کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی ،اسپیکر کی جانب سے پی ٹی آئی کے 8ارکان پر ایوان میں داخلہ پر پابندی کے باعث اسمبلی کا ماحول کشیدہ رہا، تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی باجماعت ڈھول باجے کے ساتھ سندھ اسمبلی پہنچے انہوں نے اسپیکر کے فیصلے کے خلاف ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور اسمبلی کے باہر اور پھر اند ر احتجاجی دھرنا بھی دیااور مرکزی دروازے پر’’ گو کرپشن گو ‘‘کے نعرے بھی لگائے ، فردوس شمیم نقوی نے سندھ اسمبلی کی اپنی نشست سے استعفیٰ دینے کا بھی اعلان کردیا،دوسری جانب پی ٹی آئی کے احتجاج پر اپوزیشن تقسیم نظر آئی ، جی ڈی اے نے ایوان میں جمہوریت کا علامتی جنازہ لانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قسم کے غیر جمہوری کاموں میں پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کو تیار نہیں جبکہ متحدہ نے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا،اپوزیشن لیڈر حلیم عادل کا کہناتھاکہ ثابت ہوگیا پیپلزپارٹی کا پودا اسکندر مرزا نےلگایا،رکن اسمبلی عبدالرشید نے کہاکہ پولیس کا طرز عمل جیالوں جیسا ہے، حکومتی رکن اسمبلی مکیش کمار کاکہناتھاکہ اراکین تحریک انصاف باہر اسمبلی ملازمین کو گالیاں دے رہے ہیں، جبکہ اسپیکر آغا سراج درانی نےکہاکہ اسمبلی گیٹ توڑنے کی کوشش شرمناک عمل،ایوان کی بے حرمتی کی گئی،30سال میں کبھی ایسی حرکات نہیں دیکھیں ۔ منگل کو سندھ اسمبلی کا اجلاس انتہائی سخت سکیورٹی اور کشیدہ ماحول میں اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت شروع ہوا،پی ٹی آئی کے تمام ارکان ڈھول تاشوں کے ساتھ سندھ اسمبلی پہنچے ، پابندی کا شکار ارکان نے پھولوں کے ہار پہنے ہوئے تھے،اسمبلی کے مرکزی دروازے پرپی ٹی آئی ارکان نے گو کرپشن گو کے نعرے لگائے،اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ اپنی پارٹی کے ارکان کو لینے مین گیٹ پہنچے جہاں سیکورٹی کے عملے نے اسمبلی بلڈنگ کا مرکزی دروازہ بند کررکھا تھا،ایوان کی کارروائی کے دوران اسپیکر آغا سراج درانی نے گزشتہ روز پیش آنے والے واقعہ کو انتہائی شرمناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی کا مرکزی دروازہ ڈھول تاشوں کو روکنے کے لئے بند کیا گیا ،کل ایوان کی بے حرمتی کی گئی ، اس قسم کی گھٹیا حرکات مناسب نہیں تھیں۔آغا سراج درانی نے کہا کہ وہ جی ڈی اے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہیںجنہوں نے ہمارا ساتھ دیا ،اسپیکر نے کہا کہ اگر آج بھی یہ لوگ گند کرناچاہ رہے ہیں تو سکیورٹی اہلکار گیٹ بند کردیں ، آغا سراج نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کل اتنی بڑی چارپائی لے آئے لوگوں کو گھسیٹا گیا ،سکیورٹی اہلکاروں کو گالیاں اور دھمکیاں دی گئیں،اسمبلی سکیورٹی کو دھکے دیئے، خواتین ارکان نے بھی اس عمل کا ساتھ دیا ۔اسپیکر نے کہا کہ30سال میں کبھی ایسی حرکات نہیں دیکھیں ۔انہوں نے خبردار کیا کہ اسمبلی کی بے حرمتی میں کبھی بھی برداشت نہیں کروں گا ۔آغا سراج درانی نے کہا کہ پی ٹی آئی اراکین نے گیٹ توڑنے کی کوشش کی جو شرمناک عمل ہے۔اس موقع پر جی ڈی اے کے رکن اسمبلی نند کمار گوکلانی نے کہا کہ جنہوں نے کل یہ حرکت کی وہ بہت بچکانہ اور غیر جمہوری عمل ہے ،ان لوگوںنے کل اپنا جنازہ نکالا ہے ،انہوں نے اسمبلی کو ڈی گریڈ کیا ،ہم ان کے ساتھ شامل نہیں۔نند کمار نے کہا کہ ان لوگوں کو دوبارہ اسمبلی میں نہیںآنا ہے جبکہ ہم خاندانی ہیں،اسمبلی کا اپنا ایک تقدس ہوتا ہے،ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ تحریک لبیک کے مفتی قاسم فخری نے کہا کہ گزشتہ روز کا واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ ایم ایم اے کے رکن سید عبدالریشد نے بھی کل کے واقعات کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ اس وقت پولیس کا طرز عمل جیالوں جیسا ہے۔سندھ اسمبلی کا مرکزی دروازہ بند ہونے کے باعث سید عبدالرشید اورپی ٹی آئی رکن عدیل احمد سندھ اسمبلی کے گیٹ پر چڑھے اور اسے پھلانگ کے اندر آئے تھے ، کارروائی کے دوران ایوان میں موجود پی ٹی آئی کے واحد رکن فردوس شمیم نقوی کچھ کہنا چاہتے تھے تاہم اسپیکرنے انہیںبات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں،آپ لوگوں نے جوطریقہ اختیارکیا وہ ناقابل برداشت ہے۔اس موقع پر فردوس شمیم نقوی نے سندھ اسمبلی کی اپنی نشست سے استعفیٰ دینے کا بھی اعلان کردیا اورکہ مجھے اس ایوان میں اپنا کردار ادا کرنے نہیں دیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسمبلی کی کمیٹیز میں شامل نہیں کیا جارہا، ہمیں بجٹ تقریر نہیں کرنے دی گئی،کل احتجاج کیا گیا تو رکنیت معطل کر دی گئی، میں پی ایس 101 سے استعفے کا اعلان کرتا ہوں۔وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاؤلہ نے اسپیکر کو بتایا کہ باہر گیٹ پر اسمبلی ملازمین کو گالیاں دی جارہی ہیں اورپی ٹی آئی ارکان نے سندھ اسمبلی مرکزی گیٹ پر دھرنا دے رکھا ہے۔کارروائی کے دوران ٹی ایل پی کے مفتی قاسم فخری نے کہا کہ وہ اسمبلی رولز 2013 میں ترمیم کے لئے ایک نجی بل پیش کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت جب اذان کا وقت ہوتو نماز کے لئے 15 منٹ کا وقفہ دیا جائے۔مکیش کمار چاولہ نے اسپیکر سے کہا کہ مجوزہ ترمیم کو ایوان کی متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے،ایوان میںمحکمہ فشریز اینڈ لائیو اسٹاک سے متعلق وقفہ سوالات بھی ارکان کی عدم دلچسپی کے باعث کچھ ہی دیر میں نمٹ گیا، سندھ اسمبلی کے اجلاس میںوزیراعلیٰ کے مشیرجیل اعجازجاکھرانی کے گھرپرنیب چھاپے پررکن سندھ اسمبلی میرممتازجاکھرانی نے اپنے ایک نکتہ اعتراض پر کہا کہ نیب نے کل چادرچودیواری کی خلاف ورزی کی ہے،ہمارے سیاسی مخالف وفاقی وزیر محمدمیاں سومرواوران کی والدہ ملیحہ کے کہنے پریہ سب کچھ کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ جیکب آباد قبائلی علاقہ ہے حالات خراب ہوسکتے تھے لیکن ہم نے صبرکیاپہلے بھی حالات اورانتقامی کارروائیوں کامقابلہ کیاہے اب بھی کریں گے۔ بعدازاں اسپیکر نے سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا۔ علاوہ ازیں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے پی ٹی آئی ارکان کے ہمراہ سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہاکہ ہمارے 8 ساتھی ارکان شہدائے جمہوریت ہیں، پی پی کے وزراء گالیاں دیتے ہیں ،پرس اٹھانے والا وزیر باکسنگ کررہا ہوتا ہے،اسمبلی ہم سب کی ہے ،یہ پولیس ڈاکو نہیں پکڑتی مگر ارکان اسمبلی کے راستے روک رہی ہے، پولیس کی وردی میں جیالے موجود تھے ہمارے لیے گیٹ بند کردیے گئے ، ہماری خواتین کو باہر روکا گیا ان سے بدتمیزی کی گئی، ثابت ہوگیا کہ پیپلزپارٹی کا پودا اسکندر مرزا نےلگایا تھا ایوب خان نےاس گملے کو پانی دیاتھا طے ہوگیاکہ یہ ڈکٹیٹرز کی اولاد ہیں میثاق جمہوریت پر عمل نہیں ہورہا جمہوریت پر چھری چلاناشروع کی گئی۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ گزشتہ 3سال سے جمہوریت کا جنازہ دیکھتے آرہے ہیں ایوان میں اپوزیشن لیڈر کا مائیک کھلتا ہے نہ اسٹیڈنگ کمیٹیوں میں حقیقی اپوزیشن کی کوئی نمائندگی ، کل قائد حزب اختلاف کا مائیک کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی ہمارے اراکین کو معطل کیا گیا آج ہمارے اراکین کو اسمبلی میں آنے نہیں دیا گیا، لہٰذا میں اپنی سیٹ سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں اس ایوان میں اپنے حلقے کی خدمت نہیں کرسکا میرے پاس احتجاج کے لیے سڑکیں موجود ہیں ،میں احتجاجاً سندھ حکومت کے خلاف استعفیٰ فلور پر دیکر آچکا ہوں۔