• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جپسی یا خانہ بدوش قبائل ہر ملک میں ہوتے ہیں، البتہ ان کا رہن سہن، تہذیب و ثقافت اس ملک کے رسوم و رواج سے مختلف ہوتی ہیں۔ یہ قبائل اپنی روایات پر صدیوں سے کاربند ہیں۔ سندھ میں بھی متعددخانہ بدوش قبیلے ہیں، جن میں کوچڑے ، جوگی ، شکاری، کبوترے، واگھڑے ، راوڑے، گوارے، باگڑی، اوڈھ وغیرہ شامل ہیں۔ خانہ بدوش قبیلے کے افراد مصروف شہروں کی ریلوے پٹریوں پر گھاس پھوس اور سرکنڈوں کی جھونپڑیاں ڈال کر اپنا عارضی ٹھکانہ بناتے ہیں۔

ان میں سے بیشتر افراد، نیشنل ہائی وے، سپرہائی وے، انڈس ہائی وے، قومی شاہراہ اور رابطہ سڑکوں پرگدھوں پر سامان لاد کر ایک منزل سے دوسری منزل کی جانب نقل مکانی کرتے نظر آتے ہیں۔چند سال قبل تک یہ انتہائی مفلوک الحال ماحول میں زندگی گزارتے تھے لیکن دور حاضر میں جدید سائنسی ایجادات سے ان کی نئی نسل مستفید ہورہی ہے۔ شہروں میں خانہ بدوش بستی کی جھونپڑیوں میں شمسی توانائی سے استفادے کے لیے سولر پلیٹیں اور پینل لگے ہوئے ہیں، جب کہ جھونپڑیوں کےاندر ٹی وی، ریڈیو، فریج، ٹچ موبائل اور الیکٹرونکس کی دیگر مصنوعات بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ 

ملیر ہالٹ سے ماڈل کالونی کی جانب جانے والی ریل کی پٹری کے ساتھ خانہ بدوشوں کے جھونپڑوں میں بھی یہ سامان تعیش ہے ۔بعض مؤرخین کے مطابق، ان خانہ بدوش قبائل کا تعلق صدیوں قبل افریقہ سے تھا اور یہ سکندراعظم کے ساتھ ایشیاء کے مختلف ملکوں میں آئے تھے، بعدازاں سندھ میں آباد ہوگئے۔ افریقی قبائل کے متعدد رسم و رواج سندھ کے خانہ بدوش قبائل سے ملتے جلتے ہیں۔ افریقہ کے وحشی افراد خود کو’’ زنگلی ‘‘یا ’’سنتی ‘‘کہتے ہیں ۔ اس کے بارے میں سندھ کے لسانی ماہرین کا کہنا ہے کہ، سنتی دراصل سندھی کی بگڑی ہوئی شکل ہے، جب کہ زنگلی، جانگلی یا جنگلی کو کہا جاتا ہے۔ ذیل میں سندھ کے چند خانہ بدوش قبائل اور ان کے رسم و رواج کے بارے میں جانیے۔

صحرائے تھر سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں جوگی قبیلہ آباد ہے۔ قبیلے کے لوگ سانپ پکڑنے اور انہیں پٹاریوں میں بند کرکے نگر نگر گھوم کر تماشا دکھانے کے حوالے سے معروف ہیں۔ اس قبیلے کے افراد سانپ کے ڈسے کا علاج کرنے، گیدڑ سنگھی کی فروخت اور مرلی یا بین بجانے کے فن میں مہارت رکھتے ہیں۔ بین بجانا فن موسیقی کا انتہائی کٹھن سازہے۔

اسے بجانے سے سارے بدن کی سانس کھنچ کر جبڑوں میں آجاتی ہے، گلے کی رگیں پھول جاتی ہیں۔ سانپ مست ہوکر جھومتا ہے تو تماشا دیکھنے والے اس منظر سے محظوظ ہوتے ہیں اور خوش ہوکر سپیرے کو پیسے دیتے ہیں۔ جوگی قبیلے کے لوگ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن اپنے مُردوں کو جلاتے نہیں ہیں ،بلکہ جس جگہ یہ مرتے ہیں ، انہیں وہیں سپرد خاک کردیتے ہیں۔

عمر کوٹ میں جوگیوں کا قبرستان ہے جہاں جوگی برادری کی میتوں کو دفنایا جاتا ہے۔ فراعین مصر کی طرح جوگی بھی اپنے مردوں کی تدفین کے وقت میت کے ساتھ کھانا، تمباکو کے پتوں سے بنی بیڑیاں بھی رکھتے ہیں۔ دفنانے سے قبل مُردے کو مسلمانوں کے انداز میں غسل بھی دیا جاتا ہےجب کہ دورانِ غسل میت کے منہ میں تانبے کا ٹکڑا بھی رکھتے ہیں۔ گیروے رنگ کا کفن پہنایا جاتا ہےاور’’ رام رام گورکھ ناتھ‘‘ کا منتر جپتے ہوئےاسے قبر میں اتارتے ہیں ۔ کہتے ہیں جوگی اپنے جنتر منتر سینہ بہ سینہ منتقل کرتے ہیں۔ یہ پراسراریت ہی انہیں دیگر سے علیحدہ زندگی گزارنے پر مجبور کرتی ہے۔

خانہ بدوشوں میں ایک برادری شکاری قبیلے کے نام سے معروف ہے۔ یہ ہندو ہوتےہیں لیکن ان کے بعض رسم و رواج مسلمانوں کی طرح ہیں۔اس قبیلے کے افراد نہ تو مندر جاتے ہیں اور نہ دیوی دیوتا کا بت بناکر اس کی پوجا کرتے ہیں۔ ان کی شادی کی رسومات بھی مسلمانوں کی طرح انجام دی جاتی ہیں۔ شادی کے موقع پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دولہا کھانے سے قبل لڑکی کے ماں باپ سے جہیز میں اچھی نسل کے شکاری کتے کا مطالبہ کرتا ہے ، جو لڑکی والوں کو پورا کرنا ہوتی ہے۔ شکاری قبیلے کے افراد کے مرنے کے بعد انہیں بھی مسلمانوں کے انداز میں نہ صرف دفنایا جاتا ہے بلکہ دعائیہ تقریب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ اس قبیلے کے افراد خود کو ’’بھیل‘‘کہتے ہیں لیکن کتوں کی موجودگی اور شکار کے شغف کے باعث انہیں ’’شکاری ‘‘قبیلے کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔

میلے ٹھیلے سندھ کی تہذیب و ثقافت کا لازمی جزو ہیں۔ زیریں سندھ ، جسے مقامی باشندے’’ لاڑ‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں، سائیں سمن سرکار سمیت متعدد بزرگوں کے میلوں کا انعقاد ہوتا ہے، جن میں گواری قبیلے کی خواتین اسٹال یا دکانیں لگا کر اشیائے ضرورت فروخت کرتی ہیں۔ گواری بھی خانہ بدوش قبیلہ ہے۔ یہ اپنا تعلق راجپوت نسل سے بتاتے ہیں، جب کہ شمالی سندھ میں انہیں’’ ٹھکر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ گداگری کے پیشے کو معیوب سمجھتے ہیں ۔یہ قبیلہ صرف زیریں سندھ ہی میں نہیں بلکہ بالائی اور وسطی سندھ کے متعدد شہروں میں بھی آباد ہے۔

راوڑا قبیلہ بھی خانہ بدوش برادری کا حصہ ہے۔ یہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کےرسم و رواج ہندو ؤں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ہندومت میں ایک سے زائد شادیوں کی اجازت نہیں ہے ، پھر بھی مردایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں۔ مرد سڑکوں پر پتھر کوٹتے جب کہ ان کی عورتیں اور بچے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ دیگر ہندو خواتین کے برعکس راوڑیاں صرف سہاگ رات کو منگل سوتر پہنتی ہیں اور اگلی صبح اتار دیتی ہیں۔ یہ بھی جوگیوں کی طرح اپنے مُردے دفناتے ہیں۔ قبیلے کے مرد شادی کے وقت اپنے خسر کو جو رقم دیتے ہیں وہ شادی کا بندھن ٹوٹ جانے پردلہن کے باپ کی طرف سے واپس دے دی جاتی ہے۔

ایک قبیلہ’’ کبوترا ‘‘بھی ہے، جو شہر کے اطراف میں جھونپڑیاں ڈال کر قیام کرنے والی اس برادری کے مرد ان جھگیوں میں آرام کرتے دیکھے جاتے ہیں، جب کہ ان کی خواتین دیہات قصبات اور شہروں میں بھیک مانگتی ہیں۔ قبیلے کے افراد مُردہ جانوروں، بالخصوص پرندوں، مرغیوں کے گوشت کو خشک کرکے سارا سال استعمال کرتے ہیں۔ مرد اور عورتیں بھیک مانگنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے کھلونے بھی خود بنا کر فروخت کرتے ہیں۔ 

مٹی کے کھلونے یا لکڑی کے ٹکڑے جوڑ کر تیار شدہ اشیاء پر رنگ برنگے کاغذ اور سگریٹ کے پیکٹوں کی چمک دار پنیاں چپکاکر انہیں جاذب نظربنایا جاتا ہے۔ خواتین گا بجا کر پیسے کماتی ہیں ،جب کہ بڑے گھرانوں میں انہیں ’’کرائے پررونے والوں‘‘ کے طور پر بلایا جاتا ہے ۔ یہ عورتیں آہ و زاری کرنے کا معاوضہ وصول کرتی ہیں۔

ماضی میں ’’کوچڑے‘‘ قبیلے کو چور قبیلہ کہا جاتا تھا۔ ان کی شناخت مویشی چور کے طور پر بھی ہوتی تھی۔ اس قبیلے کے افراد نقب لگانے، راہ گیروں کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر لوٹنے میں کمال رکھتے تھے۔ بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ چلتے چلتے یہ اس کی گردن پر ایسا ہاتھ ڈالتے کہ گردن کا منکا ٹوٹ جاتا اور یہ اپنی سواری گدھے کے دونوں سمت لٹکی بوری میں ڈال کر ایسے رفو چکر ہوتے کہ چرواہے کو بھی خبر نہیں ہوتی۔ 

زندہ بکری پکڑکے لیے ہاتھ میں موجود کیکر کا کانٹا اس کی زبان میں لگادیتے اس طرح وہ ممیا بھی نہیں سکتی تھی، جس کے بعد اسے اطمینان سے لے کر فرار ہوجاتے۔ قبیلے کی روایت کے مطابق ،لڑکی کی شادی کے وقت لڑکے والوں سے پیسے لیتے ہیں جو ساٹھ ہزار روپے کے لگ بھگ ہوتے ہیں۔ کوچڑے بھی ہندو ہوتے ہوئے لیکن وہ بھی دیگر خانہ بدوش قبائل کی طرح اپنے مُردوں کو دفناتے ہیں۔ مردہ شوہر کو بیوی اور مردہ بیوی کو شوہر غسل دیتا ہے۔ میت کے ہاتھوں میں مہندی اور آنکھوں میں کاجل لگاتے ہیں، جب کہ دانتوں کی صفائی اور ناخن بھی تراشے جاتے ہیں۔

گیروے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس، کاندھوں پر لمبے بانسوں میں پٹاریاں لیے گلی گلی گھومنے والے’’ سامی ‘‘بھی خانہ بدوشوں کا منفرد روپ ہیں۔ ماضی میں یہ پانسے سے قسمت کا حال ہاتھ کی لکیروں سے ماضی حال اور مستقبل بینی کے پیشے سے وابستہ تھے لیکن اب ان میں سے چند لوگ ہی باقی ہیں۔سامی قبیلے کے افراد زیریں سندھ کے ضلع بدین میں آباد ہیں۔ ان کا تعلق ہندومت سے ہے، دیوی ،دیوتاؤں کی پوجا کرتے ہیں۔ خیرپور کے صحرائی علاقے نارا سے تعلق رکھنے والے سامی اپنے عقیدے میں مسلمانوں کے قریب ہیں۔ 

وہ زیارت کے لیےایران جاتے ہیں ۔ محرم میں عزاداری اور ماتم ، مجلس معمول ہے ۔ ان کے نام بھی مسلمانوں سے ملتے جلتے ہوتےہیں۔ نارا کے سامی خود کو لاڑ کے سامیوں سے برتر تصور کرتے ہیں۔ ان کی ازدواجی بندھن میں بندھنے کی رسومات بھی الگ ہوتی ہیں۔ شادی کے موقع پر وہ پانچ کورے مٹکوں میں پانی بھرکر ان میں گُڑ یا شکر ڈالتے ہیں جس میں سے دلہن اپنے شوہر کو گلاس بھر کر پانی پلاتی ہے اور بچا ہوا پانی شوہر اسے پلاتا ہے۔ 

اس موقع پر ایک دوسرے پر اس پانی کے چھینٹے بھی مارتے ہیں۔ زیریں سندھ کے سامی بھی نارا کے سامیوں کی طرح مردے کو دفن کرتے ہیں۔ سامی شوہر مرجائے تو اس کی بیوہ ایک برس تک زرد رنگ کی قیمض پہنتی ہے، جسے وہ ’’انگی‘‘ کا نام دیتے ہیں، جب کہ مرنے والے کا بیٹا پورا سال ایک ہی لباس پہنے رہتا ہے۔