• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر رحمۃ اللہ علیہ (گزشتہ سے پیوستہ)

مفتی خالد محمود

محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے وصال کے بعد جامعہ کا نظم و نسق حضرت مفتی احمد الرحمٰن ؒنے سنبھالا ،کیوں کہ حضرت نے اپنی زندگی میں ہی آپ کو اپنی نیابت کے لیے منتخب کر لیا تھا، اس وقت ایک سہ رکنی کمیٹی بھی بنائی گئی تھی جس کے سربراہ مفتی احمد الرحمٰن تھے اور مولانا حبیب اللہ مختار شہید رحمۃ اللہ اس کے ممبر تھے۔ اس لیے مفتی احمد الرحمنؒ کے انتقال کے بعد جامعہ کے اہتمام کے لیے حضرت مولانا حبیب اللہ مختار ؒکو منتخب کیا گیا، ان دونوں حضرات نے جامعہ کو حضرت بنوری کے انداز میں آگے بڑھایا۔ حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد تمام حضرات متفکر اور پریشان تھے کہ اس بار امانت کو اب کون اٹھائے گا تو سب کی نظریں حضرت ڈاکٹر صاحب پر مرکوز ہوگئیں کہ آپ ہی اس امانت کی حفاظت کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہیں۔ 

اس وقت ڈاکٹر صاحب پاکستان میں موجود نہیں تھے، بلکہ سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے تھائی لینڈگئے ہوئے تھے ۔ مرکز اور شاخوں کے تمام اساتذہ اور احبابِ شوریٰ نے متفقہ طور پر آپ کا نام اہتمام کے لیے پیش کیا، بلکہ آپ کی غیر موجودگی میں اس کی منظوری دے دی۔ آپ سفر مختصر کر کے جلد واپس ہوئے، آپ کو جب پتا چلا تو آپ نے صاف انکار کردیا کہ میں اتنی بڑی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا کسی اور کو یہ منصب دیا جائے ،میں ایک خادم کی حیثیت سے ہر طرح کا تعاون کروں گا۔ دیر تک اجلاس میں روتے رہے اور منع کرتے رہے ، یہ صورت حال دیکھ کر مفتی نظام الدین صاحبؒ نے کہا اگر آ پ یہ منصب نہیں سنبھالتے تو پھر ہم بھی یہاں نہیں رہیں گے ،ہم بھی اپنا بوریا بستر اٹھاتے ہیں اور کہیں اور چلے جاتے ہیں،اس پر حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ نے یہ ذمہ داری اس شرط پر قبول کی کہ تمام حضرات میرے لیے دعا بھی کریں گے اور میرے ساتھ تعاون بھی کریں گے۔ 

اس طرح حضرت ڈاکٹرصاحب اپنے شیخ کی اس امانت کو سینے سے لگائے اس کی حفاظت اور اس کے انتظام میں مشغول ہوگئے اور اپنی تمام تر توانائیاں اس کے لیے صرف کردیں۔ جامعہ ہی ان کی تمام محنتوں ، امنگوں اور خواہشات کا مرکز و ماویٰ رہا۔ جامعہ ان کے نزدیک ہر چیز پر فوقیت رکھتا تھا۔ جامعہ نے حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کی سربراہی میں خوب ترقی کی، حالاں کہ اس دوران جامعہ کو بے شمار مصائب جھیلنے پڑے اور متعدد حادثات کا سامنا کرنا پڑا، یہ جامعہ کا ہی جگرا تھاکہ ان تمام مصائب کو برداشت کرگیا اور اپنی پوری آن و شان کے ساتھ قائم و دائم رہا، اگر کوئی اور ادارہ ہوتا تو نہ جانے اس کا کیا حال ہوتا۔ اس کے پیچھے ان اکابر کی محنتیں ، ان کی فکر مندی اور ان کی آہ سحر گاہی کار فرما تھی۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت:

ختم نبوت کا عقیدہ دین کی اساس اور بنیاد ہے، اس لیے روز اوّل سے امت مسلمہ نے اس عقیدے کا تحفظ کیا ہے ، بلکہ اس کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں ، جب بھی کسی سارقِ نبوت نے ختم نبوت میں نقب زنی کی کوشش کی، امت مسلمہ نے اس کا تعاقب کیا اور اسے سرطان کی طرح جسد ملت سے کاٹ کر علیحدہ کردیا۔ جب قادیانی فتنہ اٹھا تو علماء نے اس کا بھی تعاقب کیا ، خاص طور پر امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے اس فتنے کے خاتمے کے لیے قائدانہ کردار ادا کیا۔

یہی جذبہ حضرت بنوری رحمہ اللہ کی طرف منتقل ہوا اور آپ نے بھی اپنے شیخ و استاد کی طرح اس فتنے کا بھر پور مقابلہ کیا، آپ کی محنتیں اور کوششیں رنگ لائیں ، آپ کی قیادت میں زور دار تحریک چلی جس کے نتیجے میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا تو حضرت بنوری رحمہ اللہ کا تربیت یافتہ سپاہی اس محاذ سے کیوں کر پیچھے رہ سکتا تھا، حضرت ڈاکٹر صاحب بھی ہمیشہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کوشاں رہے۔ 1974ء کی تحریک کے دوران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ’’امت اسلامیہ کا موقف‘‘ نامی کتاب اسمبلی میں پیش کی گئی ،جسے مفتی محمود صاحب نے اسمبلی میں پڑھ کر سنایا۔ 

اس وقت ڈاکٹر صاحب مصر میں تھے ۔ چھٹیوں پر کراچی آئے تو حضرت کے حکم پر اس کتاب کا عربی میں ترجمہ کیا، ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت کی برکت سے چند دنوں میں اللہ نے اس کا ترجمہ بھی کرادیا اور وہ طبع ہو کر منظر عام پر آگئی۔ آپ نے حضرت بنوریؒ رحمہ اللہ کے ساتھ کئی ممالک کا دورہ کیا اور سیکڑوں نسخے اس کے اپنے ساتھ لے کر گئے ۔ وہاں علماء میں یہ کتاب تقسیم کی اور اس طرح ان ممالک کے علماء خصوصاً وہ ممالک جہاں قادیانیوں نے اپنے مراکز قائم کر رکھے تھے، و ہاں کے علماء کو اس فتنے سے آگاہ کیا۔

حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوری کے ممبر رہے، حضرت سید نفیس شاہ الحسینی ؒکی وفات کے بعد خواجۂ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒنے آپ کو عالمی مجلس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا نائب امیر بنایا اور یہ بھی فرمایا کہ ختم نبوت کی امانت جس گھر سے لی تھی، اسی گھر میں لوٹا دی۔

حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ کے انتقال کے بعد متفقہ طور پر باصرار آپ کو امیر منتخب کیا گیا جس کے لیے ڈاکٹر صاحب بالکل راضی نہیں تھے کہ میں بیمار ہوں، سفر نہیں کرسکتا ،میں یہ ذمہ داری نہیں سنبھال سکتا ، مگر صاحب زادہ عزیز احمد نے جب یہ کہا کہ حضرت نے فرمایا تھا کہ میں نے جہاں سے یہ امانت لی تھی، انہی کے حوالے کردی تو حضرت یہ امانت آپ کے سپرد کرکے گئے ہیں، ڈاکٹر صاحب رو پڑے اور اسے اللہ کی طرف سے فیصلہ سمجھتے ہوئے اپنے شیخ اور استاد کی امانت کو سینے سے لگا لیا مگر ساتھ میں ایک ایک ممبر سے کہا کہ آپ میری دعاؤں کے ذریعہ مدد کرتے رہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے ’’موقف الأمۃ الاسلامیۃ‘‘ کے علاوہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے تالیف کردہ کئی رسائل کا بھی عربی میں ترجمہ کیا۔ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہر سال انگلینڈ کا سفر کرتے اور ایک ایک مسجد میں جاکر مسلمانوں کو ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرتے تھے اور برمنگھم کی سالانہ کانفرنس میں شرکت فرماتے تھے۔

سری لنکا میں قادیانیوں نے پر پُرزے نکالنے شروع کیے تو وہاں کے علماء کی دعوت پر آپ کی سربراہی میں ایک وفد سری لنکا پہنچا ، ایک ہفتہ آپ نے وہاں قیام کیا اور مختلف شہروں میں آپ کے بیانات ہوئے اور وہاں کے علماء ، عوام الناس کو اس فتنہ سے آگاہ کیا۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان:

وفاق المدارس کے قیام سے آج تک وفاق کے بنانے،اسے پروان چڑھانے میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا جو کردار اور حصہ ہے، اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ اوّل دن سے وفاق سے وابستہ رہے، اور بالآخر وفاق کے صدر بھی منتخب کیے گئے۔

مولانا ادریس میرٹھیؒ نے باقاعدہ پورا امتحانی نظم مرتب کیا ، آپ اس کے ناظم ، ناظم اعلیٰ اور صدر کے عہدوں پر فائز رہے، مفتی احمد الرحمٰنؒ ،مولانا حبیب اللہ مختار شہید ؒ وفاق کے ناظم اعلیٰ رہے ، مولانا حبیب اللہ مختارؒ کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحب مجلس عاملہ کے رکن اور وفاق کے نائب صدر رہے، مولانا سلیم اللہ خانؒ کے بعد آپ کو وفاق کا صدر منتخب کیا گیا ۔ آپ کی وفات سے چند دن قبل آپ کو دوبارہ پانچ سال کی مدت کے لیے صدر منتخب کیا گیا۔ حالاں کہ آپ نے ایک خط کے ذریعے آئندہ صدارت کے عہدے کے لیے معذرت کی تھی ،مگر اللہ کو بھی منظور نہیں تھا کہ آپ کے ہوتے ہوئے کسی اور کو صدر منتخب کیا جائے۔

اقرأ روضۃ الاطفال:

دیگر اکابر و مشائخ کی طرح حضرت ڈاکٹر صاحب کی بھی دعائیں، سرپرستی اور خصوصی توجہ ’’اقرأروضۃ الاطفال ‘‘کو ہمیشہ حاصل رہیں۔ حضرت ڈاکٹر صاحبؒ اس ادارے کو اپنا ادارہ سمجھتے اور ادارے کی رہنمائی و سرپرستی فرماتے، ’’اقرأ‘‘ کے پروگراموں میں تشریف لاتے۔ ’’اقرأ‘‘ کی انتظامیہ نے اقرأ کے آغاز میں ہی چونکہ یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس کا صدر کسی بزرگ کو ہی بنایا جائے گا، اس لیے مفتی ولی حسن ٹونکی، مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، سید نفیس الحسینی ؒاس کے صدر رہے۔ 

سید نفیس شاہ صاحب ؒ کے بعد حضرت خواجہ خان محمد ؒ اور ڈاکٹر عبدالرزاق صاحبؒ کوباقاعدہ سرپرست اور مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمہ اللہ کو ’’اقرأ‘‘ کا صدر بنایا گیا ۔ مولانا عبدالمجید لدھیانوی ؒکے بعد اب حضرت ڈاکٹر صاحب ’’اقرأ‘‘ کے صدرتھے، ’’اقرأ‘‘ ان کی صدارت میں ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے مدارس اور دینی تنظیموں کی سرپرستی فرماتے رہے ، خیر المدارس سمیت کئی مدارس کی شوریٰ کے ممبر بھی رہے۔

علماء اور دینی تنظیموں کے ذمہ داران کے یہاں عقیدت و احترام سے دیکھے جاتے تھے۔ ان سب کا اعتماد آپ کو حاصل تھا جس کی واضح مثال جب مجلس علماء قائم کی گئی جس میں علمائے حق کے تمام ذمہ داران شامل تھے، ان سب کی نگاہ انتخاب حضرت ڈاکٹر صاحب کی ہی طرف اٹھی ،کیوں کہ آپ غیر متنازع شخصیت تھے اور سب کو آپ پر اعتماد تھا۔

حضرت ڈاکٹر صاحب نے ظاہری علوم کے ساتھ باطنی اورروحانی تربیت کی طرف بھی توجہ دی۔ جس میں سب سے زیادہ حصہ تو حضرت بنوریؒ کی تربیت کا تھا، اس کے علاوہ آپ نے ایک شام کے عالم بزرگ سے بیعت کی ان کی طرف سے آپ کو اجازت و خلافت بھی حاصل تھی ۔ اسی طرح حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے آپ کو اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔

تصانیف:

۱-آپ کی مشہور تصنیف ’’الطریقۃالعصریۃ فی تعلیم اللغۃ العربیۃ‘‘ ہے جو آپ نے سالہا سال کے تدریسی تجربہ کے بعد ان طلبا کے لیے لکھی ہے جن کی مادری زبان عربی نہیں ہے ۔ یہ کتاب بہت مقبول ہوئی۔وفاق المدارس نے اسے باقاعدہ اپنے نصاب کاحصہ بنایا ،اس کے علاوہ پاکستان سے باہر بھی بہت سے ممالک کے دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے، اب اس کا انگلش ایڈیشن بھی شائع ہوچکا ہے ۔

۲-’’کیف تعلم اللغۃ العربیۃ لغیر الناطقین بھا‘‘ ۔ عربی پڑھانے والے اساتذہ کے لیے یہ کتاب مرتب کی ،تاکہ انہیں عربی پڑھانے کا طریقہ آئے۔

۳- ’’القاموس الصغیر‘‘ یہ عربی ، اردو اور انگلش ڈکشنری پر مشتمل کتاب ہے۔

۴-’’موقف الأمۃ الاسلامیہ من القادیانیۃ‘‘ امت مسلمہ کا موقف قادیانیوں کے بارے میں کاعربی ترجمہ ہے ۔

۵-’’تدوین الحدیث‘‘مولانا مناظر احسن گیلانی کی عالمانہ کتاب ’’تدوین حدیث ‘‘ کا عربی ترجمہ ہے۔

۶- ’’اختلاف الأمۃ والصراط المستقیم‘‘ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی معرکۃ الآراء کتاب ’’اختلاف ِ امت اور صراط مستقیم‘‘ کا عربی ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ مکمل ہوچکاہے ، مگر زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوا۔

۷-’’جماعۃ التبلیغ و منھجھا فی الدعوۃ‘‘ تبلیغی جماعت کے بارے میں قیمتی رسالہ ہے ۔

۸-’’ ھل الذکریہ مسلمون‘‘مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے کتابچہ ’’کیا ذکری مسلمان ہیں؟‘‘ کا عربی ترجمہ ہے۔

۹-نوبل انعام یافتہ مولانا یوسف لدھیانویؒ کے کتابچہ کا عربی ترجمہ ہے۔

۱۰- ’’الاسلام و اعداد الشباب‘‘ایک مستقل مقالہ ہے ۔

۱۱- تبلیغی جماعت اور اس کا طریقۂ کار: اردو میں تبلیغی جماعت کے بارے میں رسالہ۔

۱۲-اسلامی آداب ،نور الدین عتر صاحب کی کتاب کا اردو ترجمہ۔

۱۳-محبت رسولؐ۔ نور الدین عترصاحب کی کتاب ’’حب الرسول‘‘ کا اردو ترجمہ۔ان کے علاوہ بہت سے مقالات مختلف کانفرنسوں کے لیے تحریر فرمائے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل:

پاکستان کے معروف روزنامہ جنگ کا مقبول عام سلسلہ ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ ہے جس میں لوگوں کے سوالات کے شرعی جوابات دئیے جاتے ہیں اور انہیں دینی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے ۔ اس صفحے کا آغاز ۵؍مئی ۱۹۷۸ ء کو ہوا تھا۔ سب سے پہلے اس کالم کو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے زینت بخشی، آپ کی شہادت کے بعد بالترتیب مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ اور مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدؒ جوابات دیتے رہے۔ ان کے بعد یہ ذمے داری مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر رحمتہ اللہ کے سپرد ہوئی اور آخر دم تک آپ نے یہ ذمہ داری احسن انداز میں پوری کی اور مسلمانوں کو دینی رہنمائی فراہم کی۔ یہ بھی آپ کی حسنات میں شامل اور آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔

اولاد:

حضور اکرم ﷺ کے ارشاد کے مطابق نیک اولاد اور علم نافع صدقات جاریہ میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ڈاکٹر صاحب کو ہزاروں شاگرد عطا فرمائے جو آپ کے علم کو پھیلانے میںشب و روز مصروف ہیں اور لاکھوں لوگوں نے آپ کی تقریر و تحریر سے نفع حاصل کیا، اپنی زندگیاں سنواریں۔ یہ سب آپ کی حسنات میں شامل ہے اور آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ان ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں عقیدت مندوں کے ساتھ آپ نے اپنے پیچھے نیک اولاد چھوڑی۔ 

آپ کے دو صاحبزادے ہیں۔ بڑے صاحب زادے مولانا ڈاکٹر سعید اسکندر جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون کے فاضل ہیں، مدینہ یونیورسٹی میں بھی زیر تعلیم رہے، کراچی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور جامعہ کے خارجی امور کے نگران بھی ہیں۔ دوسرے صاحبزادے مولانا مفتی محمد یوسف عالم دین ہیں، مفتی ہیں، آپ بھی جامعہ کے فاضل ہیں ، ساؤتھ افریقہ اور جامعہ بنوری ٹاؤن سے مفتی کا کورس کیا ہے ، فقہ الحلال و الحرام میں اچھی مہارت رکھتے ہیں، تین صاحبزادیاں ہیں۔ جن میں سے ایک باقاعدہ عالمہ ہیں، باقی بنیادی دینی تعلیم ہر ایک نے حاصل کی ہے۔

وصال اور تدفین:

حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کی طبیعت میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا تھا، لیکن ایسے بیمار نہیں تھے کہ بستر سے لگ گئے ہوں ۔ کورونا کے دوران احتیاطاً آپ لوگوں سے ملنے جلنے سے احتراز کرتے تھے۔ اسی لیے دفتر اور دیگر مجالس میں تشریف نہیں لاتے ، لیکن جب سے اسباق شروع ہوئے تھے دفتر بھی تشریف لاتے، سبق بھی پڑھاتے ۔ 16؍ جون 2021ء بروز بدھ کو بھی دفتر تشریف لائے۔ اس دن کچھ بخار اور کھانسی کی شکایت ہوئی ۔ 17؍جون کو ٹیسٹ کروائے تو کرونا کا ٹیسٹ مثبت آیا، ہسپتال میں داخل کیا گیا، جسے جہاں پتاچلا، وہ دعائوں میں مشغول ہوگیا، ڈاکٹروں نے اپنے طور پر سر توڑ کوشش کی اور ہر تدبیر اختیار کی۔ مگر کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی اور جب وقت موعود آجائے تو پھر نہ ایک لمحہ کی تاخیر ہوسکتی ہے نہ تقدیم۔ 

حضرت ڈاکٹر صاحب 30؍جون 2021ء کو سب کو یتیم کرکے ہزاروں لوگوں کو بے آسرا چھوڑ کر اس دنیائے فانی سے منہ موڑ کر اپنے خالق حقیقی کے حضور جا پہنچے اور اس طرح مسلسل جدو جہد کرنے والے اس مردِ مجاہد، قوم کے درد میں تڑپنے والے اس درد مند انسان کو اس دنیا کی جھمیلوں سے نجات مل گئی اور اس تھکے ہارے مسافر کو راحت و سکون نصیب ہوگیا اور وہ اپنے شیخ کے پہلو میں جاسوئے اور جو شخص زندگی بھر حضرت بنوریؒ کے نقش قدم پر چلتا رہا، جس نے حضرت شیخ کے مشن کو زندہ رکھا، جس نے حضرت شیخ کی امانت کو سینے سے لگائے رکھا جس نے اپنے شیخ کی یادوں کو سینے میں بسائے رکھا، جو زندگی بھر اپنے شیخ کے نقش پا سے راستہ ڈھونڈتا ور رہنمائی حاصل کرتا رہا ،بالآخر مرنے کے بعد بھی اسے اپنے شیخ کے برابر میں جگہ ملی، اور وہ اپنے شیخ کے پہلو میں جا سوئے اور یوں حضرت بنوری ؒ کے تربیت یافتہ حضرت کے اور ان کے جامعہ کے ان تینوں خادموں حضرت مفتی احمد الرحمنؒ، حضرت مولانا حبیب اللہ مختارؒ، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر رحمہم اللہ کو ان کے مربی حضرت بنوری رحمہ اللہ نے اپنے زیر سایہ اس طرح لیا ہوا ہے، جیسے ایک شفیق ماں اپنے بچوں کو سینے سے لگاکر ان کو ہر آفت سے محفوظ کرلیتی ہے۔حضرت ڈاکٹر صاحب کے جنازے میں بلا مبالغہ لاکھوں افراد شریک ہوئے ۔ ان لاکھوں عقیدت مندوں، شاگردوں، علمائے کرام اور عوام الناس نے اپنی دعائوں، آہوں اور سسکیوں کے ساتھ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کو رخصت کیا۔