• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’لہو سے تر گلی محلّے، فضا میں بسی خون کی بُو، لبِ سڑک نظر آتی سِریاں، جا بجا پڑی اوجھڑیاں ،گوبر ،گندگی کے ڈھیر، چار سُو مکّھیوں کا راج اور جانوروں کی باقیات پر لپکتے کتّے، بلّیاں …‘‘ یقیناً یہ مناظر ہم میں سے کسی کے لیے بھی نئے نہیں کہ ہماری گلیاں محلّے، سڑکیں اور مرکزی شاہراہیں ہر سال عید الاضحی کے موقعے پر اور کئی دن بعد تک کچھ اسی طرح کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں، بلکہ کبھی کبھار تو قربانی کا جانور ہضم ہوئے مہینے گزر جاتے ہیں، لیکن ان کی باقیات راہ چلتے منہ چِڑاتی نظر آتی ہیں۔

ویسے توعیدین دنیا بھر کے تمام مسلمان انتہائی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں، لیکن وطنِ عزیز میں بالخصوص عیدِ قرباں کو اگر بچّوں اور نوجوانوں کا تہوار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس عید پر اُن کی خوشی، جوش و جذبہ دیدنی ہوتا ہے۔ بلاشبہ، بچّے اور لڑکے قربانی کے جانوروں کی اس قدر دیکھ بھال اور خدمت کرتے ہیں کہ دیکھ کے دل خوش ہوجاتا ہے۔ عام دِنوں میں سارا سارا دن منہ نہ دھونے والے، سوشل میڈیا اور ویڈیو گیمز میں مشغول رہنے والے لڑکے،عید کے دِنوں میں جب گائیں، بکروں کے کھانے پینے سے لے کر صفائی سُتھرائی تک کا بےحد خیال رکھتے ہیں، تو دیکھ کر سخت حیرانی بھی ہوتی ہے اور بے حد خوشی بھی۔

عموماً بقرعید کے دِنوں میں،بالخصوص ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی گلی، محلّوں میں خُوب رونق ہوجاتی ہے۔ نوجوان لڑکے، بچّےساری ساری رات جانوروں کی خدمت میں مصروف نظر آتےہیں۔جب کہ عیدِ قرباں کے موقعے پر ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہوتی، جن کی اوّلین خواہش منہگے سے منہگا جانور خریدنا ہو تی ہے۔ ایسا جانور، جو اس قدر لحیم شحیم ہو کہ لوگ دُور دُور سے اسے دیکھنے آئیں۔ ایسے افراد جانور کی خریداری سے لے کر اُس کے کھانے پینے، دیکھ ریکھ، زیورات تک میں نمود و نمایش کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ ’’فلاں کی گائے، آپ کی گائے سے زیادہ جا ن دار ہے یا فلاں تو اپنے بیل کو دودھ جلیبی، میوہ جات کِھلاتے ہیں اور آپ بس چارہ …؟؟‘‘

گزشتہ برس ہمارے پڑوسی قربانی کے لیےلاکھوں روپےکی گائے خرید لائے ، پھر اس کے رہنے کے لیے شامیانہ لگوایا اور اُس میں ایئر کُولر بھی رکھا کہ کہیں گائےکو گرمی نہ لگ جائے۔ پڑوسی کو اپنی گائے سے اس قدر اُنسیت ہوگئی تھی کہ دن بھر اسی کے پاس رہتے، اپنے ہاتھ سے چارہ، پستے، بادام کِھلاتے۔ مگر…جب عید الاضحی کے چوتھے دن ہم دفتر جانے کے لیے نکلے ،تو پڑوسی کے گھر کے عین سامنے، ان کی نازوں پلی گائے کی سِری پڑی دیکھی، جسے یقیناً کتّا بھی نوچ کے چھوڑ چُکا تھا اور پھر وہ سِری قریباً پانچ، چھے روز تک وہیں پڑی رہی ۔ یہ دیکھ کر ہمیں بے حد حیرت اور اس سے زیادہ افسوس ہوا کہ جس جانور سے حد درجے اُنسیت کا اظہار ہو رہا تھا، اب اُسی کا سر کُھلی آنکھوں سمیت گھر کے سامنے پڑا ہےاورکوئی احساس ہی نہیں جاگ رہا۔

لاکھوں کا جانور خریدتے ہوئے تو ایک بار بھی نہیں سوچتے،توخاکروب کو صفائی کے لیے سو، دو سو روپے دیتے ہوئے ہزار مرتبہ کیوں سوچا جاتا ہے…؟ اور یقین جانیے، یہ کسی ایک گھر یا فردِ واحد کامعاملہ نہیں، مجموعی طور پر پورے معاشرے کایہی حال ہے۔ عید الاضحی کے موقعے پر ہر صاحبِ استطاعت پر قربانی فرض ہے،یہ تو سب کو پتا ہے، لیکن اُس قربانی کی اصل روح، مقصد کیا ہے، وہ ہم سب آج تک سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہزارہا برس قبل حضرت ابراہیمؑ نے ’’اطاعت و حبّ ِ خداوندی‘‘ میں اپنے محبوب بیٹے، حضرت اسماعیلؑ کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

ذرا غورکریں تو معلوم ہوگا کہ قربانی کی بنیاد جانوروں کا ذبیحہ، گوشت یا خون نہیں، دَر حقیقت اللہ پاک کی ’’اطاعت و فرماں برداری‘‘ ہے، اسی لیے حکم ہے کہ قربانی سے قبل جانور کو کچھ دن پالناچاہیے، اس کی خدمت کرنی چاہیے کہ اس سے اُنسیت ہوجائے ،تب ہی تو اللہ کے نام پر اپنی محبوب شئے قربان کرنے کا جذبہ پروان چڑھے گا۔ اور… اطاعت ِ الٰہی ، دینِ اسلام کی پیروی میں ہے، وہ دین، جو صفائی کو’’ نصف ایمان ‘‘قرار دیتا ہے، وہ دین، جو نمو دو نمایش کو سخت نا پسند کرتا ہے، مگر بد قسمتی سے اطاعتِ خداوندی اور خودغرضانہ خواہشات کی قربانی کا یہ جذبہ، دن بہ دن مال ودولت کی نمایش، زیادہ گوشت کے حصول ہی میں تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ 

منہگے جانوروں کی خریداری باعثِ فخر سمجھی جاتی ہے اور ان کی نمایش نہ صرف ، محلّوں بلکہ اب تو سوشل میڈیا پر بھی کی جاتی ہے۔ ذبیحہ کے اسلامی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اپنی خوشی کے لیے ایک جانور کو دیگر جانوروں کے سامنے ہی ذبح کیا جاتا ہے،جگہ جگہ خون پھیلا ہوتا ہے، گائیں، بکروں کے سر پڑے ہوتے ہیں، جو یقیناً بے حِسی کی انتہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عید ِقرباں، جسے بڑی عید بھی کہا جاتا ہے، محض ہمارے بد صُورت رویّوں کی وجہ سے بڑے مسائل کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ شہری آلائشوں اور فضلے پر مشتمل گندگی مناسب انداز میں ٹھکانے لگاتے ہیں، نہ قربانی کے وقت صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے ہیں۔

سونے پہ سہاگا، جانوروں کی یہ باقیات گلی کی نکّڑ ،محلّے ، چوراہے یاکسی خالی پلا ٹ میں پھینک دیتے ہیں۔ اس طرح ہر جا آلائشوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ پھر کچھ عرصے بعد کہیں خالی پلاٹس میں پھینکی گندگی کی وجہ سے بدبو پھیلنے لگتی ہے، تو کہیں بیماریاں پھوٹنے لگتی ہیں۔اور ہم گوشت ’’ٹھکانے ‘‘ لگانے میں اس قدر مگن ہوتے ہیں کہ اپنی غفلت کے دُور رس اور مضر اثرات کا اندازہ ہی نہیں کر پاتے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ برس کراچی سُپر ہائی وےپر سجی مویشی منڈی میںتادمِ تحریر قریباً 5 سے 7 لاکھ جانور لائے جاچُکے ہیں۔ انتظامیہ نے جانوروں کو کُل 48 بلاکس میں رکھا ہے، جن میں سے 12وی آئی پی بلاکس ہیں۔غور طلب امریہ ہے کہ کراچی ، جو حکومت و عوام کی غفلت کے باعث پہلے ہی ’’کچراچی‘‘ بن چُکا ہے، جب یہاں لاکھوں کی تعداد میں جانوروں کی قربانی بھی ہوگی اور اگرماضی ہی کی طرح جگہ جگہ آلائشیں، فضلہ بھی پھینک دیا گیا تو گندگی، بدبُو اور بیماریوں کا کیا عالم ہوگا اور خصوصاً ان کورونائی ایّام میں۔

اب ذرا اپنے ضمیر سے سوال کیجیے کہ عید الاضحی پر، جو اطاعتِ الٰہی کی اعلیٰ مثال ، سنّتِ ابراہیمیؑ ہے،ہم کس حد تک اُس کی پیروی کرتے ہیں؟ کیا قربانی کے طریقۂ کار سے لے کر گوشت کی تقسیم اور صفائی ستھرائی کے انتظامات تک ، کسی ایک جگہ بھی سنّتِ ابراہیمیؑ پر عمل پیرا ہوا جاتا ہے۔ رسول اللہ ؐجانوروں سے شفقت و نرمی سے پیش آتے تھے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ’’ ذبح کرنے سے قبل انہیں پانی دیا جائے، چُھریوں کو ان کے سامنے تیز نہ کیا جائے، جانور کو دیگر جانوروں کے سامنے ذبح نہ کیا جائے اور ذبیحہ کا عمل تیزی سے ہونا چاہیےکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔‘‘ تو ذرا سوچیں، جو مذہب اس قدر معمولی معمولی باتوں پر اس قدر فصاحت و بلاغت سے توجّہ مبذول کرواتا ہے، اُس کے پیروکاروں کے یہ جاہلانہ غیر اسلامی و غیر اخلاقی رویّے بحیثیتِ مجموعی کس قدر ندامت و شرمندگی کا باعث ہیں۔

’’ جانوروں کی اوجھڑیاں، فضلہ اور باقیات سڑکوں، گلی محلّوں میں پھینکنے اور قربانی کا خون بہانےسے متعلق اسلام کیا کہتا ہے؟‘‘ ہم نے سوال کیا، تو اپنے منفرد لب و لہجے کی بدولت نوجوان نسل میں انتہائی مقبول ، سوشل میڈیا پر کثیر فین فالوئنگ کے حامل اور جامعتہ الرّشید، کراچی کے استاد، مفتی طارق مسعود نے اپنی بات کا آغاز کچھ یوں کیا کہ ’’حضرت محمّدﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے کہ ’’راہ میں اگر کوئی تکلیف دہ چیز نظر آئے تو اُسے ہٹا دو۔ ‘‘نبی کریمﷺ ہمیشہ اس بات کا اہتمام فرماتے کہ آپؐ کی کسی بات یا کسی طرزِ عمل سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔ 

بڑی عید یا بڑے مسائل والی عید۔۔۔۔؟؟
مفتی طارق مسعود

حدیثِ نبویؐ ہے ’’ سچا مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں (بخاری)۔‘‘ایک اور حدیثِ مبارکہؐ ہے، ’’خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں، خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں، خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں۔ صحابۂ کرام ؓنے پوچھا’’یا رسول اللہ! کون؟ ‘‘ فرمایا ’’جس کی آفتوں سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔(بخاری)‘‘ دوسروں کو ایذا پہنچانے سے مراد صرف گالم گلوچ یا لڑائی جھگڑا کرنا ہی نہیں، ایسا طرزِ عمل بھی ہے،جس سے لوگوں کو پریشانی ہو۔

ہمارے ہاں لوگ قربانی کے لیے لاکھوں روپے کے جانور تو خرید لیتے ہیں، لیکن قربانی کے بعد ان جانوروں کا خون سڑکوں پر بہہ رہا ہوتا ہے، جا بجا آلائشوں کے ڈھیر نظر آتے ہیں اور پھر اس گندگی کی وجہ سے جو تعفّن اور بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، ان سے کون محفوظ ہے۔ تو کیا گندگی پھیلانے والوں کی اللہ کے ہاں پکڑ نہیں ہوگی، یقیناً ہوگی۔ ارے، صفائی تو ہمارانصف ایمان ہے، لیکن کیاہمیں اس کی کوئی پروا ہے۔ 

لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سنّتِ ابراہیمیؑ پر عمل ایک بہت بڑی سعادت ہےاور لوگ اسی میں بے احتیاطی کرتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ جو کام مذہب کے نام پر ہورہا ہے، اس میں تو ذرا سی بھی غفلت نہیں برتنی چاہیے کہ اس طرح تو سارا ثواب ضایع ہوجائے گا، مذہب کا نام الگ خراب ہوگا۔ ذرا سوچیں، جس طرح قربانی کے بعد جگہ جگہ گندگی پھیلتی ہے، تو غیر مُلکی یا دیگر مذاہب کے لوگ یہ دیکھ کر کیا سوچتے ہوں گے، کیا وہ اسلام کو غلط نہ جانتے ہوں گے۔ اب اُنہیں کیا پتا کہ بُرے تو ہمارے رویّے ہیں، ہمارا مذہب تو جانوروں تک کو ایذا پہنچانے سے منع کرتا ہے۔ اور ویسے بھی عید کا تو دن ہی صفائی سُتھرائی کا ہےکہ اس کے لیےغسل کرنے، نئے یا پاک صاف کپڑے پہننے، خوش بُو لگانے کی تلقین کی گئی ہے اور ہم اُسی دن غلاظت پھیلاتے ہیں۔ 

جہاں تک بات ہے قربانی کے خون کی ، تو بہتر تو یہی ہے کہ ایک گڑھا کھود کر قربانی کا خون اس میں بہادیا جائے، اس سے دو فائدے ہوں گے۔ ایک خون کی بد بو اور گندگی نہیں پھیلے گی۔ دوم، قربانی کے خون کی بے حُرمتی بھی نہیں ہوگی۔ویسے تو یہ حکومت کی ذمّے داری ہے کہ ہر علاقے میں قربانی کے لیے جگہ مختص کردے تاکہ شہر صاف رہے، لیکن عوام کو خود بھی خیال کرنا چاہیے۔ نیز، حکومت کو چاہیے کہ ہائی وے پرجو اتنی زمینیں ہیں، آلائشیں وہاں دفنائے کہ اس طرح شہر بھی صاف رہے گا اورآلائشوں کی وجہ سے زمین بھی زرخیز ہوجائے گی۔ یقین کریں اگر اس طرح کے وسائل انگریزوں کے پاس ہوتے، تو وہ پتا نہیں اب تک کیا کیا کر چُکے ہوتے، انہوں نے مزید کتنی زمینیں زرخیز کرلی ہوتی۔‘‘

’’عید الاضحی کے دِنوں میں مختلف انفیکشنز، بیماریاں پھیلنےکے خطرات میں کس حد تک اضافہ ہو جاتا ہے، نیز کورونائی ایّام میں کس قِسم کی احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے؟‘‘ ہمارے اس سوال کےجواب میں ماہرِ امراضِ ناک، کان حلق اور پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کے سیکرٹری جنرل، ڈاکٹر سیّد محمّد قیصر سجّاد کا کہنا تھا کہ ’’سب سے پہلے تو عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ Infectious Diseases متعدّی امراض یا چُھوت کی بیماریاں کیا ہوتی ہیں۔

بڑی عید یا بڑے مسائل والی عید۔۔۔۔؟؟
ڈاکٹر سیّد محمّد قیصر

ایسی ہر بیماری، جو چھینکنے، کھانسنے، ہاتھ لگانے سے بآسانی منتقل ہوجائے وہ متعدّی مرض کہلاتی ہے۔ جیسے، کوروناوائرس، عام نزلہ ،زکام، کھانسی یا چکن پاکس وغیرہ ۔ اب جہاں تک بات ہے عید الاضحی کے دِنوں میں بیماریاں پھیلنے کی، تو لوگوں کویہ شعور ہی نہیں کہ ان کی غفلت، کاہلی اور بے حِسی کی وجہ سے شہر میں کس قدر بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔کس قدرافسوس کی بات ہے کہ ہمارے عوام منہگا جانور خریدتے وقت تو کوئی کمپرو مائز نہیں کرتے، لیکن گلیوں، محلّوں کی صفائی کرواتے ہوئے جیبیں کھنگالنے لگتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں قربانی کے لیے لائے جانے والے جانوروں کو جس سج دھج سے پالتے ، اپنے گھروں ، دالانوں میں رکھتے ہیں، انہی کی آلائشیں ، گوبرکئی کئی روز تک سڑکوں پر پڑا رہتا ہے، جو صرف گندگی وغلاظت کا نہیں ہزاروں، لاکھوں بیماریوں کا بھی موجب بنتا ہے۔ 

کیا مہذّب اقوام کا یہی مزاج ہوتا ہے؟ یاد رکھیں، در حقیقت گندگی ہی بیماریوں کا گھر ہے۔ ہمارے ہاں تو اچھی لیبز یا Virologyکا شعبہ ہی کچھ زیادہ فعال، جدید سہولتوں سے آراستہ نہیں، ورنہ ان گندگی کے ڈھیروں سے نہ جانے کتنے نئے جراثیم دریافت ہوجاتے۔ اب تو ہم چیخ چیخ کر، التجائیں کر تے کرتے بھی تھک چُکے ہیں کہ حکومت یا متعلقہ ادارے عید الاضحی کے دنوں میں ایسی حکمتِ عملی ترتیب دیں کہ یہ آلائشیں ، اوجھڑیاں، سریاں وغیرہ جا بجا بکھری نظر نہ آئیں، لیکن ہماری آواز ،ہماری پکار کوئی نہیں سُنتا۔ 

دوسری جانب عوام کو بھی اتنی سمجھ ہونی چاہیے کہ سنّتِ ابراہیمیؑ پر عمل کرنا، کتنی بڑی سعادت ہے، تو صرف زندہ جانور کی خدمت کرنا، خیال رکھنا نہیں، جانوروں کی با قیات درست انداز میں ٹھکانے لگانا بھی ہم پر فرض ہے۔ ذرا سوچیں کہ سڑک پر پڑی ایک اوجھڑی، جب گاڑی کےٹائر سےپھٹتی ہے، تو کتنےپرندے وہ گندگی کھاتے ہیں اور پھر دیگر ٹائرز کے ساتھ جراثیم کی صورت بھی وہ جانے کہاں کہاں تک جاتی ہے۔

اس میں کسی اور کا نہیں، شہریوں ہی کا نقصان ہےکہ ہم اور آپ ہی بیمار ہوتے ہیں۔ایک تو ویسے ہی شہرِ قائد میں کچرا اُٹھانے ، ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام موجود نہیں ، پھر اب تو لوکل اسپتال، میٹرنٹی ہومز بھی اپنا کچرا، ڈومیسٹک کچرے میں ڈال رہے ہیں، تو ویسے ہی نِت نئی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں اور سونے پہ سہاگا ،عید کے دنوں میں جانوروں کی آلائشیں، اوجھڑیاں بھی اسی کچرے میں ڈال دی جاتی ہیں، تو ذرا سوچیں کہ یہ عمل کس قدر خطرناک اور جان لیوا بیماریوں کی وجہ بنتا ہوگا۔ علاوہ ازیں، مَیں اس پلیٹ فارم کے ذریعے عوام النّاس سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ خدارا! ایس او پیز کا خیال رکھیں۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے، دفاتر، تعلیمی ادارے اور بازار وغیرہ کُھلنے کا ہر گزیہ مطلب نہیں کہ کورونا ختم ہوگیا ہے۔ 

بلا شبہ، کچھ دن قبل پاکستان میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی شرح 1.7 فی صد رہ گئی تھی، لیکن 8 جولائی کو این سی او سی کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب یہ شرح 3.3 فی صد تک پہنچ گئی ہےاورواضح رہے، یہ شرح رجسٹرڈ کیسز کی ہےکہ ہمارے مُلک میں کووِڈکے ایسے بے شمار کیسز ہیں، جو رجسٹرڈ ہی نہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ کورونا وائرس کی چوتھی لہر ، سب سے خطرناک ہوگی کہ اس میں Delta Variant ہے۔ یہ کورونا کی وہی قِسم ہے، جو بھارت میں پائی گئی تھی اور پاکستان میں اس کے چھے، سات کیسز سامنے آچُکے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارت کا نظامِ صحت ہم سے کافی بہتر ہے، تو جب وہاں اس قدر تباہی ہوئی، تو خدانخواستہ مرض یہاں پھیل گیا، توہمارا کیا ہوگا…!! اس لیے عوام عید ضرور منائیں، مگر احتیاط کے ساتھ کہ اسی میں ہم سب کی عافیت ہے۔‘‘

’’عیدالاضحی کے دِنوں میں آلائشیں اُٹھانے سے متعلق کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟اور ویسٹ اُٹھانے کے حوالے سےاس سال کیا حکمتِ عملی ہے؟‘‘ ہمارے پوچھنے پر ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر آپریشن، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، طارق علی نظامانی نے بتایا کہ ’’سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ شہریوں کو صاف سُتھرے ماحول کی فراہمی اورگھر گھر سے کچرا اُٹھانے کی سہولت بہم پہنچانے کے لیےمتعدّد اقدامات کررہا ہے۔

بڑی عید یا بڑے مسائل والی عید۔۔۔۔؟؟
طارق علی نظامانی

خصوصاً عیدالاضحی کے دنوں میں غیر معمولی صفائی ستھرائی اورآلائشیں اُٹھانے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی جاتی ہے،لیکن اس کے باوجود ہمیں کچھ چیلینجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں شہریوں کا جگہ جگہ آلائشیں پھینک دینایا آلائشیں کوڑے دانوں میں ڈال دینا، شہر میں غلاظت اور بدبو پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ ہم ہر سال عیدالاضحی کے موقعے پر آلائشیں جمع کرنے کے لیے ہر یوسی میں پوائنٹ مختص کرتے ہیں اور اس حوالے سے مختلف پروگرامز کے ذریعے عوام کو آگہی بھی فراہم کی جاتی ہے، مگر افسوس کہ اس کے با وجود شہری جگہ جگہ آلائشیں ڈال دیتے ہیں، جس سے ماحول کی خرابی اور بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ 

لہٰذا مَیں اس فورم کے توسّط سے ایک بار پھر شہریوں سے التماس کرتا ہوں کہ خدارا! آلائشیں سالڈ ویسٹ کے قائم کردہ کلیکشن پوائٹس ہی پر محفوظ طریقے سے رکھیں۔ جہاں تک بات ہے اس سال کی حکمتِ عملی کی، تو ہر سال کی طرح ، اس مرتبہ بھی مربوط حکمت ِعملی تیار کی گئی ہے ۔ہر یوسی میں کلیکشن پوائنٹس بنائے جارہے ہیں، جہاں آلائشیں جمع کرکے ٹرینچز میں محفوظ طریقے سے دفن کی جائیں گی۔ علاوہ ازیں، اضافی گاڑیاں اور عملہ تعیّنات کیا جارہا ہے۔ گاہے گاہےتمام پوائنٹس پر چونے کا چھڑکاؤ کیا جائے گا اور شہریوں کی سہولت کے لیے تمام شکایتی مراکز بھی فعال ہوں گے۔‘‘

اوجھڑی مافیا…

عوام النّاس کو علم ہونا چاہیے کہ ان کی غفلت اوربلدیاتی اداروں کی نا اہلی کی وجہ سے عید الاضحی کے دنوں میں ’’اوجھڑی مافیا ‘‘سرگرم ہو جاتی ہے۔ سڑکوں سے اوجھڑیاں اُٹھانے والے گداگر یا جُھگیوں میں رہنے والے افراد ہزاروں جانوروں کی اوجھڑیاں، انتڑیوں سمیت جمع کرکے ندی نالوں میں دھوتے اور نمک لگا کر محفوظ کرلیتے ہیں۔ 

بعد ازاں، ٹھیلوں، بی گریڈ ہوٹلوں، پتھارے والوں اور غیر معیاری فوڈ کمپنیز کو فروخت کر دیتے ہیں۔ جن سے وہ کمپنیز گھی، تیل وغیرہ بناتی ہیں۔ واضح رہے، یہ گھی، تیل انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہوتا ہے، جس کا استعمال کئی جان لیوا بیماریوں کا موجب بن سکتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید