• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوسربازوں اور فراڈیوں کا نیا طریقہ واردات

کراچی (اسد ابن حسن) ایک حساس ادارے نے وزارت داخلہ کو ایک رپورٹ جمع کروائی ہے کہ سائبر کرائم کی عدم دلچسپی کے باعث پورے ملک میں ایک مرتبہ پھر نوسرباز اور فراڈیے منظم طریقوں سے اپنی کارروائیوں میں تیزی لارہے ہیں۔ اب ایک نیا انوکھا فراڈ کیا جارہا ہے کہ لوگوں کو میسج موصول ہوتے ہیں کہ ’’آپ اپنے پرانے ایئرکنڈیشنر اچھی قیمت پر ہمیں فروخت کریں۔‘‘ اس میں بھی طریقہ واردات پرانا ہی ہے کہ میسج کسی ایک نمبر سے آتا ہے اور میسج کے آخر میں رابطے کے لیے دوسرا نمبر دیا جاتا ہے۔ جب اس نمبر پر رابطہ کیا جاتا ہے تو ان افراد کا اندازِ گفتگو اور لب و لہجہ وہی ہے جو اندرون پنجاب کے لوگوں کا ہوتا ہے جو ماضی میں مختلف رفاہی اسکیموں، جاز کیش، اے ٹی ایم کارڈ کی تجدید اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگراموں جیسی اسکیموں، کسی سنسان جگہ سے سونا برآمد ہونے اور آدھی قیمت پر خریدنے کی ترغیب اور دیگر فراڈ کرکے سادہ لوح لوگوں سے بلکہ پڑھے لکھے سنجیدہ لوگوں سے بھی کروڑوں روپے ہتھیا چکے ہیں۔