• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا، چین سے تعلقات میں توازن قائم کرنا پڑیگا، سابق وزیراعظم


کراچی(ٹی وی رپورٹ)جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ“میں اظہار خیال کرتے ہوئے رہنما ن لیگ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہمیں امریکا اور چین سے تعلقات میں ایک توازن قائم کرنا پڑے گا،رہنما پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ افغانستان میں ساری قوتوں کو اعتدال کی طرف لائیں۔

پروگرام کے آغاز میں میزبان سلیم صافی نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی عجیب قوم ہیں ملک کے اصل اور حقیقی مسائل یا اس ملک کے اردگرد منڈلاتے خطرات پر ہم کبھی توجہ نہیں دیتے۔ یہاں تو تو میں میں اور سیاسی ہلا گلا اور نان ایشوز کو ایشوز بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ لیکن پھر جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو ہم سب کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں۔

افغانستان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے جو پاکستان کی سلامتی سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان میں سیاسی ڈرامے ہوتے رہے مگر ہم نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اب گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کو جو عسکری قیادت نے بریفنگ دی اور جو صورتحال سامنے رکھی اس کے بعدہماری سیاست اور صحافت دونوں طرف اس ایشو کا غلغلہ ہے بلکہ سب لوگ حیران ہیں یہ کیا ہورہا ہے اور کیسے ہورہا ہے۔

رہنمان لیگ شاہد خاقان عباسی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ قومی سلامتی کی حوالے سے بریفنگ موثر اور ضروری تھی کیونکہ ایک ایسا ایشو ہے جس پر ہر قسم کا ابہام موجود ہے۔ چہ میگوئیاں بھی ہوتی ہیں شک و شبہ کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔

اپوزیشن کی خواہش یہ تھی کہ اگر آپ نے بات کرنی ہے تو پارلیمان میں کریں۔ پارلیمان میں عسکری اور انٹیلی جنس لیڈر شپ نے بریفنگ دی۔ اس کے بعد سوال جواب بلکہ تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔

کافی حد تک اتفاق رائے نظر آیا یہ ساری بات کا ایک مثبت پہلو ہے۔ افغانستان، انڈیا، کشمیر اور جغرافیائی سیاست پرتبادلہ خیال ہوا۔ بحث صرف افغانستان پر ہو سکی کیونکہ وقت نہیں تھا۔ وہاں پر کوئی حکومتی پالیسی سامنے نہیں رکھی گئی کافی حد تک اتفاق رائے سوچ میں ہے۔ وہاں پر حقائق سامنے رکھے گئے اور اس وقت کیا سوچ ہے کیا مختلف آپشنز موجود ہیں وہ سامنے رکھے گئے جس پر سب نے اپنی رائے دی۔

ہر پہلو پر کھل کر بات کی گئی ماضی میں یہ پہلو غائب رہا ہے۔ افغانستان کا معاملہ یقینا تشویشناک ہے اگر وہاں خانہ جنگی ہوتی ہے۔ وہاں ماضی کی نسبت زیادہ پیچیدہ صورتحال ہے۔ ہمارے لئے یہ زیادہ اہم ہے کہ اس کے اثرات ہمارے اوپر کیا ہوں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وہاں بڑی خانہ جنگی کا امکان ہے۔

افغانستان کے عوام جو فیصلہ کرتے ہیں ہمیں اس کو قبول کرنا چاہئے اور فریق نہیں بننا چاہئے۔ وہاں جس کے پاس طاقت ہوگی وہی حکومت میں آئے گا۔ امریکا اور چین دونوں سے ہمارے تعلقات ہیں۔

چین نے پاکستان سے دوستی کو ثابت کیا ہے ہماری فورسز کا بھی ایک بڑا انحصار چین پر ہے۔ ہمیں امریکا اور چین سے تعلقات میں ایک توازن قائم کرنا پڑے گا یہ ممکن نہیں ہے امریکا کے لئے چین کو چھوڑ دیں یا چین کے لئے امریکا کو چھوڑ دیں۔ کشمیر پر ابھی بحث نہیں ہوسکی۔

افغانستان میں اب امریکی افواج موجود نہیں ہیں تو ایئر کوریڈور کی کیا ضرورت ہے۔ اس معاملے پر اگر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے تو فیصلہ بھی بہتر ہوگا اور شکوک و شبہات بھی دور ہوجائیں گے۔ عوام کی توقعات اپوزیشن سے بڑھ گئی ہیں اور اپوزیشن اپنی پوری کوشش کررہی ہے۔ قومی سلامتی کی میٹنگ بھی حزب اختلاف کی کوششوں سے ہوئی ہے اس سلسلے میں حکومت نے تو کوشش نہیں کی۔

نواز شریف لندن سے آکر بڑی خوشی سے جیل گئے تھے اب وہ علاج کرانے گئے ہیں اور علاج کروا کے واپس آئیں گے۔ رہنما پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمن نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ قومی سلامتی کی حوالے سے بریفنگ بروقت اوراہم تھی۔

قومی سطح پر جب اس طرح کی بات کی جائے تو اس پر پیپلز پارٹی کا ایک بڑا واضح موقف ہے۔ ہم نے بار بار اس کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ ہم نے کہا تھا کہ اس کمیٹی کو فعال کردیں اس میں ہر پارٹی ہوتی ہے دونوں ایوانوں کے پارلیمانی لیڈران ہوتے ہیں۔

تازہ ترین