس شخص کو’’ اپنے دوست ‘‘ خون کے رشتوں سے بھی زیادہ عز یز تھے۔ اگر چہ رزاق صاحب کا تعلق پو ٹھوار کے مشہور شہر گو جر خان سے تھا لیکن ان کا حلقہ احباب لاہور، راولپنڈی سے لے کر کراچی ، لندن سے گلاسکو اور یورپ کے علاوہ نیو یارک اور مڈ ل ایسٹ تک پھیلا ہوا تھا وہ جہاں بھی جاتے دوستوں اور خصوصاً پوٹھواری دوستوں کا جھمگھٹا لگ جاتا تھا ۔ بقول ان کے ایک دوست کے اُن کا حلقہ احباب دیکھ کر ہم لو گ سو چ میں پڑ جاتے کہ عبدالرزاق نے اتنے دوست بنانے میں کون سا جادو استعما ل کیا ہو گا اور زندگی کا کتنا حصہ لگا یا ہوگا ؟ اُن کا کہنا تھا کہ نشیب و فراز اور اچھا برا وقت زندگی کا حصہ ہے ۔ خوشی اور اچھے وقت میں تو سب ساتھ ہوتے ہیں لیکن اگر مشکل وقت میں لوگوں کو یاد رکھیں تو لو گ آ پ کی غیر موجودگی میں بھی اتنی ہی عز ت کریں گے جتنی آپ کے سامنے کریں گے وہ اکثر کہتے تھے کہ حکومت کے اعلیٰ افسران جب اپنے اختیارات کے ساتھ اپنی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں تو سب انہیں سلام کر تے ہیں لیکن ان ہی افسران کو جب او ایس ڈی بنا کر کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے تو کوئی اُن کا پرسان حال نہیں ہوتا ۔ رزاق صاحب کا کہنا تھا کہ میں ایسے لوگوں سے اُس وقت بھی ملتا تھا جب وہ کسی مشکل میں ہو تے تھے اور ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہو تا تھا۔ ایک ریڑ ھی والے سے لے کراخبار نویس ، ادیب ، دانشور سیا ستدانوں اور اعلیٰ ترین سطح پر حکو مت کے اکابرین سے ان کے تعلقات رہتے تھے ۔ ایسے بھی ہوا کہ اصولوں کی بنیاد پر مخالفت کی اور شدید نقصان اُٹھانا پڑا ، کسی کو بلیک میل کیا اور نہ کسی فرد کی عزت کو اچھالا اور نہ ہی اخبار کو ذاتی شہرت کیلئے استعمال کیا۔ ایک دفعہ ان کا ایک کاروباری دوست سے اختلاف ہوا دوسری طرف سے نوبت بد تمیزی اور جھگڑ ے تک پہنچ گئی ۔ سا تھیوں نے مشورہ دیا کہ اس شخص کے خلاف اپنے اخبار میں لکھا جائے لیکن رزاق صاحب نے کہا کہ ذاتی جھگڑے کو اخبار میں لا نا زیا دتی ہو گی ۔ کیو نکہ میرے پاس تو اخبار ہے مگر میرے مخا لف شخص کے پاس اخبار نہیں ہے اس لئے اس مشورے سے اجتناب کیا ۔ فیض احمد فیض ، قدرت اللہ شہاب ، زیڈ اے بخاری، مولانا کوثر نیازی ، فلمسٹار علا ئو الدین اور اُستا د دامن جیسی شخصیات ان کے دوستوں میں شامل تھیں۔ اُستاد دامن کے سینکڑوں پنجابی شعر انہیں زبانی یاد تھے ۔گجرات کے چوہدری ظہور ا لہٰی (مرحوم) چوہدری پرویز الہیٰ اور چوہدری شجاعت حسین سے اُن کا گھر کے افراد کی طرح تعلق قائم رہا مضمون کی طوالت کے ڈر سے بہت سے قابل احترام دوستوں کے ناموں کو ضبط تحر یر میں لا نا مشکل ہے ۔ وہ کینسر کے مریض تھے جب اُنہیں یقین ہو گیا کہ اب اُن کے جانے کا وقت قریب آ گیا ہے تو اپنے دوستوں اور خاص طور پر انور پرو یز صاحب سے جب وہ اُن کی بیمار پرسی کیلئے گھر آئے توانور پرویز صاحب سے کہا کہ آپ نے میر ے جناز ے پر ضرور آنا ہے اور پر و یز صاحب نے بھی اپنے اس وعدے کو نبھایا اُن کی صحافتی زندگی کا آغاز روز نامہ ’’ کو ہستان‘‘ سے ہواوہ 1960میں برطانیہ چلے گئے کچھ عرصہ کا کس اینڈ کنگز جو ایک کنسلٹنٹ فرم تھی میں کام کیا ۔1963میںہفت روزہ ’’مشرق ‘‘ سے وابستہ ہوئے جس کے ایڈیٹر مشہور ادیب قابل احترام صحافی و پروفیسر محمود ہا شمی تھے لیکن جب چھ سال بعد1969میں ’مشرق‘ سے علیحد ہ ہو کر ہفت روزہ ’’ اخبار وطن‘‘ کا اجراء کیا جس کے ادرات کے فرائض علی کیانی(مرحوم) اور اسلم لون کرتے تھے۔ آج کمپیو ٹر کی ایجاد کی وجہ سے چشم زن میں خبر ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جا تی ہے لیکن 60اور70کے عشرے میں برطانیہ سے اُردو اخبار شا ئع کر نا ایک مشکل امر تھا ۔ؑغالباً 1972میں روزنامہ جنگ نے لند ن سے اپنی اشاعت کا آغاز کیا تو اسے اُردو صفحات کا ایک عظیم اثاثہ قرار دیا اور اس کا استقبال کر تے ہوئے اپنے اخبار کے صفحات میں اس کو جگہ دی ۔ جنگ کے چیف ایڈیٹر جناب خلیل الرحمن (مرحوم) اور شکیل الرحمن سے اُن کے قابل احترام بزرگوں اور دوستوں جیسے تعلقات تھے ۔ ’’ ڈیلی وطن‘‘ تقریباً دو سال اور ویکلی اخبار وطن کم و بیش تیس سال تک بر طانیہ سے شائع ہوتا رہا اُنہوں نے اس پرچے کو عام لوگوں کی خدمت کا ذریعہ بنایا اگر وہ چاہتے تو اس اخبار کے ذریعے بہت سے وسائل اکھٹے کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ذاتی فوائد کے حصول پر شاید مستقل پابندی لگا رکھی تھی وہ اکثر کہتے تھے میں نے زندگی میں کئی غلطیاں کی ہیں لیکن میں خدا کا شکر ادا کر تا ہوں کہ میرے بچے اچھی تعلیم اور اسلامی اقدار اور پاکستانیت سے آراستہ ہیں عام طور پر لوگ بچوں کو تعلیم کیلئے یور پ اوربر طانیہ بھیجوا تے ہیں لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ رزاق صاحب نے اپنے بچوں کو پاکستانی معاشرے سے روشنا س کرانے کیلئے بر طانیہ سے پاکستان لا کر برن ہال سکول ابیٹ آباد میں داخل کرایا انگر یز ی کے بجائے بچوں سے پوٹھواری اور پنجابی میں بات کی ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ ہمارے بچے صرف انگریز ی پڑھیں بلکہ ہمیں اپنی سوسائٹی، اپنی زبان اور اقدار سے بچوں کو روشناس کرانا چا ہیے۔ اُن کی وفات سے قبل وائتھم فارسٹ جو ایسٹ لند ن کی اہم اور بڑی بار وBorough( میو نسپل کارپوریشن ) ہے کہ مئیر نے ایک اہم تقریب میں جس میں برٹش پارلیمنٹ کے کئی ممبران نے شر کت کی پا کستانی کمیونٹی کیلئے ان کی چالیس سالہ خدمات کے پیش نظر انہیں اعلیٰ اعزاز سے نوازا، ملیحہ لو دھی جو اُس وقت خود حکو مت کی سفیرتھیں ان کی خدمات کے پیش نظر ان کو صحیح معنوں میں پا کستان کا سفیر قرار دیا ۔ ممبر پارلیمنٹ لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ عبدالرزاق صاحب جیسی شخصیات نے پاکستان اور بر طانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی ترقی، خوشحالی اور میڈیا کو موجودہ سطح پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے یہ لوگ کسی سیاسی پناہ سوشل سیکورٹی یا کوئی بینفیٹ لینے کیلئے یہاں نہیں آئے تھے بلکہ صحیح معنوں میں موجودہ معاشرے کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے ۔ آج بر طانیہ میں کئی اُردو اخبار شائع ہو رہے ہیں، کئی ٹیلی ویثرن چینل کا م کر رہے ہیں اور پا کستانی کمیونٹی کا برطانیہ کی معیشتاور ترقی میں اہم کردار ہے ان ن کے دوست اور مشہور کا لم نگار عبدالقادر حسن (مرحوم)نے ایک مر تبہ کہا تھا کہ میں شہروں کو ان کی تاریخ اور عمارتوں سے نہیں بلکہ وہاں مو جود اپنے دوستوں کی موجودگی سے پہنچا نتا ہوں ۔ آج عبدالرززاق صاحب ہم میں موجود نہیں ہیں بلکہ بر طانیہ ہی کی سر زمین میں دفن ہیں تاہم ہمیں اُمید ہے کہ مستقبل کا مورخ بر طانیہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی اور اُردو صحافت کی تاریخ کا جب بھی ذکر کر ے گا تومیرے بڑ ے بھائی عبد الرزا ق اور ان کیخدمات کو ضرور یاد رکھے گا ۔ اللہ تعالیٰ اُ ن کی قبر پر رحمت کے پھو ل بر سائے اور ان کی فیملی اور دوستوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ ( آمین)
یورپ سے سے مزید