• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

3Dپرنٹنگ ٹیکنالوجی گھروں کی کمی پورا کرسکتی ہے

گھر خاندانی اور معاشرتی معیشت کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے۔ تاہم، دنیا میں اس وقت کروڑوں افراد مناسب اور رہنے کے قابل چھت کی سہولت سے محروم ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2030ء تک دنیا بھر میں تین ارب افراد کو بہتر گھروں کی ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر 2030ء تک، مناسب چھت کے متلاشی ان تمام افراد کو یہ سہولت فراہم کرنی ہے تو دنیا کو آج سے روزانہ کی بنیاد پر 96ہزار نئے گھر تعمیر کرنا ہوں گے۔

اس قدر زیادہ تعداد میں تیزی کے ساتھ اور روایتی تعمیراتی لاگت پر گھروں کی تعمیر کس طرح ممکن ہے؟

کیا تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی اس ناممکن ہدف کو ممکن بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے؟

یورپ میں ایک جوڑا حال ہی میں خطے کے پہلے تھری ڈی پرنٹڈ گھر میں منتقل ہوا ہے، جب کہ بھارت میں ایک تھری ڈی پرنٹڈ گھر پانچ دن میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اسی طرح امریکی شہر آسٹن، ٹیکساس میں ایک بڑا رہائشی منصوبہ مکمل کیا گیا ہے اور اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تھری ڈی پرنٹنگ تعمیراتی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ روایتی طریقہ تعمیرات بھی استعمال کیا گیا ہے۔

تعمیرات کے شعبہ میں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی بات کریں تو اس کا شمار ان چند ٹیکنالوجیز میں کیا جاسکتا ہے، جس کی مدد سے کسی بھی دیگر ٹیکنالوجی کے مقابلے میں تیز تر گھر تعمیر کیے جاسکتے ہیں اور اگر اسے بڑے پیمانے پر استعمال میں لایا جائے تو اس کے ذریعے کروڑوں افراد کو چھت فراہم کی جاسکتی ہے۔ ذیل میں گھروں کی تعمیرات میں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

پانچ دن میں گھر تیار

بھارت کے شہر چنئی میں ایک خیراتی ادارے نے ایک تعمیراتی ادارے کے اشتراک سے وہاں کا پہلا تھری ڈی پرنٹڈ گھر تعمیر کیا ہے۔ 56مربع میٹر رقبہ پر محیط یہ گھر محض پانچ دن میں تعمیر کیا گیا ہے۔ ’’روایتی تعمیرات ایک تھکا دینے والا اور وقت طلب عمل ہے۔ ساتھ ہی لوگوں کی مالی قوتِ برداشت محدود سے محدود تر ہوتی جارہی ہے۔ ایسے میں وہ یا تو گھر خریدنے کی سکت پیدا نہیں کرپاتے یا پھر انتہائی ناقص تعمیرات سے کام چلالیتے ہیں‘‘، تعمیراتی کمپنی کے نمائندے کا ایسا کہنا ہے۔

ایسے میں، پانچ دن میں تعمیر کیا گیا یہ تھری ڈی پرنٹڈ گھر ناصرف انتہائی پائیدار اور دیرپا ہے بلکہ روایتی تعمیرات کے مقابلے میں اس پر خرچہ بھی 30فی صد کم آیا اور تعمیراتی مٹیریل کا ضیاع بھی کم ہوا ہے۔

یورپ کا پہلا 3D پرنٹڈ گھر

نیدرلینڈ (ہالینڈ) کے شہر اینڈہوون میں پانچ تھری ڈی پرنٹڈگھروں پر مشتمل ایک پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں سے پہلا گھر ناصرف تعمیر ہوچکا ہے بلکہ یورپ کے اس پہلے تھری ڈی پرنٹڈ گھر میں اس کے پہلے مکین بھی رہائش اختیار کرچکے ہیں۔ یہ سنگل اسٹوری گھر 94مربع میٹر رقبہ پر محیط ہے۔ 

یہ اینڈہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، اینڈہوون کی میونسپل حکومت اور نجی کاروباری شعبے کا مشترکہ تجرباتی منصوبہ ہے۔ دور سے یہ کسی کٹے ہوئے چھوٹے پہاڑ کا نظارہ پیش کرتا ہے اور اپنے اردگرد کے فطری ماحول سے بالکل ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ تھری ڈی پرنٹڈ عمارت کو انتہائی خوبصورت انداز میں خم دے کر تعمیر کیا جاسکتا ہے جو کہ روایتی طرزِ تعمیر میں ممکن نہیں ہے۔

روایتی اور 3D پرنٹڈ تعمیرات کا امتزاج

امریکی شہر آسٹن، ٹیکساس میں ایک رہائشی پروجیکٹ تعمیر کیا گیا ہے، جسے روایتی اور تھری ڈی پرنٹنگ، دونوں طرزِ تعمیر کو استعمال کرتے ہوئے مکمل کیا گیا ہے۔ یہ پروجیکٹ دو بیڈ روم سے لے کر چار بیڈ روم پر مشتمل ہے۔ اس پروجیکٹ کی نچلی منزل (گراؤنڈ لیول) کو تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تعمیرکیا گیا ہے جب کہ چھت روایتی تعمیراتی مٹیریل سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس کی تعمیر میں ’’لاوا کریٹ‘‘ نامی تعمیراتی مواد (سیمنٹ کی ایک قسم) کا استعمال کیا گیا ہے جو آگ، سیلاب، آندھی اور دیگر آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

یہ پروجیکٹ مکمل کرنے والے تعمیراتی ادارے کا کہنا ہے کہ، ’’لوگ جس طرح تعمیرات کرتے ہیں، اپنے گھروں کو رکھتے ہیں اور جس طرح کمیونٹی میں رہتے ہیں، ہم ان سب کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ہمارا یہ پروجیکٹ بڑے پیمانے پر آگے کی طرف ایک قدم ہے، جس سے نئی تعمیراتی ٹیکنالوجیز جیسے تھری ڈی پرنٹڈ گھروں کو فروغ ملے گا‘‘۔

تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر متعارف کرانے کے لیے ابتدائی طور پر بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور یہ چیز اسے تعمیراتی صنعت میں بڑے پیمانے پر متعارف ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، تاہم ماحولیات پر پیرس معاہدہ کے اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے تعمیراتی شعبے میں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو فروغ دینا چاہیے اور ترقی پذیر ملکوں کی بھی اس سلسلے میں معاونت کرنی چاہیے تاکہ دنیا کو رہنے کے لیے ایک بہتر جگہ بنایا جاسکے۔