• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

جنوبی پنجاب: بجٹ مختص کرنا کافی نہیں، ترقیاتی کام بھی شروع کریں

قومی اسمبلی میں پیش آنے والے ناشائستہ واقعات کے بعد اپوزیشن اور حکومت میں کسی حدتک سیزفائر ہوگیا ہے ،مگرخدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جب بجٹ منظور کرانے کا مرحلہ آئے گا ،توایک بار پھر یہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسپیکرنے اپوزیشن کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ پچھلے دنوں میں جوقانون سازی کی گئی ،اس پر اپوزیشن سے دوبارہ مشاورت کی جائے گی ،مگر اگلےہی دن وزیر اطلاعات فوادچودھری اور وزیراعظم کے مشیربابر اعوان نے ایک پریس کانفرنس کرکے دوٹوک الفاظ میں یہ کہہ دیا کہ جو قانون سازی ہوچکی ہے۔ 

اسے واپس نہیں لیا جائے گا ،شہبازشریف کو اپنی تقریر مکمل کرنے کے لئے تین روز لگے ،لیکن اس تقریر میں کوئی ایسی بات نہیں تھی ،جس کے حوالے سے یہ سوچا جائے کہ حکومتی اراکین انہیں کیوں تقریرنہیں کرنے دینا چاہ رہے تھے ،اس لئے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جو وقتی سیزفائر ہوا ہے وہ کسی وقت بھی ختم ہوسکتا ہے اور ایک بار پھر وہی جنگ وجدل کے مناظر قومی اسمبلی میں رونما ہوسکتے ہیں۔

سیاسی حوالے سے اس وقت ملک میں ایک بے یقینی کی فضا ہے اور یہ چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ بجٹ کے بعد کچھ بھی ہوسکتا ہے ،بلوچستان اسمبلی میں جو کچھ ہوا،اسے بھی سیاسی حلقے تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہےہیں کیونکہ پہلی بار اسمبلی تو تالے لگائے گئے اور وزیراعلیٰ پربھی جوتے پھینکنے کے واقعات ہوئے ،ایسے حالات میں کیا جمہوریت اپنی فطری رفتار سے چل سکتی ہے بظاہر ایسا ممکن نظرنہیں آتا ،تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے تناظر میں پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس پرامن طورپر جاری ہے ،لوگ اسے اسپیکر چودھری پرویزالٰہی کی ماہرانہ اور قائدانہ صلاحیتوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

پہلی بار اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے بھی اسپیکر پرویزالہی سے ملاقات کی ،یہ گویا مسلم لیگ( ن) اور مسلم لیگ (ق)سے ایک طویل عرصہ بعد پہلابراہ راست رابطہ ہے ،شاید اس لئے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی بنچوں میں ایک ہم آہنگی دیکھنے میں آرہی ہے ،پنجاب حکومت اور پی ٹی آئی کے ارکان جن میں ملتان کے صوبائی ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں ، صوبائی بجٹ کو مثالی قرار دے رہے ہیں ،ان کے خیال میں ایسا بجٹ پنجاب کی دس پندرہ سالہ تاریخ میں پہلے کبھی پیش نہیں کیا گیا ہے۔

ملتان اور جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی اس لئے بھی اس بجٹ کو مثالی قرار دے رہے ہیں کہ اس میں میں جنوبی پنجاب کے لئے پہلی بار 35 فی صد بجٹ مختص کیا گیا ہے ،بجٹ تو پچھلے سال بھی علیحدہ مختص کیا گیا تھا مگر اس کا بیشتر حصہ صرف نہیں ہوسکا ،جس پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے چند دن پہلے شدید تنقید بھی کی تھی کہ 30 جون تک پچھلے مالی سال کا مختص بجٹ ضیائع ہوجائے گا۔

اسے بروقت خرچ کیوں نہیں کیا گیااور جن ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا،ان پر کام شروع کیو ں نہیں کرایا گیا ،دیکھنایہ ہے کہ اس بار جو 35فی صدبجٹ مختص کیا گیا ہے وہ جنوبی پنجاب میں کس رفتار سے خرچ کیا جاتا ہے ،اگر بیوروکریسی اس بار بھی روایتی ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے اور بجٹ کو خرچ نہیں کرتی ،تو گویا پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کو اس کا حق نہیں دے سکے گی ،اس لئے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کا یہ کہنا ہے کہ صرف بجٹ ہی مختص نہ کیا جائے ،بلکہ اس بجٹ کو منصوبوں پر خرچ کرنے کی رفتار بھی بڑھائی جائے ،تاکہ ترقیاتی سکیمیں بروقت مکمل ہوسکیں اورعوام کو اپنے علاقوں میں ترقی ہوتے نظرآئے۔

تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی یہ بات شاید اس لئے بھی کررہے ہیں کہ گزشتہ تین سال کی مدت میں جنوبی پنجاب کو ہرلحاظ سے نظرانداز کیا گیا ہے ،سوائے ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے چند شہروں میں میگا پراجیکٹس دے پر پورے جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا ،ڈیرہ غازی خان میں بھی زیادہ تر پراجیکٹس صرف کاغذوں تک محدود ہیں اور ان پر عملی طور پر کام شروع نہیں ہوسکا ،پنجاب کا یہ بجٹ اس وقت مثالی قرار پائے گا ،جب حقیقی معنوں میں ترقی اور مہنگائی سے ریلیف کے اثرات عام آدمی تک پہنچیں گے ،ورنہ یہ بھی اعداد وشمار کا گورکھ دھندہ ہی سمجھا جائےگا ،جوصرف کاغذوں کی حدتک عوام کوریلیف دینے کا ذریعہ تو ہے مگرعملی طور پر ان کی محرومیوں کا ازالہ نہیں کرسکتا۔

جہاں تک محرومیوں کے ازالے کا تعلق ہے ،تو ملتان سے کچھ ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ محرومیوں کے ازالے کے لئے جوترقیاتی کام کرائے جارہےہیں ،ان کا معیار انتہائی ناقص ہے اور نگرانی کا کوئی مؤثرنظام نہ ہونے اور کمیشن کی وجہ سے ایسے پراجیکٹس بننے کے چند دنوں میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں ،اس کی سب سے بڑی مثال وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے قومی حلقہ 156میں بننے والی چونگی نمبر 14 سےجنرل بس سٹینڈ تک سٹرک ہے ،جو بارش کا ایک ریلہ برداشت نہ کرسکی اور اس میںعین چوک پر شگاف پڑگیا ،ٹرک دھنس گیا ،گندے پانی سے سڑکیں اور اردگرد کے علاقے بھر گئے ،لوگوں کے گھروں میں گندا پانی گھس گیا اور لوگ اس تختی کو دیکھتے رہے۔

جو چندماہ قبل ہی شاہ محمود قریشی کے نام سے اس روڈ پر لگائی گئی اور ان سے ہی اس کا افتتاح کرایا گیا ،اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر وزیرخارجہ کے دیئے ہوئے فنڈز سے بھی معیاری سٹرک نہیں بن سکی ،پھر باقی ارکان کے منصوبوں میں معیار کہاں آئے گا ،یہ سڑک جو شہر کے گنجان آباد علاقے میں موجود ہے اور یہاں سے روزانہ ہزاروں افراد ،سینکڑوں گاڑیاں گزرتی ہیں ،علاقہ مکینوں کا کہناہے کہ یہ سٹرک جو ایک بارش برداشت نہیں کرسکی ،برسات کی بارشیں شروع ہوئیں تو خدشہ ہے کہ یہ سڑک کہیں بیٹھ ہی نہ جائے ،حیرت اس بات کی ہے کہ شاہ محمود قریشی نے ابھی تک اس کا نوٹس نہیں لیا اور سڑک بنانے والے ٹھیکے دار سے بازپرس نہیں کی ۔

تازہ ترین
تازہ ترین