• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

حکومت اور اپوزیشن: ورکنگ ریلیشن شپ سے پارلیمانی ماحول بہتر بنائیں

قومی اسمبلی نے نئے مالی سال کیلئے بجٹ کی منظوری دیدی ہےلیکن یہ بجٹ سیشن ممبران پارلیمنٹ اور سیا سی قیادت کے رویوںبالخصوص ان کی سیا سی و پارلیمانی پختگی اور بصیرت کے حوالے سے کئی سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔ماضی کی طرح یہ بھی ایک روایتی بجٹ تھا جس میں پہلے کچھ زیادہ سخت اعلانات کئے گئے ۔طے شدہ پالیسی کے تحت بعض اقدمات سینٹ کی سفارشات اور ممبران کی تقاریر کے بعد واپس لے لئے گئے یا ٹیکسز کی شرح کم کردی گئی مگر اس سب کے با وجود یہ طے ہے کہ با لواسطہ ٹیکسز کی شرح زیادہ ہے جس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں ہی نکلے گا اور یہ بوجھ عام آدمی نے ہی برداشت کرنا ہے۔ 

بالکل سادہ بات ہے کہ اگر اس سال 4500ارب ریونیو جمع کیا گیا اور اگلے سال 5800ارب وصول کیا جا ئےگا تو یہ وصولی عوام سے ہی کی جا ئے گی۔ اگر پیٹرولیم لیوی جسے ماضی میں اسد عمر جگا ٹیکس کہتے تھے اس میں160ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے تو اس کا نتیجہ پیٹرولیم مصنوعات کے مہنگا ہونے کی صورت میں ہی نکلے گا اور یہ بہر حال بالواسطہ ٹیکس ہے۔

حکومت بالواسطہ ٹیکس کی پالیسی ترک کرے ۔ بالواسطہ ٹیکس بیورو کریسی کا روایتی طریقہ ہے کیونکہ یہ ٹیکس وصولی آ سان ہوتی ہے۔اگر آپ کال لمبی ہونے پر ٹیکس لگا رہے ہیں تو عوام کی سہولت چھین رہے ہیں یا اسے مہنگا بنا رہے ہیں ۔ اصل طریقہ جو پائیدار ہے لیکن مشکل ہے وہ ٹیکس کا نیٹ یا بیس بڑھانا ہے۔ ان امیر لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا ئے جن کی آمدن قابل ٹیکس ہے لیکن وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے اور ان کا ڈیٹا بھی دستیاب ہے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تو قومی اسمبلی سے خطاب میں یہ سچی بات کہہ دی اور ممبران قومی اسمبلی سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جوپانچ کروڑ روپے کی گاڑی میں یہاں سے جاتے ہیں ۔ 

پچا س کروڑ روپے کے گھر میں رہتے ہیں لیکن ٹیکس ادا نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ممبران پارلیمنٹ  خود ٹیکس ادا نہیں کرتے تو انہیں لوگوں پرٹیکس لگانے کا کیاحق حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی نکتہ اٹھایا کہ صرف ممبران پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشوارے پبلک کیوںکئے جا تے ہیں بیو رو کریٹس کے کیوں نہیں۔انہوں نے تو ممبران پارلیمنٹ کی بات کی ہے۔ بیشتر بزنس مین اور صنعتکار پورا ٹیکس نہیں دیتے۔ سول اور ملٹری کے ریٹائرڈ بیورو کریٹس کی اربوں روپے کی جائیدادیں ہیں ۔ 

کئی کئی پلازے ہیں۔ فارم ہائوسز ہیں مگر وہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں ۔ ایف بی آر بھی پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے ۔ٹیکس چوروں پر ہاتھ نہیں ڈالتا مگر یہ ضرور ہے کہ اس کیلئے اعلیٰ سطح سے سیا سی ارادہ اور عزم بھی درکار ہے تاکہ با اثر لوگوں پر ہاتھ ڈالا جاسکے ۔ ٹیکس کے استثنیٰ اور ریبیٹ کے نظام میں بھی سقم ہیں جہاں اربوں روپے بچائے جاتے ہیں ۔ 

جو برآمد کنندگان ہیں وہ ریبیٹ کیلئے اوور انوائسنگ کرتے ہیں اور جو درآ مد کنندگان ہیں وہ ڈیوٹیز بچانے کیلئے انڈر انوائسنگ کرتے ہیں ۔ اس کا کائونٹر چیک میکانزم بنایا جا ئے ۔ فلاحی ریاست تب بنے گی جب ٹیکس کا نیٹ وسیع ہوگا اور ٹیکس کی شرح کم ہوگی اور ٹیکسز براہ راست لگیں گے ۔ بالواسطہ ٹیکسز کا خاتمہ ہوگا۔اس کے نتیجے میں مہنگائی خود بخود ختم ہوجا ئے گی۔بجٹ سیشن سے سیا سی سبق بھی ملا ہے۔ حکومتی بنچوںنے کے ممبران بالخصوص وزراء نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پر بجٹ کی کتابیں پھینک کر جو ایک ناپسندیدہ اور افسوسناک پار لیمانی روایت قائم کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ 

پارلیمانی روایت یہ ہے کہ قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر جب بھی خطاب کریں اسے سنا جا ئے۔ اپوزیشن کا بھی فرض ہے کہ وزیر اعظم کی تقر یر جب بھی ہو اسے خاموشی سے سنا جا ئے البتہ بعد میں اس کا جواب ضرور دیں یہ ان کا حق ہےمگر تقریر میں مداخلت نہ کی جا ئے۔تین دن کی ہنگامہ آرائی کے بعد چوتھے دن اپوزیشن لیڈرسکون سے تقریر کرنے میں کامیاب ہوئے مگر حکومتی بنچوں نے یہ تقریر نہیں سنی ۔ 

وزیر مواصلات مرادسعید ‘ وزیر دفاع پرویز خٹک اور دیگر تمام حکومتی ممبران کو لابی میں لے گئے اور عملی طور پر اپوزیشن لیڈرز کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔ جن چند حکومتی ممبران نے کہا کہ ہم یہ تقریر سننا چاہتے ہیں ان کی وڈیو بنائی گئی گویا وہ ناپسندیدہ کام کر کرہے ہیں ۔ 

ایک حکومتی رکن خالد مگسی نے تو یہ وڈیو بنا نے پرا سپیکر اور چیف وہپ سے احتجاج بھی کیا۔جب آپ جمہوریت اور پارلیمان کی بات کرتے ہیں تو کم از کم آپ میں اتنا حوصلہ تو ہونا چاہئے کہ اپو زیشن کی بات ہی سن لیں ۔ فیصلے تو آپ نے مرضی سے کرنے ہیں مگر اپوزیشن ممبران بھی تو آپ کی طرح ووٹ لے کرآئے ہیں ۔ وہ بھی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ اس سسٹم کا اہم اسٹیک ہولڈر ہیں ۔حکومت نے جس طرح اکثریت کے بل بوتے پر قانون سازی کو بلڈوز کیا بالخصوص انتخابی اصلاحات کا قانون منظور کیا وہ بھی قابل تقلید او ر پسندیدہ طرز عمل نہیں ہے۔ اب اسپیکر نے ایک قانون ساز پا رلیمانی کمیٹی بنائی ہے جو بہت اچھا فیصلہ ہے۔ 

یہ امر پیش نظر رکھنا چاہئے کہ قانون سازی عوام کیلئے کی جاتی ہے ۔ قانون سازی کے عمل میں اپوزیشن کی مشاورت ضرروی ہے تاکہ اتفاق رائے سے قانون سازی کی جاسکےبالخصو ص انتخابی اصلاحات بہت اہم قانون سازی ہے۔ یہ تو لازمی طور پر متفقہ ہونا چاہئے تاکہ آئندہ انتخابات شفاف ہوسکیں ۔ حکومت نے جو قانون منظور کرایا ہے اس میں الیکشن کمیشن کے اختیارات چھین کر نادراکو دیدیے گئے ہیں و زارت داخلہ کا ذیلی ادارہ ہے۔ الیکشن کمیشن ایک آزاد آئینی ادارہ ہے ۔ اس کی غیر جانبدار حیثیت ہے ۔ 

اسے متنازعہ نہ بنا یا جا ئے۔ اپنی غلط حکمت عملی کی وجہ سے حکومت نے الیکشن کمیشن سے محاذ کھول لیا ہے۔ موجودہ حکومت کا طرہ امتیاز ہے کہ یہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن موڈ میں کام کررہی ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی ماحول کو بہتر رکھنے کی بجائے خراب کرنے میں حکومتی ممبران ہی نہیں وزراء پیش پیش ہوتے ہیں۔ ماضی میں اپوزیشن جب واک آؤٹ کرتی تھی تو یہ پار لیمانی رویت تھی کہ حکومتی وزراء اپوزیشن کو منا کر واپس لے آتے تھے مگر تین سال میں ایک مرتبہ بھی اس حکومت نے اس روایت کو نہیں اپنایا۔ بہر حال ہنگامہ آ رائی کے بعد سیز فائر ہوا اور بجٹ منظور ہوگیا ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید