• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چمکنی میں 7 افراد کا لرزہ خیز قتل، تحقیقات کا دائرہ وسیع

پشاور( کرائم رپورٹر) چمکنی میں 7افراد کا لرزہ خیز قتل معمہ بن گیا ،3روز گزرنے کے باوجود گتھی سلجھ نہ سکی ، پولیس نے تحقیقا ت کا دائر ہ وسیع کر دیا ، وقوعہ جائیداد کا تنازعہ یا ذاتی رنجش ، معمہ حل نہ ہوسکا ، بوقت وقوعہ سربراہ خانہ اور بیٹے کی عدم موجودگی سوالیہ نشان ہے، وقوعہ کے وقت سے غائب شخص کی تلاش شروع ، پولیس نے تنگی اور سوات میں خفیہ طورپر تفتیش کا آغاز کردیا،تین دن گزرنے کے باوجود گرفتار ملزمان کے خلاف کسی نے دعویداری نہیں کی ۔پیر اور منگل کی درمیانی شب پھندو روڈ پر چوا گجر کے قریب کھیتوں کے درمیان میں واقع گھر میں نامعلوم افراد نے ابراہیم خان کی اہلیہ ٗتین بیٹوں ٗچچازاد بھائی حبیب ٗاس کی اہلیہ اور بیٹے کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا جس پر پولیس نے فوری طورپر آپریشن کرتے ہوئے چار مشتبہ افراد کو گرفتا ر کر لیا اور موقف اختیارکیا کہ پھندو روڈ پر واقع جائیداد پر عمران اور جلال الدین جو رشتہ دار ہیں کے مابین تنازعہ چلا آرہاہے خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ اسی جائیداد کے تنازعہ پر عمران کے مزارع ابراہیم کے خاندان کے سات افراد کو قتل کیا گیا ہو ٗتین دن گزرنے کے باوجود گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے لیکن ان کے خلاف کسی نے دعویداری نہیں کی ٗپولیس کاکہناہے کہ مقتول حبیب اللہ جرائم پیشہ تھااور اس کے خلاف پشاور کے تھانوں میں مقدمات بھی درج تھے اور وہ سوات سے ابراہیم کے گھر الہ خانہ کے ہمراہ آیاتھا اوراس کے ساتھ رہائش پذیر تھا ٗپولیس کا کہناہے کہ وقوعہ کے وقت آدھی رات کو سرابراہ خانہ ابراہیم یونیورسٹی ٹائون کے قریب ایک زیر تعمیر مکان میں محنت مزدوری کررہاتھا جبکہ اسکا چودہ سالہ بیٹا عمران رنگ روڈ پر واقع ایک دکان میں کام پر گیا تھا پولیس ٹیم کے مطابق تمام افراد کو تیس بور پستول سے فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے ٗمقتول حبیب اللہ کے موبائل پر نہ کوئی کال آئی ہے اور نہ اس نے کسی کو فون کیا ہے اس کے علاوہ گھر میں موجود چار عدد موبائل فونز کا ڈیٹاحاصل کرکے تفتیش کی جارہی ہے تاحال مقتولین کا پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول نہیں ہو ا جس سے اہم شواہد کی توقع ہے تفتیشی ٹیم کو یہ بھی معلوم ہوا کہ وقوعہ کی شب ابراہیم کے گھر کسی کو بطور مہمان آنا تھا ٗٹیموں کے مطابق وقوعہ کے وقت لاشیں جس پوزیشن میں پڑی تھی اس پر بھی تفتیش کی جارہی ہے ٗپولیس کی تفتیشی ٹیمں سوات اور تنگی بھی پہنچ چکی ہیں انہوں نے بھی خفیہ طورپر مقامی لوگوں سے معلومات اکٹھی کرنا شروع کردیا ہے پولیس کا کہناہے کہ جائیدادکے تنازعہ کے ساتھ ساتھ دیگر پہلوئوں پر بھی تفتیش کی جارہی ہیں ۔
پشاور سے مزید