• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تیاری

بلوچستان کے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر بلوچستان اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد سے حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہیں اور ایک دوسرئے پر شدید نوعیت کے الزامات عائد کررہے ہیں ، 18 جون کو بلوچستان کے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر صوبائی اسمبلی کا احاطہ میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا ، بلوچستان اسمبلی میں جو مناظر دیکھنے میں آئے ان کا بلوچستان اسمبلی میں اس سے قبل شائد کسی نے تصور بھی نہ کیا ہوگا ، بجٹ اجلاس سے قبل ہی بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے بلوچستان اسمبلی کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاجی کیمپ لگاکر دھرنا دیا تھا اور بجٹ سے قبل 17 جون کو بلوچستان کی تمام قومی شاہراہیں بند کردی تھیں۔

تاہم شدید گرم موسم ، عوام کو درپیش مشکلات اور سوشل میڈیا پرعوامی دباو کے بعد اپوزیشن نے دن ڈیڑھ بجے تمام قومی شاہراہیں کھول دینے کا اعلان کیا تھا تاہم اس روز بھی اپوزیشن قائدین نے بجٹ کے موقع پر شدید احتجاج کا عندیہ دیدیا تھا تاہم عام پر توقع کی جارہی تھی کہ قومی اسمبلی کی طرز پر بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بھی اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دئے گی مگر بجٹ اجلاس سے ایک روز قبل ہی اپوزیشن کا رویہ سخت ہوگیا جس کے بعد صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے اپوزیشن کی جانب سے کسی ممکنہ شدید احتجاج کو روکنے کے لئے بلوچستان اسمبلی کی جانب جانے والی سڑکیں خار دار تاروں ، کنٹینر سمیت دیگر رکاوٹیں کھڑی کرکے ہر طرح کی آمد و رفت بند کردی گئی تھیں ، صورتحال بجٹ اجلاس شروع ہونے سے قبل اس وقت گمبھیر ہوگئی جب اپوزیشن ارکان کی جانب سے بلوچستان اسمبلی کے تمام گیٹ بند کرکے احتجاج شروع کردیا گیا تھا۔ 

حکومت کی جانب سے گیٹ کھلوائے جانے کے موقع پر جو صورتحال پیدا ہوئی اس کا کم از کم بلوچستان میں اس واقعے سے چند منٹ قبل تک تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ، بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن ارکان نے اسمبلی کے تمام داخلی دروازوں کو تالے لگادئیے تھے اسمبلی سیکرٹریٹ کے اندر جانے والے راستوں پر بھی ارکان اسمبلی دھرنا دیا ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے گیٹ کھلوانے کے لئے اپوزیشن ارکان سے بات چیت کی جو ناکام ہوئے جس کے بعد پولیس نے بلوچستان اسمبلی کے داخلی دروازے کو بکتر بند گاڑی کے زریعے توڑنے کے دوران اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان عبدالواحد صدیقی ، محمد رحیم مینگل اور شکیلہ نوید دہوار زخمی ہوگئیں اورجب وزیراعلیٰ بلوچستان جب سخت سیکورٹی میں اسمبلی پہنچے تو اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا گملے اٹھا کر پھینک دئیے جس اسمبلی سیکرٹریٹ کے شیشے ٹوٹ گئے اور حکومتی خاتون رکن زخمی ہو گئیں۔

دوسری جانب واقعے کے بعد حکومت اور اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرئے کے خلاف واقعے کے حوالے سے ایف آئی آر کے اندراج کے لئے پولیس کو درخواستیں دیدی گئیں ان سطور کے تحریر کیے جانے تک کار سرکار میں مداخلت ، کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی اور پولیس اہلکاروں پر حملے کے الزام میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے 17 ارکان بلوچستان اسمبلی کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا درخواست میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان ملک سکندر ایڈووکیٹ ، احمد نواز بلوچ ، اختر حسین لانگو ، ثنا بلوچ ، شکیلہ نوید دہوار ، عبدالواحد صدیقی ، حمل کلمتی ، سید عزیز اللہ آغا ، نصیر شاہوانی ، نصیر اللہ زیرے ، اکبر مینگل ، اصغر ترین ، حاجی نواز کاکڑ ، شام لعل ، رحیم مینگل ، مولوی نور اللہ ، زابد ریکی سمیت ان کے حامیوں کی خلاف اسمبلی کی دیوار پھلانگنے شیشے توڑنے اور پولیس اہلکاروں پر حملے کے الزام میں مقدمہ درج کرنی کی استدعا کی گئی تھی۔ 

جبکہ اپوزیشن ارکان کی جانب سے بھی وزیر اعلیٰ و دیگر کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لئے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرادی گئی ہے تاہم ان سطور کے تحریر کیے جانے تک اپوزیشن ارکان کی درخواستوں پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی تھی ، متحدہ اپوزیشن جماعتوں اور پی ڈی ایم ائے مین شامل جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد اپوزیشن رہنماوں جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع ، پشتونخوامیپ کے رہنما و سابق صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال اور بی این پی کے قائم مقام صدر ملک عبدالوالی کاکڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے کی صورت میں عدالت سے رجوع ، حکومت مخالف تحریک چلانے، بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کرنے ، اپوزیشن جماعتوں کا اسمبلی کے احاطے میں اپنا اجلاس منعقدہ کرکے حکومت کے کارنامے عوام کے سامنے لانے ، 25 جون کے بعد صوبے میں شٹر ڈاؤن کا اعلان کرنے سمیت متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے رہنماوں کو اعتماد میں لیکر وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دیدیا ہے۔ 

دوسری جانب وزیراعلیٰ جام کمال خان نے اپوزیشن کو آڑئے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری اقدار کی بات کرنے والی اپوزیشن بھول گئی کہ بلوچستان اسمبلی صوبے کا سب سے مقدس ایوان ہے جس میں خواتین کے ساتھ جو کچھ ہوا اور توڑ پھوڑ کی گئی وہ سب کے سامنے ہے ایوان کو بہترین فورم قرار دینے والی اپوزیشن خود ایوان میں نہیں آئی۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید