• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غنی حکومت سے زیادہ بہتر افغانستان کو چلاسکتے ہیں، طالبان

کابل،ریاض( اے ایف پی، جنگ نیوز، مانیٹرنگ نیوز)طالبان کاکہناہےکہ افغانستان موجودہ حکومت سے زیادہ بہتر چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،جن علاقوں پر ہماری حکومت بن گئی وہاں کرپشن کے بغیر تجارتی سامان کی ترسیل جاری ، لوگ خوش ہیں۔

افغان حکومتی وفد طالبان سے مذاکرات کیلئے دوحہ روانہ ہوگیا،دوسری جانب چمن بارڈر پر طالبان اور افغان حکومت میں شدید لڑائی جاری ہے، طالبان نے کابل سمیت افغانستان کے بڑے شہروں کی پیڑول سپلائی بند کرکےافغان حکومت کو لڑنے یا سرنڈر کرنیکا اختیاردیدیا۔

عرب میڈیا کو ایک انٹرویو میں ترجمان طالبان سہیل شاہین نےکہاہےکہ افغانستان میں سیاسی سمیت کسی بھی نظام حکومت کو کابل حکومت کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں، یہ ہمارا ملک ہے اور ہم نے یہاں طویل عرصے حکومت بھی کی ہے اور اب بھی ہمارے پاس حکومت چلانے والے اہل اور تجربہ کار لوگ موجود ہیں۔

اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ مستقبل میں افغانستان کے سیاسی سیٹ اپ سمیت کسی بھی نظام حکومت کو موجودہ حکومت سے زیادہ بہتر طریقے سے چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔جنگ بندی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں سہیل شاہین نے کہا کہ پہلے ہمیں سیاسی روڈ میپ کے حل تک پہنچنا ہوگا جس پر سب اتفاق کریں اس کے بعد ہی سیز فائر پر غور کیا جا سکتا ہے۔

افغانستان میں کئی سرحدوں اور کاروباری راہداریوں کا کنٹرول حاسل کرنے کے بعد کی صورت حال پر طالبان ترجمان نے کہا کہ جن علاقوں اور سرحدوں پر اسلامی امارات کی حکومت قائم ہوچکی ہیں وہاں لوگوں اور اشیاء کی آمد و رفت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ اب بغیر کرپشن اور آسانی سے تجارتی سامان کی ترسیل جاری رکھ سکیں گے، طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں لوگ بہت خوش ہیں اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ 

ترجمان طالبان نے اقوام متحدہ، دیگر عالمی اداروں اور ممالک سے مالی مدد کی اپیل کی ہے،انہوں نےکہاکہ امریکا سے امن معاہدے میں ہم نے افغانستان کی سرزمین کو امریکا اور اس کے اتحادیوں سمیت دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دینے کا عہد کیا تھا اور اس حوالے سے القاعدہ کو بھی پیغام بھیج دیا ہے۔سہیل شاہین نے ایک بار پھر اس دعوے کی تصدیق کی کہ طالبان نے 85 فیصد علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور تقریباً روز ہی افغان اہلکار سرنڈرز کر رہے ہیں۔

ادھر غیرملکی خبررساںادارے کےمطابق افغان فورسز نے پاکستان کے ساتھ ایک اہم سرحدی گزرگاہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کیلئے طالبان کے خلاف کارروائی کی جیسا کہ شمال میں جنگجوؤں نے اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے اور اسپن بولدک میں لڑائی افغانستان بھر میں ہفتوں شدید تصادم کے بعد ہوئی ہے۔

طالبان تیز حملوں کا سلسلہ شروع کرنے کیلئے امریکی فوجیوں کے انخلا کے آخری مراحل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور تیزی سے اضلاع پر قبضہ کر رہے ہیں، اس گروہ نے شمال اور مغرب میں دیگر اہم سرحدی گزرگاہوں کو بھی حاصل کرلیا ہے۔ پاکستان کے سرحدی محاذ پر ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ جمعہ کی سہ پہرشدید لڑائی کی آواز سنی گئی اور طالبان کے سفید جھنڈے سرحدی گزرگاہوں پر لہراتے رہے۔ 

اے ایف پی نمائندے نے دعویٰ کیا ہےکہ رات بھر شدید جھڑپوں کے بعد درجنوں زخمی طالبان جنگجوؤں کو سرحد پار لایا گیا اور ان کا پاکستان کے ایک اسپتال میں علاج ہورہا ہے۔اسپن بولدک کے لئے لڑائی کا آغاز اس وقت ہوا جب طالبان شمال میں طویل عرصے سے دشمن عبدالرشید دوستم کے مضبوط گڑھ کے قریب پہنچے۔ 

طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ فوجی کمانڈر کی ملیشیا شبر غان فرار ہوگئی ہے جو جوزجان صوبے کا دارالحکومت ہے،ہم نے اس شہر کےمرکزی داخلےپر قبضہ کرلیا ہے، دوسری جانب جوزجان کے ڈپٹی گورنر نے تصدیق کی کہ طالبان صوبائی دارالحکومت کے دروازوں پر پہنچ چکے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ سرکاری فوجیں انہیں پیچھے دھکیل رہی ہیں۔ 

ادھر افغان حکومت کا 10 رکنی وفد طالبان سے مذاکرات کے لیے دوحہ روانہ ہوگیا، کابل ایئرپورٹ پر سابق صدر حامد کرزئی نے وفد کو رخصت کیا، وفد میں عبد اللہ عبد اللہ، محمد کریم خلیلی، عطا نور محمد، معصوم استانکزئی شامل ہیں۔ادھر افغان صوبے کاپیسا کے ڈپٹی گورنر طالبان کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے۔

کابل ایئرپورٹ پر وفد کو رخصت کرتے ہوئے سابق صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ وفد کو طالبان سے مذاکرات کے لیے فیصلہ کن اختیارات دیے گئے ہیں،افغان میڈیا کے مطابق طالبان نے کاپیسا کے دو اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے،قندھار میں بھی اسپن بولدک اور دیگر علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے افغان فورسز ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔

علاوہ ازیں طالبان نے افغانستان کے بڑے شہروں کی پیڑول سپلائی بند کردی ،کابل کی سپلائی بند کرنے کے بعد افغان حکومت کو لڑنے یا سرنڈر کرنے کا اختیار دے دیا،اطلاعات ہیں کہ طالبان نے افغان حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں پٹرول سپلائی کیلئے جانیوالے ٹینکرز کو اپنےزیر قبضہ علاقوں میں خالی کروالیا، ٹینکرڈرائیورز سے کہاگیاہےکہ وہ سارا پٹرول میدان میں بہا دیں۔

تازہ ترین