• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جوہر ٹاؤن دھماکا، لاہور میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کے بعد شہر کی سیکیورٹی  کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی بڑھانے کا حکم دے دیا۔

ساجد کیانی نے کہا کہ شہریوں کی سیکیورٹی کیلئے تمام ایس ایچ اوز اور چوکی انچارجز بھی فیلڈ میں رہیں۔

دوسری جانب لاہور میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ جوہر ٹاؤن کے علاقے میں ہائی ویلیو ٹارگٹ شخصیت کے گھر کے قریب پیش آیا ہے۔

جوہر ٹاؤن میں بارودی مواد کے دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہوئے، زخمیوں میں سے 4 کی حالت تشویش ناک ہے۔

آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ دھماکا ملک دشمن عناصر کی کارروائی ہے، سی ٹی ڈی تحقیقات کر رہی ہے، فوری طور پر دھماکے کی نوعیت سے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

حافظ سعید کا گھر ٹارگٹ ہونے کے سوال پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہائی ویلیو ٹارگٹ شخصیت کے گھر کے قریب پولیس پکٹ ہے، اسی لیے گاڑی گھر کے قریب نہیں جا پائی، میرا خیال ہے کہ اسی لیے ٹارگٹ پولیس ہے۔

پولیس کے مطابق دھماکا گھر کے باہر کھڑی گاڑی میں ہوا، جس سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا، کئی راہ گیر بھی زخمی ہوئے۔

لاہور دھماکے سے متعلق وزیر قانون پنجاب کا ویڈیو پیغام

وزیر قانون پنجاب راجا بشارت کا لاہور میں ہونے والے دھماکے سے متعلق کہنا ہے کہ دیکھ رہے ہیں کیا دھماکا گاڑی میں ہوا یا گھر میں، تعین کیا جارہا ہے کہ یہ دھماکہ کیسے کیا گیا ہے۔

لاہور دھماکے کے حوالے سے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے ویڈیو پیغام جاری کردیا ۔

راجہ بشارت نے کہا کہ کوئی تھریٹ الرٹ پہلے سے نہیں تھا۔

وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ تمام تحقیقات کی جارہی ہیں جلد تمام صورتحال کلیئر ہوجائے گی۔

قومی خبریں سے مزید