• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کا قدیم شہر ٹھٹھہ ، جسے بادشاہوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ اس میں سمہ حکم رانوں نے عظیم الشان عمارتیں اور مقابر تعمیر کرائے۔ ماضی میں یہ علم و حکمت کا گہوارہ رہا ہے۔یہ تاریخی شہر سب سے بڑے قبرستان کے حوالے سے بھی ساری دنیا میں مشہور ہے۔ مکلی کے قبرستان کی صدیوں پرانی قبریں اور قدیم آثار آج بھی ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ اگر مکلی شہر سے شمال کی جانب سفر کریں تو 10 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد مغرب کی طرف کھنڈرات اور اینٹوں کا ڈھیر نظر آئے گا،جب کہ سڑک سے مشرق کی طرف ایک پتھریلا اور ٹیڑھا میڑھا کچا راستہ نکلتا ہے جس کے کناروں پر کانٹے دار جھاڑیاں اُگی ہوئی ہیں۔ 

اس راستے پر دو کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد ایک شاندار قلعہ اور غنیم کے حملے سے بچنے کے لیے ایک مضبوط فصیل کے آثار بکھرے ہوئے ہیں، جو وسیع و عریض قطعہ اراضی پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس قلعہ کے مختلف نام ہیں لیکن یہ کلیان کوٹ کے نام سے معروف ہے۔ یہ کب تعمیر ہوا اور اس کے معمار کون تھے، اس کے بارے میں مؤرخین کی کوئی حتمی رائے نہیں ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ قلعے کی تعمیر 450ء سے 632ء کے دوران رائے خاندان کے دور میں ہوئی تھی جو بدھ مت کا پیروکار تھا۔ 

بعض مورخین کا کہنا ہے کہ جب سکندر اعظم نے سندھ پر قبضہ کیا تو یہ قلعہ اس وقت بھی موجود تھا۔ بہرحال مختلف حکم رانوں نے اپنے دور حکومت میں اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کرائی تو یہ قلعہ ان کے نام سے موسوم ہوگیا۔ یعنی یہ قلعہ مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے مشہور ہوا، جن میں کلیان کوٹ، کلاں کوٹ، تغلق آباد سمہ کوٹ اورطغرل آباد کے نام قابل ذکر ہیں۔ 

معروف تاریخ نویس ، علی شیر قانع، مرزا قلیچ بیگ،میر معصوم بکھری، پیر حسام الدین وغیرہ نے بھی اپنی تصنیفات میں اس کے مختلف نام تحریر کیے ہیں، جن میں تغلق آباد، طغرل آباد، کالا کوٹ، کلاں کوٹ اور کلیان کوٹ ہیں۔ مرزا قلیچ بیگ کی تحقیق کے مطابق اس قلعے کا قدیم نام ’’کلا راج تھا‘‘ جو بعد میں "کلا کوٹ" اور پھر "کلیان کوٹ" بن گیا۔

15ویں صدی میں سمہ حکم راں جام تغلق نے اس کی تعمیر نو کرائی تو یہ سمہ کوٹ اور تغلق آباد کے نام سے معروف ہوا۔1860ءمیں 'برطانیہ کے معروف جغرافیہ داں ،محقق ،مؤرخ اور ماہر لسانیات، رچرڈ برٹن جب ٹھٹھہ آئے تو انہوں نے اس قلعہ کے بھی کھنڈرات دیکھے۔ انہوں نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں لکھا ’’، 'کلاں کوٹ‘‘سنسکرت زبان کے لفظ 'کلیان کوٹ سے نکلا ہے، جس کے معنی ’’امن اور شانتی والا قلعہ‘‘ ہیں لیکن یہ اپنے نام کے برعکس بادشاہوں کی پناہ گاہ رہا ہے۔

شاہ بیگ ارغون نےٹھٹھہ پر جبراً قبضہ کیا تھا۔ 25جون 1524ء میںاس کی وفات ہوئی۔ جب یہ اطلاع ارغون خاندان کے ولی عہد، 'شاہ حسن کو ملی، توعنان حکومت سنبھالتے ہی وہ غصے کے عالم میں ٹھٹھہ میں داخل ہوااور قتل عام شروع کرادیا۔اس نے چھ ماہ اسی قلعہ میں گزارے۔ترخانوں کے 38 برس کے اقتدار کے خاتمے کے آخر میں جب اکبر بادشاہ نے 'خان خاناں کو سندھ پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا، تو 'مرزا جانی بیگ نے شکست کھاکر کلاں کوٹ میں ہی پناہ لی۔ اس کی باقیات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم دور میں یہ یقیناً ایک مضبوط قلعہ ہوگا۔ 

اس کے مغربی جانب وسیع و عریض جھیل ہے، سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے پانی کے دوبڑےتالاب ہیں، جو اب خشک ہوچکے ۔ سندھی مؤرخین کے مطابق کبھی اس جھیل کے کنارے سایہ دار درختوں کی قطاریں ہوا کرتی تھیں۔ نیچے میٹھے پانی کی جھیل اور اوپر پانی کے تالاب، محض اس لیے بنائے گئے تھے کہ ،اگر حملے کی صورت میں قلعہ بندی کرنی پڑی تو پانی وافر مقدار میں موجود رہے اور اس کے مکینوں کو کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ محل کے اندر بادشاہوں اور ان کے خاندان کے لیے مخصوص حصے میں بنے محلات کی باقیات ،صرف کھنڈرات کی صورت میں موجود رہ گئی ہیں۔ اکھڑی ہوئی اینٹیں دور دور تک بکھری پڑی ہیں۔ قلعے کے مغربی حصہ میں جھیل کے کنارے ایک قدیم مندر کےکھنڈرات ہیں۔ مندر کے جنوب میں چھوٹا سا قبرستان ہے جس میں ایک جانب چٹانی پتھروں سے احاطہ بنا ہوا ہے، اس کی چھت گرچکی ہے، صرف دیواریں باقی رہ گئی ہیں۔

مضبوط فصیلوں کی وجہ سے دشمنوں پر اس قلعے کا رعب طاری رہتا تھا۔ قلعہ میں ٹھٹھہ کے سومرو، سمہ اور جام رہائش پذیر رہے تھے۔ کلیان کوٹ کو حفاظتی نقطہ نظر سے ایک مضبوط شہر سمجھا جاتا تھا، بوقت ضرورت حکمران اس قلعے میں قیام کرتے تھے۔ جنگ کے زمانے میں یقیناً عوام کے ساتھ اشیائے خورونوش اور سامان رسد بھی اس میں منتقل کیا جاتا ہوگا۔ قلعے کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی دیواروں کی چوڑائی اتنی زیادہ تھی کہ ایک وقت میں 4 بیل گاڑیاں گزر سکتی تھیں۔ لیکن اب وہ تمام دیواریں زمیں بوس ہو چکی ہیں۔ 

قلعے کے وسط میں ایک شاندار مسجد کے آثار ابھی بھی باقی ہیں جو اپنی شکستہ حالی کے باوجود پرشکوہ نظر آتی ہے۔ دیواروں پرنیلے رنگ کی ٹوٹی ہوئی ٹائلیں لگی ہوئی ہیں۔ مسجد کا منبر چٹانی پتھر کا بنا ہواہے، جس کی وجہ سے ابھی بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے جس پر خوبصورت نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ مسجد کی چھت گر چکی ہے دیواریں بھیز شکستہ حال ہیں۔ مشرقی سمت میں مسجد کا تالاب جو شاید کبھی وضو خانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہوگا اب خشک ہو چکا ہے۔ مسجد کے شمال کی جانب کمروں کے آثار، دینی مدرسے کی نشان دہی کرتے ہیں ۔ قلعے کے مشرقی کنارے پر موجود طویل و عریض کھنڈرات سے کسی بازارکی موجودگی کاپتہ ملتا ہے۔