• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیرونی حصے میں شیشے کا استعمال کیسے کیا جائے؟

کچھ عرصہ قبل تک مکانات میں شیشوں کا استعمال صرف کھڑکیوں کی حد تک کیا جاتا تھا اور بیشتر مکانات میں ان کھڑکیوں کے آگے لوہے کی جالی لگادی جاتی تھی تاکہ باہر سے کوئی گیند آکر شیشہ نہ توڑ دے اور ایک خیال یہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ جن گھروں میں چھوٹے بچے ہیں وہاں کے لیے لوہے کی جالی لازمی ہونا چاہیے۔ 

تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی اور گلی محلے میں کرکٹ کھیلنے کے رجحان میں کمی آتی گئی۔ اب جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں شیشے کا استعمال کھڑکیوں سے بڑھ کر مکان کی خوبصورت ڈیزائننگ کے لیے کیا جارہا ہے، جو کہ ایک خاص طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ 

مکان کی تعمیر میں شیشے کی دیوار، شیشے کا دروازہ یا پھر شیشے کی بڑی بڑی کھڑکیوں کا استعمال ارد گرد تعمیر ہوئے عام مکانات کے درمیان آپ کے گھر کو ایک جدید انداز فراہم کرتا ہے۔ تعمیراتی ماہرین کے مطابق گھر کے بیرونی حصے میں شیشے کا منفرد انداز سے استعمال نہ صرف ایکسٹیریئر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ مکان کی قدروقیمت میں بھی خاطر خواہ اضافہ کرتاہے۔ ذیل میں ایکسٹیریئر میں شیشے کے مختلف طریقوں سے استعمال پر روشنی ڈالی جارہی ہے، تاکہ اگر آپ مکان تعمیر کروارہے ہیں یا اس کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سے رہنمائی حاصل ہوسکے۔

جدید طرز کا حصول

دنیا بھر میں جدید طرز کے مکانات کافی مقبول ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ماڈرن اسٹائل کے تحت منفرد اور نت نئے تعمیراتی مواد کو خوبصورتی کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کی ایک مثال فرش سے چھت تک بنائی گئی شیشے کی دیوار ہے۔ اگر آپ مکان کے بیرونی حصے میں شیشے کا استعمال چاہتے ہیں تو اس کی پہلی منزل پر باہر کی جانب نکلی ہوئی شیشے کی بڑی کھڑکیاں بنائی جاسکتی ہیں۔

یہ گھر کے حُسن کو مزید بڑھانے کا سبب بنیں گی۔ ایک اور انداز یہ بھی اپنایا جاسکتا ہے کہ ہر تھوڑے فاصلے پر شیشے کی بڑی کھڑکیاں بنوائی جائیں جبکہ بیرونی مداخلت روکنے کے لیے اندرونی حصے میں بلائنڈز یا پردوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

بالکونی میں حفاظتی دیوار

مکان کے بیرونی حصے کو خوبصورت بنانے کے آسان طریقوں میں سے ایک بالائی منزل پر بنی بالکونی کو دلکش بنانا ہے۔ عام طور پر بالکونی کی حفاظتی دیوار بنانے کے لیے لوہا، سیمنٹ یا اسٹین لیس اسٹیل کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ تاہم، جدید طرز کے مکانات میں یہ حفاظتی دیوار مضبوط شیشے سے بھی بنوائی جاتی ہے تاکہ یہ دِکھنے میں انتہائی منفرد معلوم ہو۔ 

بالکونی کی دیوار کے لیے شیشے کا انتخاب کرنے پر آپ تذبذب کا شکار ہیں کہ یہ گھر کی پرائیویسی متاثر کرے گا تواس کا ایک حل پرنٹڈ شیشے کا استعمال ہے۔ یہ نہ صرف گھر کے بیرونی حصے کو دلکش بنائے گا بلکہ بالائی منزل کی بالکونی بھی محفوظ بنے گی۔

مرکزی دیوار

مکان کے بیرونی حصے کو دلکش اور منفرد بنانے کے لیے شیشے کی مرکزی دیوار کھڑی کرکے راستہ بنایا جاسکتا ہے۔ یہ دیوار مکان کے ایکسٹیریئر کو اسٹائلش انداز فراہم کرتی ہے۔ اس طرح کی دیواریں بنانے کے لیے مضبوط شیشے کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ انہیں شوخ رنگوں کی مدد سے نمایاں بھی کیا جا سکتا ہے۔

صدر دروازہ

مکان کے صدر دروازے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے مضبوط ہونا چاہیے۔ اگر ٹھوس شیشے کا استعمال کرتے ہوئے صدر دروازہ بنوایا جائے تو یہ بیرونی حصے کو عالیشان طرز فراہم کرے گا۔ تاہم، اگر آپ حفاظتی نقطہ نگاہ سے مکمل طور پر شیشے کا بیرونی دروازہ نہیں لگوانا چاہتے تو ایسی صورت میں اس کا لکڑی کے ساتھ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دروازے کے اُوپری حصے پر کٹ ورک کے ذریعے شیشہ نصب کرواکر گھر کے بیرونی حصے کو بہترین انداز دیا جاسکتا ہے۔

بیرونی کمرے میں شیشے کی دیوار

ماحول دوست مکانات کے ڈیزائن میں آرکیٹیکٹ بیرونی حصوں کو بھی کمروں میں شامل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جدید ڈیزائن میں شیشوں کی دیواروں کے ذریعے گارڈن اور پھول دار کیاریوں کو لیونگ روم اور بیڈ رومز کا حصہ بنا یا جارہا ہے۔

سلائیڈنگ دروازہ

عام طور پر شیشے کا سلائیڈنگ دروازہ لگانے کا رجحان رینچ اسٹائل مکانات میں زیادہ اپنایا جاتا ہے۔ یہ مکانات چونکہ اُونچے ہونے کے بجائے پھیلے ہوئے ہوتے ہیں، اس لیے ان کے بیرونی حصے کو پُر کشش بنانے کے لیے فرش سے چھت تک شیشے کے سلائیڈنگ ڈور لگادیے جاتے ہیں۔ شیشے کے یہ دروازے دیوار وں میں اس طرح نصب کروائے جاتے ہیں کہ وہ دیوار کا ہی حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گھر کا صحن کنکریٹ سے تعمیر کروایا جاتا ہےکیونکہ شیشے اور کنکریٹ کاملا پ جدت کو ظاہر کرتا ہے۔

تیار شدہ مکانات کی ڈیزائننگ

عام طور پر پہلے سے تیار اجزاء کو جوڑ کر کھڑی کی جانے والی عمارت (پری فیب ہومز) کا تصور مغربی ممالک میں تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ اس قسم کی طرزِ تعمیر میں بڑے منفرد اور نئے انداز سامنے آرہے ہیں۔ ایسی عمارتوں میں اینٹوں کی بجائے شیشے اور لوہے کے بنے سانچوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔